عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أُمِّهِ لَيْلَى ، قَالَتْ : كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَيْنَا فِي إِسْلَامِنَا ، فَلَمَّا تَهَيَّأْنَا لِلْخُرُوجِ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَأَتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا عَلَى بَعِيرِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَوَجَّهَ ، فَقَالَ : أَيْنَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ ؟ فَقُلْتُ : آذَيْتُمُونَا فِي دِينِنَا ، فَنَذْهَبُ فِي أَرْضِ اللَّهِ لَا نُؤْذَى فِي عِبَادَةِ اللَّهِ ، فَقَالَ : صَحِبَكُمُ اللَّهُ . ثُمَّ ذَهَبَ فَجَاءَ زَوْجِي عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ مِنْ رِقَّةِ عُمَرَ ، فَقَالَ : تَرْجِينَ أَنْ يُسْلِمَ ؟ ! فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا يُسْلِمُ حَتَّى يُسْلِمَ حِمَارُ الْخَطَّابِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ ; فَهُوَ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ ، اپنی والدہ سیدہ ام لیلی رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہمارے اسلام قبول کرنے کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے سب سے زیادہ سخت مخالف تھے جب ہم نے حبشہ کی سرزمین کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ( جو اس وقت غیر مسلم تھے ) میں اپنے اونٹ پر سوار تھی اور میرا سفر پر روانہ ہونے کا ارادہ تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا : اے ام عبداللہ تم کہاں جا رہی ہو ؟ میں نے جواب دیا : آپ لوگ ہمارے دین کے حوالے سے ہمیں اذیت پہنچاتے ہیں ، تو ہم اللہ کی زمین پر جانے لگے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حوالے سے ہمیں اذیت نہ پہنچائی جائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ رہے پھر وہ چلے گئے بعد میں میرے شوہر عامر بن ربیعہ آئے میں نے انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نرم دلی کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا: کیا تم یہ توقع رکھتی ہو کہ وہ مسلمان ہو جائے گا میں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو گا جب تک ( اس کے والد ) خطاب کا گدھا مسلمان نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے اور یہ روایت صحیح ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے اور یہ روایت صحیح ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى النَّجَاشِيِّ ، وَنَحْنُ نَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَجَعْفَرٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْفُطَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، فَأَتَوُا النَّجَاشِيَّ ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ ، فَلَمَّا دَخَلَا عَلَى النَّجَاشِيِّ سَجَدَا لَهُ ، ثُمَّ ابْتَدَرَاهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ قَالَا : إِنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عَمِّنَا نَزَلُوا أَرْضَكَ ، وَرَغِبُوا عَنَّا وَعَنْ مِلَّتِنَا قَالَ : فَأَيْنَ هُمْ ؟ قَالَا : هُمْ فِي أَرْضِكَ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ ، قَالَ جَعْفَرٌ : أَنَا خَطِيبُكُمُ الْيَوْمَ فَاتَّبَعُوهُ ، فَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْجُدْ ، فَقَالُوا لَهُ : مَا لَكَ لَا تَسْجُدُ لِلْمَلِكِ ؟ قَالَ : إِنَّا لَا نَسْجُدُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْجُدَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ . ¤ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : فَإِنَّهُمْ يُخَالِفُونَكَ فِي عِيسَى قَالَ : مَا يَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ وَأُمِّهِ ؟ قَالَ : يَقُولُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : هُوَ كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِلَى الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ ، الَّتِي لَمْ يَمَسَّهَا ، وَلَمْ يَفْتَرِضْهَا وَلَدٌ . قَالَ : فَرَفَعَ عُودًا مِنَ الْأَرْضِ ، وَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْحَبَشَةِ الْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ ، وَاللَّهِ مَا يَزِيدُونَ عَلَى الَّذِي نَقُولُ فِيهِ مَا سِوَى هَذَا ، مَرْحَبًا بِكُمْ ، وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَّهُ الَّذِي نَجِدْهُ فِي الْإِنْجِيلِ ، وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ ، انْزِلُوا حَيْثُ شِئْتُمْ ، فَوَاللَّهِ لَوْ مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَحْمِلُ نَعْلَيْهِ وَأُوَضِّئُهُ . وَأَمَرَ بِهَدِيَّةِ الْآخَرِينَ فَرُدَّتْ عَلَيْهِمَا . ¤ ثُمَّ تَعَجَّلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى أَدْرَكَ بَدْرًا ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَغْفَرَ لَهُ حِينَ بَلَغَهُ مَوْتُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَقَالَ : فِي بَعْضِ حَدِيثِهِ ضَعْفٌ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں نجاشی کی طرف بھیجا ہم تقریبا اسی افراد تھے ان میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن عرفطہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ تھے یہ لوگ نجاشی کے پاس آئے قریش نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو تحائف کے ہمراہ بھیجا جب یہ دونوں لوگ نجاشی کے پاس آئے تو انہوں نے نجاشی کو سجدہ کیا پھر تیزی سے آ کے اس کے دائیں اور بائیں طرف آ گئے پھر ان دونوں نے کہا: ہمارے چچا زاد لوگوں میں سے کچھ لوگ ہیں ، جو آپ کی سرزمین پر آ کر ٹھہرے ہیں وہ ہم سے منہ موڑ چکے ہیں ہمارے دین سے منہ موڑ چکے ہیں نجاشی نے دریافت کیا : وہ کہاں ہیں ؟ ان دونوں نے کہا: وہ آپ کی سرزمین پر رہتے ہیں آپ انہیں پیغام بھیجیں نجاشی نے ان لوگوں کو پیغام بھیجا تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے ساتھیوں سے ) کہا: آج میں تمہارا خطیب ہوؤں گا پھر وہ لوگ نجاشی کے پاس گئے انہوں نے سلام کیا لیکن سجدہ نہیں کیا درباریوں نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے بادشاہ کو سجدہ کیوں نہیں کیا انہوں نے جواب دیا : ہم صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں نجاشی نے دریافت کیا : کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف اپنے رسول کو مبعوث کیا ہے اور اس نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کو سجدہ نہ کریں اس نے ہمیں نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم دیا ہے عمرو بن العاص نے کہا: سیدنا عیسیٰ کے بارے میں یہ لوگ آپ سے مختلف عقیدہ رکھتے ہیں نجاشی نے کہا: سیدنا عیسیٰ بن مریم اور ان کی والدہ کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں : سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے بتایا : وہ یہ کہتے ہیں : جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور اس کی روح تھے جسے اللہ تعالیٰ نے کنواری پاک مریم کی طرف القاء کیا تھا ، جس خاتون کو کسی مرد نے چھوا نہیں تھا ، اور نہ ہی بچے کی پیدائش ( کسی بشر کے فعل کے نتیجے میں ہوئی تھی ) راوی کہتے ہیں : تو نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: اے حبشہ کے عبادت گزارو اور راہبو ۔ اللہ کی قسم ! وہ لوگ اس کے بارے میں اتنا بھی زیادہ نہیں کہتے جتنی یہ چھڑی ( یا تنکا ) ہے اس سے جو ہم کہتے ہیں ، تم لوگوں کو خوش آمدید ہے اور جن کے پاس سے تم آئے ہو انہیں بھی خوش آمدید ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور یہ وہی ہیں جن کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور یہ وہی ہیں جن کے بارے میں سیدنا عیسیٰ بن مریم نے خوشخبری دی تھی تم لوگ جہاں چاہو رہو ۔ اللہ کی قسم ! اگر میری بادشاہی کے معاملات نہ ہوتے تو میں ان کے پاس جاتا یہاں تک کہ میں ان کے جوتے اٹھاتا اور انہیں وضو کرواتا پھر دوسرے لوگوں کے تحفے کے بارے نجاشی نے حکم دیا کہ وہ انہیں واپس کر دیا جائے ۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حبشہ سے جلدی واپس آ گئے تھے ، یہاں تک کہ انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف بھی حاصل ہوا ان کا یہ بیان کرنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نجاشی کے انتقال کی اطلاع ملی تھی تو آپ نے اس کے لئے دعائے مغفرت کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حدیج بن معاویہ ہے جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : اس کی حدیث میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حدیج بن معاویہ ہے جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : اس کی حدیث میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ابْنَةِ أَبِي أُمِّيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : لَمَّا نَزَلْنَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ جَاوَرْنَا بِهَا خَيْرَ جَارٍ النَّجَاشِيَّ ، أَمِنَّا عَلَى دِينِنَا ، وَعَبَدْنَا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا نُؤْذَى ، وَلَا نَسْمَعُ شَيْئًا نَكْرَهُهُ ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ قُرَيْشًا ، ائْتَمَرُوا أَنْ يَبْعَثُوا إِلَى النَّجَاشِيِّ فِينَا رَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ ، وَأَنْ يَهْدُوا لِلنَّجَاشِيِّ هَدَايَا مِمَّا يُسْتَطْرَفُ مِنْ مَتَاعِ مَكَّةَ ، وَكَانَ أَعْجَبَ مَا يَأْتِيهِ مِنْهَا الْأَدَمُ ، فَجَمَعُوا لَهُ أُدُمًا كَثِيرًا ، وَلَمْ يَتْرُكُوا مِنْ بَطَارِقَتِهِ بِطْرِيقًا إِلَّا أَهْدَوْا لَهُ هَدِيَّةً ، وَبَعَثُوا بِذَلِكَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ - ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ السَّهْمِيِّ ، وَأَمَّرُوهُمَا أَمْرَهُمْ ، وَقَالُوا لَهُمَا : ادْفَعُوا إِلَى كُلِّ بِطْرِيقٍ هَدِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمُوا النَّجَاشِيَّ فِيهِمْ ، ثُمَّ قَدِّمُوا لِلنَّجَاشِيِّ هَدَايَاهُ ، ثُمَّ اسْأَلُوهُ أَنْ يُسَلِّمَهُمْ إِلَيْكُمْ قَبْلَ أَنْ يُكَلِّمَهُمْ ، قَالَتْ : فَخَرَجَا فَقَدِمَا عَلَى النَّجَاشِيِّ ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ بِخَيْرِ دَارٍ ، وَخَيْرِ جَارٍ ، فَلَمْ يَبْقَ مِنْ بَطَارِقَتِهِ بِطَرِيقٍ إِلَّا دَفَعَا إِلَيْهِ هَدِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُكَلِّمَا النَّجَاشِيَّ ثُمَّ قَالَا لِكُلِّ بِطْرِيقٍ مِنْهُمْ : إِنَّهُ قَدْ ضَوَى إِلَى بَلَدِ الْمَلِكِ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفَهَاءُ ، فَارَقُوا دِينَ قَوْمِهِمْ وَلَمْ يَدْخُلُوا فِي دِينِكُمْ ، وَجَاءُوا بَدِينٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُهُ نَحْنُ وَلَا أَنْتُمْ ، وَقَدْ بَعَثَنَا إِلَى الْمَلِكِ فِيهِمْ أَشْرَافُ قَوْمِهِمْ لِيَرُدَّهُمْ إِلَيْهِمْ ، فَإِذَا كَلَّمْنَا الْمَلِكَ فِيهِمْ فَأَشِيرُوا عَلَيْهِ أَنْ يُسَلِّمَهُمْ إِلَيْنَا ، وَلَا يُكَلِّمَهُمْ ، فَإِنَّ قَوْمَهُمْ أَعْلَى بِهِمْ عَيْنًا وَأَعْلَمُ بِمَا عَابُوا عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا لَهُمَا : نَعَمْ . ثُمَّ قَرَّبُوا هَدَايَاهُمْ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَقَبِلَهَا مِنْهُمْ ثُمَّ كَلَّمَاهُ ، فَقَالَا لَهُ : أَيُّهَا الْمَلِكُ ، قَدْ صَبَا إِلَى بَلَدِكَ مِنَّا غِلْمَانٌ سُفَهَاءُ ، فَارَقُوا دِينَ قَوْمِهِمْ ، وَلَمْ يَدْخُلُوا فِي دِينِكَ وَجَاءُوا بَدِينٍ مُبْتَدَعٍ لَا نَعْرِفُهُ نَحْنُ وَلَا أَنْتَ ، وَقَدْ بَعَثَنَا إِلَيْكَ فِيهِمْ أَشْرَافُ قَوْمِهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَعَشَائِرِهِمْ ; لِنَرُدَّهُمْ إِلَيْهِمْ ، فَلَهُمْ أَعْلَى بِهِمْ عَيْنًا وَأَعْلَمُ بِمَا عَابُوا عَلَيْهِمْ ، وَعَاتَبُوهُمْ فِيهِ . وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مِنْ أَنْ يَسْمَعَ النَّجَاشِيُّ كَلَامَهُمْ ، فَقَالَتْ بَطَارِقَتُهُ حَوْلَهُ : صَدَقُوا أَيُّهَا الْمَلِكُ قَوْمُهُمْ أَعْلَى بِهِمْ عَيْبًا ، وَأَعْلَمُ بِمَا عَابُوا عَلَيْهِمْ ، فَأَسْلِمْهُمْ إِلَيْهِمْ ، فَلْيَرُدَّاهُمْ إِلَى بِلَادِهِمْ وَقَوْمِهِمْ . فَغَضِبَ النَّجَاشِيُّ ، وَقَالَ : لَا هَا اللَّهِ ، ايْمُ اللَّهِ ، إِذًا لَا أُسَلِّمُهُمْ إِلَيْهِمَا ، وَلَا أَكَادُ قَوْمًا جَاوَرُونِي وَنَزَلُوا بِلَادِي وَاخْتَارُونِي عَلَى مَنْ سِوَايَ حَتَّى أَدْعُوَهُمْ فَأَسْأَلَهُمْ عَمَّا يَقُولُ هَذَانِ فِي أَمْرِهِمْ ، فَإِنْ كَانُوا كَمَا يَقُولَانِ أَسْلَمْتُهُمْ إِلَيْهِمَا ، وَرَدَدْتُهُمْ إِلَى قَوْمِهِمْ ، وَإِنْ كَانُوا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ مَنَعْتُهُمْ مِنْهُمَا ، وَأَحْسَنْتُ جِوَارَهُمْ مَا جَاوَرُونِي . قَالَتْ : ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَاهُمْ فَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولُهُ اجْتَمَعُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : مَا تَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا جِئْتُمُوهُ ؟ قَالُوا : نَقُولُ وَاللَّهِ مَا عَلَّمَنَا وَمَا أَمَرَنَا بِهِ نَبِيُّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَائِنٌ فِي ذَلِكَ مَا هُوَ كَائِنٌ ، فَلَمَّا جَاءُوهُ ، وَقَدْ دَعَا النَّجَاشِيُّ أَسَاقِفَتَهُ فَنَشَرُوا مَصَاحِفَهُمْ حَوْلَهُ ، سَأَلَهُمْ فَقَالَ : مَا هَذَا الدِّينُ الَّذِي قَدْ فَارَقْتُمْ فِيهِ قَوْمَكُمْ ، وَلَمْ تَدْخُلُوا فِي دِينِي وَلَا فِي دِينِ أَحَدٍ مِنْ هَذِهِ الْأُمَمِ ؟ قَالَتْ : وَكَانَ الَّذِي كَلَّمَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ : أَيُّهَا الْمَلِكُ ، كُنَّا قَوْمًا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ نَعْبُدُ الْأَصْنَامَ ، وَنَأْكُلُ الْمَيْتَةَ ، وَنَأْتِي الْفَوَاحِشَ ، وَنَقْطَعُ الْأَرْحَامَ ، وَنُسِيءُ الْجِوَارَ ، وَيَأْكُلُ الْقَوِيُّ مِنَّا الضَّعِيفَ ، فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْنَا رَسُولًا مِنَّا نَعْرِفُ نَسَبَهُ وَصِدْقَهُ وَأَمَانَتَهُ وَعَفَافَهُ ، فَدَعَانَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ; لِنُوَحِّدَهُ ، وَنَعْبُدَهُ ، وَنَخْلَعَ مَا كُنَّا نَعْبُدُ نَحْنُ وَآبَاؤُنَا مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنَ الْحِجَارَةِ وَالْأَوْثَانِ ، وَأَمَرَنَا بِصِدْقِ الْحَدِيثِ ، وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ ، وَحُسْنِ الْجِوَارِ وَالْكَفِّ عَنِ الْمَحَارِمِ وَالدِّمَاءِ ، وَنَهَانَا عَنِ الْفَوَاحِشِ ، وَشَهَادَةِ الزُّورِ ، وَأَكْلِ مَالِ الْيَتِيمِ وَقَذْفِ الْمُحْصَنَةِ ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَإِقَامَ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ . - قَالَتْ : فَعَدَّدَ عَلَيْهِ أُمُورَ الْإِسْلَامِ - فَصَدَّقْنَاهُ وَآمَنَّا بِهِ وَاتَّبَعْنَاهُ عَلَى مَا جَاءَ بِهِ ، فَعَبَدْنَا اللَّهَ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَحَرَّمْنَا مَا حَرَّمَ عَلَيْنَا ، وَأَحْلَلْنَا مَا أَحِلَّ لَنَا ، فَغَدَا عَلَيْنَا قَوْمُنَا فَعَذَّبُونَا ، وَفَتَنُونَا عَنْ دِينِنَا ; لِيَرُدُّونَا إِلَى عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَنْ نَسْتَحِلَّ مَا كُنَّا نَسْتَحِلُّ مِنَ الْخَبَائِثِ ، فَلَمَّا قَهَرُونَا وَظَلَمُونَا ، وَشَقُّوا عَلَيْنَا ، وَحَالُوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ دِينِنَا خَرَجْنَا إِلَى بَلَدِكَ ، وَاخْتَرْنَاكَ عَلَى مَنْ سِوَاكَ ، وَرَغِبْنَا فِي جِوَارِكَ ، وَرَجَوْنَا أَنْ لَا نُظْلَمَ عِنْدَكَ أَيُّهَا الْمَلِكُ . قَالَتْ : فَقَالَ النَّجَاشِيُّ : هَلْ مَعَكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ عَنِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَتْ : فَقَالَ لَهُ جَعْفَرٌ : نَعَمْ . قَالَتْ : فَقَالَ لَهُ النَّجَاشِيُّ : فَاقْرَأْهُ . فَقَرَأَ عَلَيْهِ صَدْرًا مِنْ : ( كهيعص ) قَالَتْ : فَبَكَى وَاللَّهِ النَّجَاشِيُّ حَتَّى أَخْضَلَ لِحْيَتَهُ ، وَبَكَتْ أَسَاقِفَتُهُ حَتَّى أَخْضَلُوا مَصَاحِفَهُمْ حِينَ سَمِعُوا مَا تَلَا عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ النَّجَاشِيُّ : إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ وَالَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى لَيَخْرُجُ مِنْ مِشْكَاةٍ وَاحِدَةٍ . انْطَلِقَا فَوَاللَّهِ لَا أُسَلِّمُهُمْ إِلَيْكُمْ أَبَدًا وَلَا أَكَادُ . ¤ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : فَلَمَّا خَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُ غَدًا أَعِيبُهُمْ عِنْدَهُ بِمَا اسْتَأْصَلَ بِهِ خَضْرَاءَهُمْ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ - وَكَانَ أَتْقَى الرَّجُلَيْنِ فِينَا - : لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ لَهُمْ أَرْحَامًا ، وَإِنْ كَانُوا قَدْ خَالَفُونَا . قَالَ : وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّهُ أَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ عَبْدٌ - قَالَتْ : ثُمَّ غَدَا عَلَيْهِ الْغَدُ ، فَقَالَ : أَيُّهَا الْمَلِكُ ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ قَوْلًا عَظِيمًا . فَأَرْسِلْ إِلَيْهِمْ فَسَلْهُمْ عَمَّا يَقُولُونَ فِيهِ ؟ ! قَالَتْ : فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَسْأَلُهُمْ عَنْهُ ، قَالَتْ : وَلَمْ يَنْزِلْ بِنَا مِثْلُهَا ، وَاجْتَمَعَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى إِذَا سَأَلَكُمْ عَنْهُ ، قَالُوا : نَقُولُ وَاللَّهِ مَا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَائِنٌ فِي ذَلِكَ مَا هُوَ كَائِنٌ ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ قَالَ لَهُمْ : مَا تَقُولُ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ؟ فَقَالَ لَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : نَقُولُ فِيهِ الَّذِي جَاءَ بِهِ نَبِيُّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَرُوحُهُ ، وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ " . قَالَ : فَضَرَبَ النَّجَاشِيُّ يَدَهُ إِلَى الْأَرْضِ فَأَخَذَ مِنْهَا عُودًا ثُمَّ قَالَ : مَا عَدَا عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ مَا قُلْتَ هَذَا الْعُودَ . فَتَنَاخَرَتْ بَطَارِقُهُ حَوْلَهُ حِينَ قَالَ مَا قَالَ . فَقَالَ : وَإِنْ نَخَرْتُمْ وَاللَّهِ ، اذْهَبُوا فَأَنْتُمْ سُيُومٌ بِأَرْضِي - وَالسُّيُومُ : الْآمِنُونَ - مَنْ سَبَّكُمْ غَرِمَ ، ثُمَّ مَنْ سَبَّكُمْ غَرِمَ ، ثُمَّ مَنْ سَبَّكُمْ غَرِمَ . مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي دُبُرًا ذَهَبًا ، وَأَنِّي آذَيْتُ رَجُلًا مِنْكُمْ - وَالدُّبُرُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ : الْجَبَلُ - رُدُّوا عَلَيْهِمَا هَدَايَاهُمَا فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِمَا ، فَوَاللَّهِ مَا أَخَذَ اللَّهُ مِنِّي الرِّشْوَةَ حِينَ رَدَّ عَلَيَّ مُلْكِي ، فَآخُذَ فِيهِ الرِّشْوَةَ ، وَمَا أَطَاعَ النَّاسَ فِيَّ ، فَأُطِيعَهُمْ فِيهِ . فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ مَقْبُوحَيْنِ مَرْدُودًا عَلَيْهِمَا مَا جَاءَا بِهِ ، وَأَقَمْنَا عِنْدَهُ فِي خَيْرِ دَارٍ مَعَ خَيْرِ جَارٍ ، فَوَاللَّهِ إِنَّا لَعَلَى ذَلِكَ إِذْ نَزَلَ بِهِ - يَعْنِي : مَنْ يُنَازِعُهُ فِي مُلْكِهِ - قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَا حُزْنًا قَطُّ كَانَ أَشَدَّ مِنْ حُزْنٍ حَزِنَّاهُ عِنْدَ ذَلِكَ ; تَخَوُّفًا أَنْ يَظْهَرَ ذَلِكَ عَلَى النَّجَاشِيِّ ، فَيَأْتِيَ رَجُلٌ لَا يَعْرِفُ مِنْ حَقِّنَا مَا كَانَ النَّجَاشِيُّ يَعْرِفُ مِنْهُ . ¤ قَالَتْ : وَسَارَ النَّجَاشِيُّ وَبَيْنَهُمَا عُرْضُ النِّيلِ ، قَالَتْ : فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ رَجُلٌ يَخْرُجُ حَتَّى يُحْضِرَ وَقِيعَةَ الْقَوْمِ ثُمَّ يَأْتِيَنَا ؟ قَالَتْ : فَقَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ : أَنَا ، قَالَتْ : وَكَانَ مِنْ أَحْدَثِ الْقَوْمِ سِنًّا . قَالَتْ : فَنَفَخُوا لَهُ قِرْبَةً فَجَعَلُوهَا فِي صَدْرِهِ فَسَبَحَ عَلَيْهَا حَتَّى خَرَجَ إِلَى نَاحِيَةِ النِّيلِ الَّتِي بِهَا مُلْتَقَى الْقَوْمِ ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى حَضَرَهُمْ ، قَالَتْ : وَدَعَوْنَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِلنَّجَاشِيِّ بِالظُّهُورِ عَلَى عَدُّوِهِ ، وَالتَّمْكِينِ لَهُ فِي بِلَادِهِ . وَاسْتَوْسَقَ عَلَيْهِ أَمْرُ الْحَبَشَةِ ، فَكُنَّا عِنْدَهُ فِي خَيْرِ مَنْزِلٍ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بنت ابوامیہ بن مغیرہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : جب ہم نے حبشہ کی سرزمین پر رہائش اختیار کی تو وہاں نجاشی کا ساتھ ہمارے لئے بہت بہتر رہا اس نے ہمارے دین کے حوالے سے ہمیں محفوظ قرار دیا ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے ہمیں اذیت نہیں پہنچائی جاتی تھی ہمیں کوئی ایسی بات نہیں سننی پڑتی تھی جسے ہم ناپسند کرتے ہوں جب قریش کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے اس بارے میں باہمی مشورہ کیا کہ وہ دو مضبوط افراد کو نجاشی کی طرف ہمارے بارے میں بھیجتے ہیں اور وہ نجاشی کو تحفے بھی بھیجیں گے ، جو مکہ کے ساز و سامان سے اکٹھے کیے جائیں گے اور نجاشی کو برنی کھجور میں بہت پسند تھیں ، تو ان لوگوں نے نجاشی کے لئے بہت سی کھجوریں اکٹھی کیں ، اور اس کے درباریوں میں سے ہر ایک کے لئے کوئی نہ کوئی تحفہ لیا اور ان سب چیزوں کو عبداللہ بن ابوبیعہ مخزومی اور عمرو بن العاص بن وائل سہمی کے ہمراہ بھیجا انہوں نے اپنے معاملے کا نگران ان دو افراد کو بنا دیا اور ان دونوں سے یہ کہا: کہ تم نے ہر درباری کو اس کا تحفہ دینا ہے اور یہ کام نجاشی سے ان لوگوں کے بارے میں بات چیت کرنے سے پہلے کرنا ہے پھر اس کے بعد نجاشی کو اس کے تحائف دینا پھر اس سے یہ درخواست کرنا کہ وہ ان لوگوں کو تمہارے سپرد کر دے اور یہ اس سے پہلے کرنا کہ نجاشی ان لوگوں ( یعنی مسلمانوں ) کے ساتھ کوئی بات چیت کرے سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ دونوں افراد نکلے وہ دونوں نجاشی کے پاس آئے اس وقت ہم نجاشی کے علاقے میں بہترین جگہ پر بہترین پڑوس کے ساتھ رہ رہے تھے ان دونوں نے ہر درباری کو اس کا تحفہ دیا اور یہ کام نجاشی سے بات چیت کرنے سے پہلے کیا انہوں نے ہر درباری کو یہ کہا: کہ بادشاہ کے علاقے میں ہماری طرف سے کچھ بے وقوف نوجوان آئے ہیں ، انہوں نے اپنی قوم کے دین سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور وہ لوگ تمہارے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں وہ لوگ ایک نیا دین لے کے آئے ہیں ، جس سے نہ ہم واقف ہیں نہ تم واقف ہو اور ان لوگوں کی قوم کے معززین نے ہمیں ان لوگوں کے بارے میں بادشاہ کی طرف بھیجا ہے تاکہ بادشاہ ان لوگوں کو ان کی قوم کی طرف واپس بھیج دے جب ہم ان لوگوں کے بارے میں بادشاہ کے ساتھ بات چیت کریں گے تو آپ نے بھی بادشاہ کو یہ مشورہ دینا ہے کہ وہ ان لوگوں کو ہمارے حوالے کر دے اور یہ دھیان رکھنا ہے کہ بادشاہ ان لوگوں کے ساتھ بات چیت نہ کر پائے ، کیونکہ ان کی قوم ان لوگوں کے بارے میں زیادہ بہتر جانتی ہے اور اس چیز کے بارے میں زیادہ بہتر جانتی ہے ، جو ان پر اعتراض کیا جا سکتا ہے ان درباریوں نے ان دونوں سے کہا: ٹھیک ہے پھر ان لوگوں نے نجاشی کے تحائف نجاشی کو دیے نجاشی نے ان لوگوں سے تحائف قبول کیے پھر ان دونوں نے نجاشی کے ساتھ بات چیت کی اور اس سے یہ کہا: اے بادشاہ ہماری طرف سے کچھ نوجوان بے وقوف لوگ بے دین ہو کر آپ کے علاقے کی طرف آ گئے ہیں انہوں نے اپنی قوم کے دین سے علیحدگی اختیار کی ہے اور وہ آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں وہ ایک نیا دین لے کے آئے ہیں ، جس سے نہ ہم واقف ہیں اور نہ آپ واقف ہیں ان لوگوں کی قوم کے معززین وہ قوم جن میں ان کے آباؤ اجداد ان کے بال بچے ان کے خاندان کے لوگ شامل ہیں ان کے معززین نے ان لوگوں کے بارے میں ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ ان لوگوں کو ان کی قوم کی طرف واپس بھجوا دیں ، کیونکہ ان کی قوم کے افراد ان کے بارے میں زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں انہیں ، جو اعتراض ہے وہ اس سے زیادہ واقف ہیں اور وہ اس حوالے سے خود ہی ان پر ناراضگی کا اظہار کر دیں گے ۔ ( سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ) عبداللہ بن ابوربیعہ اور عمرو بن العاص کے نزدیک کوئی بھی چیز اس سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھی کہ نجاشی ان لوگوں ( یعنی مسلمانوں ) کا کلام سن لے نجاشی کے گرد موجود ایک درباری نے کہا: اے بادشاہ یہ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں ان کی قوم ان کے بارے میں زیادہ بہتر جانتی ہے کہ ان میں کیا خرابی ہے اور ان پر کس حوالے سے اعتراض کیا جا سکتا ہے ، تو آپ ان لوگوں کو ان کے سپرد کر دیں تاکہ یہ دونوں ان لوگوں کو ان کے علاقوں اور ان کی قوم کی طرف واپس لے جائیں ، تو نجاشی غصے میں آ گیا اور بولا: جی نہیں ۔ اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں کو ان دونوں کے حوالے نہیں کروں گا جو لوگ میرے پڑوس میں آ کے ٹھہرے ہیں میرے علاقے میں آئے ہیں انہوں نے دوسروں پر مجھے اختیار کیا ہے میں انہیں اس وقت تک نہیں جانے دوں گا جب تک انہیں بلا کر اس چیز کے بارے میں دریافت نہیں کرتا کہ جو ان کے معاملے کے بارے میں ان دونوں افراد نے بیان کیا ہے اگر وہ لوگ ویسے ہی ہوئے جس طرح انہوں نے بیان کیا ہے ، تو میں ان لوگوں کو ان کے سپرد کر دوں گا ، اور ان لوگوں کو ان کی قوم کی طرف بھجوا دوں گا ، اور اگر وہ لوگ اس کے علاوہ ہوئے تو میں ان دونوں کو روک دوں گا ، اور ان لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کروں گا جو میرے پڑوس میں آ کے ٹھہرے ہیں ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر نجاشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو پیغام بھیج کر ان کو بلوایا جب ان کا قاصد ان حضرات کے پاس آیا تو وہ لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے ایک دوسرے سے دریافت کیا : جب تم بادشاہ کے پاس جاؤ گے تو اس سے کیا کہو گے ؟ انہوں نے یہی طے کیا کہ ہم وہی بات کہیں گے ۔ اللہ کی قسم ! جو ہمارے نبی نے ہمیں تعلیم دی ہے اور جس کا ہمارے نبی نے ہمیں حکم دیا ہے خواہ جو بھی ہو جائے جب وہ لوگ بادشاہ کے پاس آئے تو نجاشی نے اپنے مذہبی پیشواؤں کو بلایا انہوں نے اپنے صحیفے کھول لیے اور نجاشی کے ارد گرد موجود رہے نجاشی نے ان سے دریافت کیا : وہ دین کیا ہے جس کی وجہ سے تم لوگ اپنی قوم سے جدا ہو گئے ہو اور تم لوگ میرے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہو اور نہ ہی کسی اور گروہ کے دین میں داخل ہوئے ہو ؟ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے بادشاہ کے ساتھ بات چیت شروع کی انہوں نے کہا: اے بادشاہ ہم ایک ایسی قوم تھے جو جاہلیت سے تعلق رکھتے تھے ہم بتوں کی عبادت کرتے تھے ہم مردار کھاتے تھے ہم برائیوں کے مرتکب ہوتے تھے ہم رشتہ داریوں کے حقوق پامال کرتے تھے ہم پڑوسیوں کے ساتھ برا سلوک کرتے تھے ہم میں سے طاقتور شخص کمزور کو کھا جاتا تھا ۔ ہم اسی حالت میں تھے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول کو مبعوث کیا جو ہم میں سے ہے ہم اس کے نسب اس کی سچائی اس کی امانت داری اور پاکدامنی کو جانتے ہیں اس نے ہمیں اللہ کی طرف دعوت دی کہ ہم اس کی وحدانیت کا اعتراف کریں اس کی عبادت کریں اور ان چیزوں کو چھوڑ دیں کہ جن پتھروں اور بتوں کی ہم اور ہمارے آباؤ اجداد اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے اس نے ہمیں سچی بات کہنے امانت ادا کرنے صلہ رحمی کرنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے حرام چیزوں اور خون بہانے سے رکنے کا حکم دیا اس نے ہمیں بری باتوں جھوٹی گواہی یتیم کا مال کھانے پاکدامن عورت پر الزام لگانے سے بچنے کی تلقین کی اس نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور ہم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے مختلف اسلامی تعلیمات گنوائیں اور ( پھر کہا: ) ہم نے اس رسول کی تصدیق کی ہم ان پر ایمان لائے اور جو تعلیمات وہ لے کے آئے اس حوالے سے ہم نے ان کی پیروی کی اب ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور ہم کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتے ہیں اس نے ہم پر جو چیزیں حرام قرار دی ہیں ہم انہیں حرام سمجھتے ہیں اور جو چیزیں اس نے ہمارے لئے حلال قرار دی ہیں ہم انہیں حلال سمجھتے ہیں ، تو ہماری قوم کے افراد ہمارے پاس آئے انہوں نے ہمیں تکلیفیں دینا شروع کیں اور ہمارے دین کی وجہ سے ہمیں آزمائش کا شکار کیا تاکہ وہ ہمیں دوبارہ بتوں کی عبادت کی طرف لے جائیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑ کر کی جاتی ہے اور ہم ان چیزوں کو حلال قرار دیں جو پہلے خبیث چیزوں کو حلال قرار دیا کرتے تھے جب ان لوگوں نے ہمارے ساتھ زیادتی کی اور ہم پر ظلم کیا اور ہم پر سختی کی اور ہمارے اور ہمارے دین کے درمیان رکاوٹ بننے لگے تو ہم نکل کر آپ کے علاقے کی طرف آ گئے ہم نے دوسروں کی بجائے آپ کو اختیار کیا ہم نے آپ کے پڑوس میں آنے میں رغبت رکھی اور ہم نے یہ توقع رکھی کہ آپ کے پاس ہم پر ظلم نہیں کیا جائے گا اے بادشاہ ! سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو نجاشی نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آیات نازل ہوئی ہیں کیا ان میں سے کچھ آپ کو آتا ہے ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: جی ہاں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نجاشی نے ان سے کہا: آپ تلاوت کیجئے تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے سورت مریم کی ابتدائی آیات اس کے سامنے تلاوات کیں : کیعص سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اللہ کی قسم ! نجاشی رونے لگا یہاں تک کہ اس کی داڑھی تر ہو گئی اور اس کے پاس موجود مذہبی پیشوا بھی رونے لگے ، یہاں تک کہ ان کے صحیفے تر ہو گئے جب انہوں نے وہ تلاوت سنی جو ان کے سامنے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کی تھی پھر نجاشی نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ وہی ہیں جن کے بارے میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام اطلاع لے کے آئے تھے یہ ایک ہی طاق سے نکلے ہیں ( پھر نجاشی نے ان دونوں افراد سے کہا: ) تم دونوں چلے جاؤ ۔ اللہ کی قسم ! میں انہیں کبھی تمہارے سپرد نہیں کروں گا ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب وہ لوگ نجاشی کے پاس سے نکلے تو عمرو بن العاص نے کہا: اللہ کی قسم ! کل میں بادشاہ کے سامنے دوبارہ جاؤں گا ، اور اس کے سامنے ان لوگوں پر ایسا اعتراض کروں گا ، جس کی وجہ سے بادشاہ انہیں ختم کر دے گا عبداللہ بن ابوربیعہ نے ان سے کہا: جو ہمارے بارے میں دونوں میں سے زیادہ احتیاط کرنے والے تھے کہ تم ایسا نہ کرو ان لوگوں کے ساتھ ہمارا رشتہ داری کا بھی تعلق ہے اگرچہ ان کا دین ہم سے مختلف ہے ، لیکن عمرو بن العاص نے کہا: اللہ کی قسم ! میں بادشاہ کو بتاؤں گا کہ یہ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم بھی ایک بندے تھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : پھر وہ اگلے دن بادشاہ کے پاس گئے اور کہا: اے بادشاہ یہ لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم کے بارے میں ایک بڑی بات کہتے ہیں ، آپ ان لوگوں کو پیغام بھیج کر بلائیں اور ان سے یہ دریافت کریں کہ وہ لوگ سیدنا عیسیٰ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : بادشاہ نے ان لوگوں کو پیغام بھیجا اور ان لوگوں سے اس بارے میں دریافت کیا : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہمارے سامنے ایسی پریشانی پہلے نہیں آئی تھی سب لوگ اکٹھے ہوئے انہوں نے آپس میں اس بارے میں بات چیت کی جب بادشاہ تم سے اس بارے میں دریافت کرے گا ، تو تم لوگ سیدنا عیسیٰ کے بارے میں کیا کہو گے ؟ پھر انہوں نے یہ طے کیا کہ اللہ کی قسم ! ہم وہی بات کہیں گے ، جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی ہے اور جو چیز ہمارے نبی لے کے آئے ہیں خواہ جو بھی ہو جائے جب وہ لوگ بادشاہ کے پاس آئے تو بادشاہ نے ان سے دریافت کیا : تم لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو ، تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ہم اُن کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو ہمارے نبی ان کے بارے میں تعلیم لے کے آئے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے اس کے رسول اور اس کی روح تھے اور اس کا کلمہ تھے جسے اس نے کنواری پاک مریم کی طرف القاء کیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : نجاشی نے اپنا ہاتھ زمین کی طرف بڑھایا اس میں سے ایک تنکا اٹھایا اور پھر یہ کہا: تم نے جو کہا: ہے : سیدنا عیسیٰ بن مریم اس تنکے جتنے بھی اس سے زیادہ نہیں ہیں جب بادشاہ نے یہ بات کہی تو اس کے ارد گرد موجود پادری پھنکارنے لگے ، بادشاہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر تم غصے کا اظہار بھی کرتے ہو ، تو ٹھیک ہے ، تم جاؤ ، تم لوگ میری سرزمین پر امن کی حالت میں رہو گے ، جو شخص تمہیں کچھ برا کہے گا وہ جرمانہ دے گا پھر جو شخص تمہیں کہے گا وہ جرمانہ دے گا پھر جو شخص تمہیں برا کہے گا وہ جرمانہ دے گا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس کے عوض میں مجھے سونے کا پہاڑ مل جائے جبکہ میں نے تم میں سے کسی ایک شخص کو اذیت دی ہوئی ہو حبشہ کی زبان میں دبر کا مطلب پہاڑ ہوتا ہے ( پھر بادشاہ نے دونوں افراد سے کہا: ) تم لوگ اپنے تحائف واپس لے جاؤ ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہے ۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے جب میری باشاہت مجھے واپس کی تھی تو اس نے مجھ سے رشوت نہیں لی تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کی وجہ سے کسی سے رشوت لوں ، اور اس نے میرے بارے میں لوگوں کی بات نہیں مانی جو میں اس کے بارے میں لوگوں کی بات مانوں ۔ پھر وہ دونوں افراد مردود ہو کر اور رسوا ہو کر وہاں سے نکلے اس چیز کے حوالے سے جو وہ لے کے آئے تھے اور ہم نجاشی کے علاقے میں اچھی جگہ پر آرام دہ پڑوس میں رہے ۔ اللہ کی قسم ! ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران بادشاہ پر وہ پریشانی آ گئی یعنی اس کی بادشاہت کے خلاف بغاوت ہو گئی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اللہ کی قسم ! ہمیں اس موقع پر جتنی شدید پریشانی لاحق ہوئی اتنی پریشانی کبھی لاحق نہیں ہوئی تھی ہمیں یہ پریشانی تھی کہ دشمن نجاشی پر غالب آ گیا تو کوئی ایسا حکمران آ جائے گا جو ہمارے حق کو نہیں جانتا ہو گا ، جس طرح نجاشی ہمارے حق کو پہچانتا تھا ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نجاشی روانہ ہوا دونوں لشکروں کے درمیان دریائے نیل تھا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا: کون شخص نکل کر جائے گا ، اور جنگ کا جائزہ لے گا ، اور پھر ہمیں آ کر بتائے گا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ، تو زبیر بن عوام نے کہا: میں ایسا کروں گا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں وہ کم عمر نوجوان تھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں پھر ان لوگوں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے لئے ایک مشکیزے میں ہوا بھری اور وہ ان کے سینے پر باندھ دیا وہ اس پر رہ کر تیرتے ہوئے دریائے نیل کے اس کنارے تک پہنچ گئے جہاں دونوں لشکروں کا مقابلہ ہونا تھا وہ چلے گئے وہاں انہوں نے جنگ کا جائزہ لیا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم اللہ تعالیٰ سے نجاشی کے لئے دعا کرتے رہے کہ وہ اپنے دشمن پر غالب آ جائے اور اسے اپنی حکومت میں استحکام نصیب ہو آخر کار حبشہ اس کے مکمل کنٹرول میں آ گیا اور ہم اس کے پاس اچھی طرح سے رہے ، یہاں تک کہ ہم نبی اکرم ملی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے جب کہ آپ مکہ میں تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسحاق نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسحاق نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي رَأَيْتُ أَرْضًا ذَاتَ نَخْلٍ فَاخْرُجُوا " . قَالَ : فَخَرَجَ حَاطِبٌ وَجَعْفَرٌ فِي الْبَحْرِ قِبَلَ النَّجَاشِيِّ . قَالَ : فَوُلِدْتُ أَنَا فِي تِلْكَ السَّفِينَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے ( خواب میں ہجرت کے مقام کے طور پر ) کھجوروں والی جگہ دیکھی ہے ، تو تم لوگ نکلو راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سمندری راستے کے ذریعے نجاشی کی طرف چلے گئے ۔ راوی کہتے ہیں : میں اس کشتی میں پیدا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : قَالَ جَعْفَرٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي أَنْ آتِيَ أَرْضًا أَعْبُدُ اللَّهَ فِيهَا لَا أَخَافُ أَحَدًا . قَالَ : فَأُذِنَ لَهُ فِيهَا فَأَتَى النَّجَاشِيَّ ، قَالَ عَمِيرٌ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ : لَمَّا رَأَيْتُ جَعْفَرًا وَأَصْحَابَهُ آمِنِينَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ حَسَدْتُهُ ، قُلْتُ : لَا تَسْتَقْبِلَنَّ لِهَذَا وَأَصْحَابِهِ فَأَتَيْتُ النَّجَاشِيَّ ، فَقُلْتُ : ائْذَنْ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَأَذِنَ لِي ، فَدَخَلْتُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ بِأَرْضِنَا ابْنَ عَمٍّ لِهَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ لِلنَّاسِ إِلَّا إِلَهٌ وَاحِدٌ ، وَإِنَّا وَاللَّهِ إِنْ لَمْ تُرِحْنَا مِنْهُ وَأَصْحَابِهِ لَا قَطَعْتُ إِلَيْكَ هَذِهِ النُّطْفَةَ ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي أَبَدًا . فَقَالَ : وَأَيْنَ هُوَ ؟ قُلْتُ : إِنَّهُ يَجِيءُ مَعَ رَسُولِكَ ; إِنَّهُ لَا يَجِيءُ مَعِي ، فَأَرْسَلَ مَعِي رَسُولًا فَوَجَدْنَاهُ قَاعِدًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، فَدَعَاهُ فَجَاءَ فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ ، نَادَيْتُ : ائْذَنْ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَنَادَى خَلْفِي : ائْذَنْ لِحِزْبِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَسَمِعَ صَوْتَهُ ، فَأَذِنَ لَهُ قَبْلِي ، فَدَخَلَ وَدَخَلْتُ ، وَإِذَا النَّجَاشِيُّ عَلَى السَّرِيرِ قَالَ : فَذَهَبْتُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَجَعَلْتُهُ خَلْفِي ، وَجَعَلْتُ بَيْنَ كُلِّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي ، فَقَالَ النَّجَاشِيُّ : نَجِّرُوا - قَالَ عَمْرٌو : يَعْنِي تَكَلَّمُوا - قُلْتُ : إِنَّ بِأَرْضِكَ رَجُلًا ابْنُ عَمِّهِ بِأَرْضِنَا ، وَيَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ لِلنَّاسِ إِلَّا إِلَهٌ وَاحِدٌ ، وَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَقْتُلْهُ وَأَصْحَابَهُ لَا أَقْطَعُ إِلَيْكَ هَذِهِ النُّطْفَةَ أَنَا وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي أَبَدًا ، قَالَ جَعْفَرٌ : صَدَقَ ابْنُ عَمِّي وَأَنَا عَلَى دِينِهِ قَالَ : فَصَاحَ صِيَاحًا ، وَقَالَ : أُوهٍ . حَتَّى قُلْتُ : مَا لِابْنِ الْحَبَشِيَّةِ لَا يَتَكَلَّمُ ؟ ! وَقَالَ : أَنَامُوسٌ ، كَنَامُوسِ مُوسَى ؟ قَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ؟ قَالَ : أَقُولُ هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ . قَالَ : فَتَنَاوَلَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ، فَقَالَ : مَا أَخْطَأَ فِي أَمْرِهِ مِثْلَ هَذَا ، فَوَاللَّهِ لَوْلَا مُلْكِي لَاتَّبَعْتُكُمْ ، وَقَالَ لِي : مَا كُنْتُ أُبَالِي أَنْ لَا تَأْتِيَنِي أَنْتَ ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ أَبَدًا . أَنْتَ آمِنٌ بِأَرْضِي مَنْ ضَرَبَكَ قَتَلْتُهُ ، وَمَنْ سَبَّكَ غَرَّمْتُهُ ، وَقَالَ لِآذِنِهِ : مَتَى اسْتَأْذَنَكَ هَذَا فَائْذَنْ لَهُ إِلَّا أَنْ أَكُونَ عِنْدَ أَهْلِي ، فَإِنْ أَتَى فَأْذَنْ لَهُ . ¤ قَالَ : فَتَفَرَّقْنَا وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْ جَعْفَرٍ قَالَ : فَاسْتَقْبَلَنِي مِنْ طَرِيقٍ مَرَّةً ، فَنَظَرْتُ خَلْفَهُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ، فَنَظَرْتُ خَلْفِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ ، وَقُلْتُ : أَتَعْلَمُ أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ قَالَ : فَقَدْ هَدَاكَ اللَّهُ فَاثْبُتْ ، فَتَرَكَنِي وَذَهَبَ ، فَأَتَيْتُ أَصْحَابِي فَكَأَنَّمَا شَهِدُوهُ مَعِي ، فَأَخَذُوا قَطِيفَةً أَوْ ثَوْبًا فَجَعَلُوهُ عَلَيَّ حَتَّى غَمُّونِي بِهَا قَالَ : وَجَعَلْتُ أُخْرِجُ رَأْسِي مِنْ هَذِهِ النَّاحِيَةِ مَرَّةً وَمِنْ هَذِهِ النَّاحِيَةِ مَرَّةً حَتَّى أَفْلَتَ ، وَمَا عَلَيَّ قِشْرَةً ، فَمَرَرْتُ عَلَى حَبَشِيَّةٍ ، فَأَخَذْتُ قِنَاعَهَا ، فَجَعَلْتُهُ عَلَى عَوْرَتِي ، فَأَتَيْتُ جَعْفَرًا فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا لَكَ ؟ فَقُلْتُ : أَخَذَ كُلَّ شَيْءٍ لِي مَا تَرَكَ عَلَيَّ قِشْرَةً فَأَتَيْتُ حَبَشِيَّةً ، فَأَخَذْتُ قِنَاعَهَا ، فَجَعَلْتُهُ عَلَى عَوْرَتِي ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى بَابِ الْمَلِكِ ، فَقَالَ جَعْفَرٌ لِآذِنِهِ : اسْتَأْذِنْ لِي . قَالَ : إِنَّهُ عِنْدَ أَهْلِهِ فَأَذِنَ لَهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ عَمْرًا تَابَعَنِي عَلَى دِينِي قَالَ : كَلَّا ، قُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ لِإِنْسَانٍ : اذْهَبْ مَعَهُ فَإِنْ فَعَلَ فَلَا تَقُلْ شَيْئًا إِلَّا كَتَبْتُهُ قَالَ : فَجَاءَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ وَجَعَلَ يَكْتُبُ حَتَّى كَتَبَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْقَدَحَ قَالَ : وَلَوْ شِئْتَ آخُذُ شَيْئًا مِنْ أَمْوَالِهِمْ إِلَى مَالِي فَعَلْتُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ . ¤ وَصَدْرُ الْحَدِيثِ فِي أَوَّلِهِ لَهُ ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ قَالَ : ثُمَّ كُنْتُ بَعْدُ مِنَ الَّذِينَ أَقْبَلُوا فِي السُّفُنِ مُسْلِمِينَ . وَعُمَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَى أَبُو يَعْلَى بَعْضَهُ ثُمَّ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ . ¤
محمد محی الدین
عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں کسی ایسی سرزمین پر چلا جاؤں جہاں میں اللہ کی عبادت کروں اور مجھے کسی کا خوف نہ ہو ۔ راوی کہتے ہیں : انہیں اس چیز کی اجازت دے دی گئی وہ نجاشی کے پاس چلے گئے ۔ عمیر نامی راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی جب میں نے جعفر اور اس کے ساتھیوں کو حبشہ کی سرزمین پر امن کی حالت میں رہتے ہوئے دیکھا تو مجھے ان سے حسد ہوا میں نے کہا: انہیں اور ان کے ساتھیوں کو آئندہ یہ موقع نہیں ملے گا میں نجاشی کے پاس آیا میں نے ( دربان ) سے کہا: عمرو بن العاص کے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو اس نے مجھے اجازت دے دی میں اندر آیا میں نے کہا: ہماری سرزمین پر اس شخص کا ایک چچازاد ہے جس کا کہنا ہے کہ لوگوں کا معبود صرف ایک ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر آپ نے ہمیں ان صاحب اور ان کے ساتھیوں سے راحت نہ دلوائی تو نہ میں ، اور نہ ہی میرے ساتھیوں میں سے کوئی ، کبھی اس سمندر کے پانی سے گزر کر تم تک آ سکے گا ، نجاشی نے دریافت کیا : وہ شخص کہاں ہے ؟ میں نے جواب دیا : وہ تمہارے قاصد کے ساتھ آ جائے گا وہ میرے ساتھ نہیں آئے گا ، تو نجاشی نے میرے ساتھ اپنے پیغام رساں کو بھیجا میں نے جعفر کو اپنے ساتھیوں کے درمیان بیٹھے ہوئے پایا نجاشی نے اسے بلوایا تھا وہ آ گیا جب میں دروازے کے پاس آیا تو میں نے کہا: عمرو بن العاص کے لئے اندر آنے کی اجازت طلب کرو جعفر نے میرے پیچھے سے بلند آواز میں پکارا اللہ کے گروہ کے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو نجاشی نے اس کی آواز سن لی اور مجھ سے پہلے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی وہ اندر داخل ہوا پھر میں اندر داخل ہوا نجاشی پلنگ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں آگے بڑھا اور نجاشی کے سامنے بیٹھ گیا میں نے جعفر کو اپنے پیچھے کر لیا اور اس کے ساتھیوں میں سے ہر دو افراد کو اپنے ساتھیوں میں سے کسی فرد کے پیچھے کر دیا نجاشی نے کہا: تم لوگ بات چیت شروع کرو میں نے کہا: آپ کی سرزمین پر ایک ایسا شخص ہے جس کا چچازاد ہماری سرزمین پر رہتا ہے اور اس کا یہ کہنا ہے کہ لوگوں کا معبود صرف ایک ہے اگر آپ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو قتل نہ کیا ، تو نہ میں ، اور نہ ہی میرے ساتھیوں میں سے کوئی ، کبھی اس سمندر کے پانی سے گزر کر تم تک آ سکے گا ، تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے چچازاد نے ٹھیک کہا: ہے پہلے میں بھی اس کے دین پر قائم تھا پھر اس نے چیخ ماری اور بولا: اوہ ، یہاں تک کہ میں نے یہ سوچا کہ حبشی عورت کے بیٹے کو کیا ہوا کہ یہ کوئی بات ہی نہیں کر رہا پھر اس نے دریافت کیا : کیا یہ وہی فرشتہ ہے ، جو سیدنا موسیٰ کے پاس آیا تھا پھر اس نے دریافت کیا : تم لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں یہ کہتا ہوں : وہ اللہ کا روح اور اس کا کلمہ تھے ، تو نجاشی نے زمین سے کوئی چیز اٹھائی اور بولے : ان کے معاملے میں اس نے اتنی بھی غلطی نہیں کی ( جتنا یہ تنکا ہے ) ۔ اللہ کی قسم ! اگر میرے حکومتی معاملات نہ ہوتے تو میں تمہارے ساتھ جاتا پھر نجاشی نے مجھ سے کہا: مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ تم یا تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی بھی میرے پاس کبھی نہ آئے ( پھر اس نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: ) تم لوگ میری سرزمین پر امن کے ساتھ رہو گے ، جو شخص تمہیں مارے گا میں اسے قتل کروا دوں گا جو شخص تمہیں برا کہے گا میں اس پر جرمانہ عائد کروں گا پھر اس نے اپنے دربان سے کہا: کہ یہ صاحب جب بھی تم سے اندر آنے کی اجازت مانگیں تم انہیں اجازت دے دینا البتہ جب میں اپنی بیوی کے پاس موجود ہوں اس وقت ایسا نہیں ہو گا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : وہاں سے ہم بکھر گئے میری یہ خواہش تھی کہ میری جعفر سے ملاقات ہو جائے ایک دن وہ مجھے راستے میں ملے میں نے ان کے پیچھے دیکھا مجھے کوئی نظر نہیں آیا میں نے اپنے پیچھے دیکھا مجھے کوئی نظر نہیں آیا میں ان کے قریب ہوا اور میں نے کہا: کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت نصیب کر دی ہے تم ثابت قدم رہنا پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور چلے گئے میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو یوں لگا جیسے وہ لوگ اس وقت میرے ساتھ موجود تھے ( یعنی انہیں میرے اسلام قبول کرنے کا پتہ چل چکا تھا ) تو انہوں نے ایک چادر یا کپڑا لے کر اسے میرے اوپر رکھا اور مجھے اس میں بند کر دیا میں کبھی ایک طرف سے سر باہر نکالتا تھا کبھی دوسری طرف سے سر نکالتا تھا یہاں تک کہ جب میں ان سے نکل کے بھاگا ، تو میرے جسم پر لباس کے نام پر ایک دھجی بھی نہیں تھی میں ایک حبشی عورت کے پاس آیا میں نے اس کی چادر لی اس کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو ڈھانپا اور پھر جعفر کے پاس آ گیا انہوں نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے میں نے کہا: انہوں نے میری ہر چیز لے لی ہے میرے جسم پر ایک دھجی بھی نہیں رہنے دی پھر میں ایک حبشی عورت کے پاس آیا میں نے اس کی چادر لی اور اسے اپنی شرمگاہ پر باندھا ہے پھر وہ گئے ان کے ساتھ میں بھی گیا یہاں تک کہ ہم بادشاہ کے دروازے پر آئے جعفر نے دربان سے کہا: میرے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو دربان نے کہا: بادشاہ اپنی اہلیہ کے پاس موجود ہے پھر بادشاہ نے انہیں اجازت دے دی میں نے کہا: ( یا سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: ) عمرو نے میرے دین کے حوالے سے میری پیروی کر لی ہے اس نے کہا: ہرگز نہیں میں نے کہا: جی ہاں ۔ اس نے ایک شخص سے کہا: تم اس کے ساتھ جاؤ اگر اس نے ایسا کیا ہے ، تو تم کچھ نہ کہنا بس اس کو نوٹ کر لینا پھر وہ آیا اس نے بتایا جی ہاں پھر میں نے کہنا شروع کیا اور اس نے لکھنا شروع کیا یہاں تک کہ اس نے ہر چیز لکھ لی ، یہاں تک کہ پیالہ تک لکھا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اگر میں نے ان لوگوں کے اموال میں سے کوئی چیز لینی ہوتی تو میں ایسا کر سکتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ روایت کا ابتدائی حصہ انہوں نے نقل کیا ہے اور آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : اس کے بعد میں ان افراد میں سے تھا جو کشتیوں میں مسلمان ہو کر آئے تھے ۔ عمیر نامی راوی کو ابن اسحاق ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں امام ابویعلیٰ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور پھر یہ بات بیان کی ہے ۔ اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ روایت کا ابتدائی حصہ انہوں نے نقل کیا ہے اور آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : اس کے بعد میں ان افراد میں سے تھا جو کشتیوں میں مسلمان ہو کر آئے تھے ۔ عمیر نامی راوی کو ابن اسحاق ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں امام ابویعلیٰ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور پھر یہ بات بیان کی ہے ۔ اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے ۔
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : بَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ مِنْ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى النَّجَاشِيِّ ، فَقَالُوا لَهُ وَنَحْنُ عِنْدُهُ : قَدْ بَعَثُوا إِلَيْكَ أُنَاسًا مِنْ سَفَلَتِنَا وَسُفَهَائِهِمْ فَادْفَعَهُمْ إِلَيْنَا قَالَ : لَا ، حَتَّى أَسْمَعَ كَلَامَهُمْ ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا ، وَقَالَ : مَا تَقُولُونَ ؟ فَقُلْنَا : إِنَّ قَوْمَنَا يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَآمَنَّا بِهِ وَصَدَّقْنَاهُ ، فَقَالَ لَهُمُ النَّجَاشِيُّ : عَبِيدٌ هُمْ لَكُمْ ؟ قَالُوا : لَا . قَالَ : فَلَكُمْ عَلَيْهِمْ دَيْنٌ ؟ قَالُوا : لَا . قَالَ : فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : إِنَّ هَؤُلَاءِ يَقُولُونَ فِي عِيسَى غَيْرَ مَا تَقُولُونَ قَالَ : إِنْ لَمْ يَقُولُوا فِي عِيسَى مِثْلَ مَا نَقُولُ ، لَا أَدَعُهُمْ فِي أَرْضِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَكَانَتِ الدَّعْوَةُ الثَّانِيَةُ أَشَدَّ عَلَيْنَا مِنَ الْأُولَى ، فَقَالَ : مَا يَقُولُ صَاحِبُكُمْ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ؟ فَقُلْنَا : يَقُولُ : " هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ " . قَالَ : فَأَرْسَلَ ، فَقَالَ : ادْعُوا فُلَانًا الْقِسِّيسَ ، وَفُلَانًا الرَّاهِبَ ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ؟ قَالُوا : فَأَنْتَ أَعْلَمُنَا فَمَا تَقُولُ ؟ قَالَ : فَأَخَذَ النَّجَاشِيُّ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ مَا زَادَ عَلَى مَا قَالَ هَؤُلَاءِ مِثْلَ هَذَا ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : أَيُؤْذِيكُمْ أَحَدٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : مَنْ آذَى أَحَدًا مِنْ هَؤُلَاءِ فَأَغْرِمُوهُ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ قَالَ : يَكْفِيَكُمْ ؟ فَقُلْنَا : لَا ، فَأَضْعَفَهَا فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَظَهَرَ بِهَا ، قُلْنَا لَهُ : إِنَّ صَاحِبَنَا قَدْ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَظَهَرَ بِهَا ، وَهَاجَرَ قِبَلَ الَّذِينَ كُنَّا حَدَّثْنَاكَ عَنْهُمْ ، وَقَدْ أَرَدْنَا الرَّحِيلَ إِلَيْهِ فَزَوِّدْنَا قَالَ : نَعَمْ ، فَحَمَلَنَا وَزَوَّدَنَا وَأَعْطَانَا ثُمَّ قَالَ : أَخْبِرْ صَاحِبَكَ مَا صَنَعْتُ إِلَيْكُمْ ، وَهَذَا رَسُولِي مَعَكَ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ جَعْفَرٌ : فَخَرَجْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ ، فَتَلَقَّانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاعْتَنَقَنِي ، فَقَالَ : " مَا أَدْرِي أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ ، أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ ؟ " . ¤ ثُمَّ جَلَسَ ، فَقَامَ رَسُولُ النَّجَاشِيِّ ، فَقَالَ : هُوَ ذَا جَعْفَرٌ فَسَلْهُ مَا صَنَعَ بِهِ صَاحِبُنَا ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَدْ فَعَلَ بِنَا ، قَدْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا ، وَحَمَلَنَا وَزَوَّدَنَا ، وَنَصَرَنَا ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَقَالَ : قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَعَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلنَّجَاشِيِّ " . فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : آمِينَ . فَقَالَ جَعْفَرٌ : فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ : انْطَلِقْ فَأَخْبِرْ صَاحِبَكَ مَا رَأَيْتَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو ، ابوسفیان کی طرف سے ، تحائف کے ہمراہ نجاشی کے پاس بھیجا ، ان لوگوں نے نجاشی سے یہ کہا: ، جبکہ ہم نجاشی کے ہاں رہ رہے تھے کہ ہمارے کمتر افراد میں سے کچھ لوگ تمہاری طرف آئے ہیں ، تم انہیں ہمارے سپرد کر دو نجاشی نے کہا: ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک میں ان کی بات نہیں سن لیتا ، پھر اس نے ہمیں پیغام بھیجا اور دریافت کیا : تم لوگوں کا کیا نظریہ ہے ؟ ہم نے کہا: ہم ایک ایسی قوم تھے کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا ہم اس پر ایمان لے آئے ہم نے اس کی تصدیق کی نجاشی نے ان ( یعنی عمرو بن العاص وغیرہ ) سے دریافت کیا : کیا وہ لوگ تمہارے غلام ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! انجاشی نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے ان سے کوئی قرض لینا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں نجاشی نے کہا: پھر ان لوگوں کو چھوڑ دو ! ہم نجاشی کے پاس سے نکلے تو عمرو بن العاص نے کہا: یہ لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں آپ لوگوں سے مختلف رائے رکھتے ہیں نجاشی نے کہا: اگر یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس کی مانند عقیدہ نہیں رکھتے ، جو ہم عقیدہ رکھتے ہیں ، تو میں انہیں دن کی ایک گھڑی کے لئے بھی اپنی سرزمین پر نہیں رہنے دوں گا ، پھر نجاشی نے ہمیں پیغام بھیجا یہ دوسرا بلاوا تھا جو ہمارے لئے پہلے سے زیادہ سخت تھا اس نے دریافت کیا تمہارے آقا سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ ہم نے جواب دیا : وہ یہ کہتے ہیں : وہ اللہ کا روح اور اس کا کلمہ تھے ، جنہیں اُس نے کنواری پاک بی بی کی طرف القاء کیا تھا ، تو نجاشی نے پیغام بھیجا اور کہا: فلاں پادری ، فلاں راہب کو بلا کے لے کے آؤ ، کچھ لوگ ان کے پاس آ گئے ، اس نے دریافت کیا : تم لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ ان پادریوں نے جواب دیا آپ اس بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں ، آپ کیا کہتے ہیں ؟ پھر نجاشی نے زمین سے کوئی چیز لی اور بولے : سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اس شخص کی بیان کی ہوئی بات سے اتنے بھی زیادہ نہیں تھے ، بالکل ویسے ہی ہیں ، پھر اس نے ان لوگوں سے کہا: کیا کوئی تمہیں اذیت پہنچاتا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نجاشی نے منادی کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کر دے کہ جو شخص ان ( مسلمانوں ) میں سے کسی کو اذیت پہنچائے گا ، اسے چار درہم جرمانہ ہو گا نجاشی نے کہا: ٹھیک ہے ؟ ہم نے کہا: جی نہیں نجاشی نے جرمانہ دگنا کر دیا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور وہاں آپ کو غلبہ حاصل ہو گیا تو ہم نے نجاشی سے کہا: ہمارے آقا مدینہ منورہ تشریف لے آئے ہیں اور وہاں انہیں غلبہ نصیب ہو گیا ہے اور انہوں نے ان لوگوں کی طرف ہجرت کی ہے جن کے بارے میں ہم تمہیں بیان کر چکے ہیں ، تو اب ہم یہاں سے روانہ ہونا چاہتے ہیں ، تم ہمیں زاد سفر دو اس نے کہا: ٹھیک ہے پھر اس نے ہمارے لیے سواریوں کا بندوبست کیا ، ہمیں زاد سفر دیا اور ادائیگیاں کیں ، پھر اس نے کہا: تم اپنے آقا کو بتا دینا ، جو میں نے تمہارے ساتھ رویہ اختیار کیا ہے ، یہ میرا قاصد تمہارے ساتھ ہے ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ، تم ان سے یہ کہنا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم وہاں سے روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم سے ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھے گلے لگا لیا اور ارشاد فرمایا : مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے خیبر کے فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہوئی ہے ، یا جعفر کے آنے کی زیادہ خوشی ہوئی ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے ، نجاشی کا قاصد کھڑا ہوا اور بولا: یہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ موجود ہیں ، آپ ان سے پوچھ لیں کہ ہمارے آقا نے ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور وہ کیا ، اس نے ہمیں سواریاں دیں زاد سفر دیا اور ہماری مدد کی اور اس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور اس نے یہ بھی کہا: تھا کہ تم ان سے یہ کہہ دینا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے آپ نے وضو کیا پھر آپ نے تین مرتبہ یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو نجاشی کی مغفرت کر دے ! “ مسلمانوں نے کہا: ” آمین “ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے قاصد سے کہا: اب تم جاؤ اور اپنے آقا کو یہ بتا دینا ، جو چیز تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھی ہے ۔
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّجَاشِيَّ سَأَلَهُ : مَا دِينُكُمْ ؟ قَالَ : بُعِثَ إِلَيْنَا رَسُولٌ نَعْرِفُ لِسَانَهُ وَصِدْقَهُ وَوَفَاءَهُ ، فَدَعَانَا إِلَى أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَنَخْلَعَ مَا كَانَ يَعْبُدُ قَوْمُنَا وَغَيْرُهُمْ مِنْ دُونِهِ يَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ ، وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ وَصِلَةِ الرَّحِمِ ، فَدَعَانَا إِلَى مَا نَعْرِفُ ، وَقَرَأَ عَلَيْنَا تَنْزِيلًا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لَا يُشْبِهُ غَيْرَهُ ، فَصَدَّقْنَاهُ وَآمَنَّا بِهِ ، وَعَرَفْنَا أَنَّ مَا جَاءَ بِهِ حَقٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، فَفَارَقْنَا عِنْدَ ذَلِكَ قَوْمَنَا فَآذَوْنَا وَقَهَرُونَا ، فَلَمَّا أَنْ بَلَغُوا مِنَّا مَا نَكْرَهُ ، وَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَنْ نَمْتَنِعَ مِنْهُمْ خَرَجْنَا إِلَى بَلَدِكَ ، وَاخْتَرْنَاكَ عَلَى مَنْ سِوَاكَ ، فَقَالَ النَّجَاشِيُّ : اذْهَبُوا فَأَنْتُمْ سُيُومٌ بِأَرْضِي - يَقُولُ : آمِنُونَ - مَنْ سَبَّكُمْ غَرِمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نجاشی نے ان سے دریافت کیا تمہارا دین کیا ہے ؟ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ہماری طرف ایک رسول کو مبعوث کیا گیا ہے جن کی زبان ، سچائی ، وفاشعاری کو ہم جانتے ہیں ، انہوں نے ہمیں اس بات کی طرف دعوت دی کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں اور ہماری قوم جس کی عبادت کرتی ہے اور دوسرے لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہیں ، ہم ان سے لاتعلق ہو جائیں ، وہ ہمیں نیکی کرنے کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے ہمیں منع کرتے ہیں ، وہ ہمیں نماز پڑھنے ، روزہ رکھنے ، صدقہ کرنے ، صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جسے ہم نیکی سمجھتے ہیں وہ ہمارے سامنے قرآن کی آیات تلاوت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اور اس جیسا کلام اور کوئی نہیں ہے ، تو ہم نے اس نبی کی تصدیق کی ، ہم ان پر ایمان لائے اور ہمیں اس بات کا پتہ چل گیا کہ وہ جو چیز لے کر آئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا حق ہے ، تو اس وقت ہم نے اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر لی ، انہوں نے ہمیں اذیتیں دینی شروع کر دیں ، اور ہم پر زیادتیاں کیں ، جب یہ صورت حال ہمارے بس سے باہر ہو گئی ، اور ہم ان سے بچاؤ نہیں کر سکتے تھے ، تو ہم نکل کر تمہارے علاقے کی طرف آ گئے ، ہم نے دوسروں کی بجائے تمہیں اختیار کیا ، تو نجاشی نے کہا: تم لوگ جاؤ تم میری سرزمین پر امن کی حالت پر رہو گے ، جو شخص تمہیں برا کہے گا وہ جرمانہ دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے ابن اسحاق سے نقل کی ہے اور وہ مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے ابن اسحاق سے نقل کی ہے اور وہ مدلس ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَنْطَلِقَ مَعَ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَبَلَغَ ذَلِكَ قُرَيْشًا ، فَبَعَثُوا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَجَمَعَا لِلنَّجَاشِيِّ هَدِيَّةً ، وَقَدِمَا عَلَى النَّجَاشِيِّ فَأَتَيَاهُ بِالْهَدِيَّةِ فَقَبِلَهَا وَسَجَدَا لَهُ ثُمَّ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : إِنَّ نَاسًا مِنْ أَرْضِنَا رَغِبُوا عَنْ دِينِنَا وَهُمْ فِي أَرْضِكَ ، فَقَالَ لَهُمُ النَّجَاشِيُّ : فِي أَرْضِي ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَبَعَثَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ لَنَا جَعْفَرٌ : لَا يَتَكَلَّمْ مِنْكُمْ أَحَدٌ ، أَنَا خَطِيبُكُمُ الْيَوْمَ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ وَهُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعُمَارَةُ عَنْ يَسَارِهِ ، وَالْقِسِّيسُونَ وَالرُّهْبَانُ جُلُوسٌ سِمَاطِينَ ، وَقَدْ قَالَ لَهُ عَمْرٌو وَعُمَارَةُ : إِنَّهُمْ لَا يَسْجُدُونَ لَكَ ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا بَدَرَنَا مَنْ عِنْدَهُ مِنَ الْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ : اسْجُدُوا لِلْمَلِكِ ، فَقَالَ جَعْفَرٌ : إِنَّا لَا نَسْجُدُ إِلَّا لِلَّهِ . قَالَ لَهُ النَّجَاشِيُّ : وَمَا ذَاكَ ؟ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولًا ، وَهُوَ الرَّسُولُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ، وَأَمَرَنَا بِالْمَعْرُوفِ ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ . ¤ فَأَعْجَبَ النَّجَاشِيَّ قَوْلُهُ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَمْرٌو قَالَ : أَصْلَحَ اللَّهُ الْمَلِكَ ، إِنَّهُمْ يُخَالِفُونَكَ فِي ابْنِ مَرْيَمَ ، فَقَالَ النَّجَاشِيُّ : مَا يَقُولُ صَاحِبُكُمْ فِي ابْنِ مَرْيَمَ ؟ قَالَ : يَقُولُ فِيهِ قَوْلَ اللَّهِ : " هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَخْرَجَهُ مِنَ الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ الَّتِي لَمْ يَقْرَبْهَا بَشَرٌ ، وَلَمْ يَفْتَرِضْهَا وَلَدٌ " . فَتَنَاوَلَ النَّجَاشِيُّ عُودًا مِنَ الْأَرْضِ فَرَفَعَهُ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ ، مَا يَزِيدُ هَؤُلَاءِ عَلَى مَا تَقُولُونَ فِي ابْنِ مَرْيَمَ مَا يَزِنُ هَذِهِ ، مَرْحَبًا بِكُمْ ، وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ، وَلَوْلَا مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أُقَبِّلَ نَعْلَيْهِ ، امْكُثُوا فِي أَرْضِي مَا شِئْتُمْ . وَأَمَرَ لَنَا بِطَعَامٍ وَكُسْوَةٍ ، وَقَالَ : رُدُّوا عَلَى هَذَيْنِ هَدِيَّتَهُمَا ، وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَجُلًا قَصِيرًا ، وَكَانَ عُمَارَةُ رَجُلًا جَمِيلًا ، وَكَانَا أَقْبَلَا إِلَى النَّجَاشِيِّ فَشَرِبُوا - يَعْنِي خَمْرًا - وَمَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ امْرَأَتُهُ فَلَمَّا شَرِبُوا مِنَ الْخَمْرِ ، قَالَ عُمَارَةُ لِعَمْرٍو : مُرِ امْرَأَتَكَ فَلْتُقَبِّلْنِي ، فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : أَلَا تَسْتَحِي ؟ فَأَخَذَ عُمَارَةُ عَمْرًا فَرَمَى بِهِ فِي الْبَحْرِ ، فَجَعَلَ عَمْرٌو يُنَاشِدُ عُمَارَةَ حَتَّى أَدْخَلَهُ السَّفِينَةَ ، فَحَقَدَ عَمْرٌو عَلَى ذَلِكَ ، فَقَالَ عَمْرٌو لِلنَّجَاشِيِّ : إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ خَلَفَكَ عُمَارَةَ فِي أَهْلِكَ . فَدَعَا النَّجَاشِيُّ عُمَارَةَ فَنَفَخَ فِي إِحْلِيلِهِ فَطَارَ مَعَ الْوَحْشِ . قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدُ مِنْهُ مِقْدَارَ سَطْرٍ مِنَ الْجَنَائِزِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نجاشی کی طرف چلے جائیں قریش کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو انہوں نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو بھیجا ، ان دونوں نے نجاشی کے لئے تحائف جمع کیے ، یہ دونوں نجاشی کے پاس آئے اور تحفے لے کر اس کے پاس آئے ، تو نجاشی نے ان دونوں کے تحفوں کو قبول کر لیا ، ان دونوں نے نجاشی کے سامنے سجدہ کیا پھر عمرو بن العاص نے یہ کہا: ہماری سرزمین پر کچھ ایسے لوگ ہیں جو ہمارے دین کو چھوڑ چکے ہیں اور وہ اب آپ کی سرزمین پر رہ رہے ہیں ، نجاشی نے ان سے دریافت کیا : کیا میری سرزمین پر رہ رہے ہیں ؟ ان لوگوں نے جواب دیا جی ہاں ، پھر نجاشی نے ہمیں پیغام بھیج کر بلوایا ، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا: تم میں سے کوئی بھی شخص کلام نہیں کرے گا ، میں خطاب کروں گا جب ہم نجاشی کے پاس پہنچے تو وہ ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا ، عمرو بن العاص اس کے دائیں طرف موجود تھے اور عمارہ اس کے بائیں طرف تھے اور پادری اور راہب بیٹھے ہوئے تھے ، عمرو اور عمارہ نے ان سے کہا: ان لوگوں نے آپ کو سجدہ نہیں کیا ، جب ہم وہاں پہنچے ، تو اس کے پاس موجود پادریوں اور راہبوں میں سے ایک لپک کر ہماری طرف آیا اور بولا: بادشاہ کو سجدہ کرو ! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں ، نجاشی نے ان سے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ انہوں نے بتایا اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف رسول کو مبعوث کیا ہے ، یہ وہی رسول ہیں ، جن کے بارے میں سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے یہ خوشخبری دی تھی کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا ، جس کا نام ” أحمد ہو گا ، وہ رسول ہمیں نیکی کرنے کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے ، نجاشی کو ان کی گفتگو اچھی لگی جب عمرو نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ بادشاہ کو ٹھیک رکھے ، سیدنا ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں یہ لوگ آپ کے برخلاف عقیدہ رکھتے ہیں ، نجاشی نے دریافت کیا : تمہارے آقا سیدنا ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بیان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ، جسے اس نے کنواری مریم کی طرف بھیجا تھا ، جن کے قریب کوئی بشر نہیں گیا تھا اور جن کے ہاں بچے کی پیدائش میں کسی بشر کے فعل کا دخل نہیں ہے ، نجاشی نے زمین سے ایک تنکا پکڑا ، اسے اٹھایا اور بولا: اے راہبوں اور پادریوں کے گروہ ! سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں تم لوگ جو عقیدہ رکھتے ہو ، اس شخص نے اس سے اتنا بھی زیادہ نہیں بیان کیا ، جتنا اس تنکے کا وزن ہے ، تم لوگوں کو خوش آمدید ہے ! انہیں خوش آمدید ہے ! جن کے پاس سے تم آئے ہو ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ، وہ ، وہی فرد ہیں ، جن کے بارے میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی تھی ، اگر میرے حکومتی معاملات نہ ہوتے ، تو میں ان کے پاس جاتا اور ان کے جوتوں کو بوسہ دیتا ، تم لوگ میری سرزمین پر جب تک چاہو رہو ، پھر بادشاہ نے ہمیں اناج اور کپڑے دینے کا حکم دیا اور یہ کہا: ان دو افراد کے تحفے انہیں واپس کر دو ، عمرو بن العاص چھوٹے قد کا شخص تھا ، جبکہ عمارہ ایک وجیہہ و شکیل شخص تھا وہ دونوں نجاشی کے پاس سے آئے ، انہوں نے شراب پی ، عمرو بن العاص کے ساتھ ان کی بیوی تھی ، جب ان لوگوں نے شراب پی لی ، تو عمارہ نے عمرو سے کہا: اپنی بیوی سے کہو کہ میرا بوسہ لے ، عمرو نے اس سے کہا: کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟ عمارہ نے عمرو کو پکڑا اور انہیں سمندر میں پھینک دیا ، عمرو ، عمارہ کو واسطے دیتے رہے ، یہاں تک کہ عمارہ نے عمرو کو کشتی میں سوار کر لیا ، عمرو نے یہ بات دل میں رکھی ، پھر عمرو نے نجاشی سے کہا: جب تم نکلے تھے ، تو عمارہ تمہاری غیر موجودگی میں تمہاری بیوی کے پاس گیا تھا ، تو نجاشی نے عمارہ کو بلوایا اور اس کی شرمگاہ میں اذیت پہنچائی تو وہ وحشی جانوروں کی طرح بھاگ کھڑا ہوا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے ایک سطر جتنا حصہ جنائز سے متعلق باب میں نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ فَأَقَامَ بِهَا حَتَّى قَدِمَ بَعْدَ بَدْرٍ : شُرَحْبِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنَةَ ، وَهِيَ أُمُّهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب کے حوالے سے ، ان لوگوں کے نام منقول ہیں ، جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور وہاں مقیم رہے تھے ، یہاں تک کہ وہ غزوہ بدر کے بعد واپس آئے تھے ، ان میں ایک سیدنا شرحبیل بن عبداللہ بن حسنہ رضی اللہ عنہ تھے ، وہ ( یعنی حسنہ نامی خاتون ، عبداللہ نامی شخص کی ) والدہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : إِنَّ قُرَيْشًا بَعَثُوا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ زَمَنَ النَّجَاشِيِّ ، وَكَانَ عُمَارَةُ رَجُلًا جَمِيلًا ، وَكَانَ يَقْذِفُ عَمْرًا فِي الْبَحْرِ ، وَكَانَ يَعُومُ فَيَخْرُجُ ، ثُمَّ يُلْقِيهِ أَيْضًا ، فَيَعُومُ ، فَحَقَدَ عَمْرٌو فِي نَفْسِهِ عَلَى عُمَارَةَ مَا كَانَ يَصْنَعُ بِهِ ، فَلَمَّا قَدِمَا دَخَلَا عَلَى النَّجَاشِيِّ ، فَقَالَا لَهُ : إِنَّ جَعْفَرًا وَأَصْحَابَهُ طَعَنُوا عَلَى آبَائِهِمْ ، وَخَالَفُوهُمْ فِي دِينِهِمْ ، وَهُمْ يُخَالِفُونَكَ ، وَلَا يُحَيُّونَكَ كَمَا يُحَيِّكَ النَّاسُ ، فَوَقَعُوا فِيهِمْ ، فَبَعَثَ النَّجَاشِيُّ إِلَى جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : مَا لَكُمْ لَا تُحَيُّونِي كَمَا تُحَيِّينِي النَّاسُ ؟ قَالُوا : إِنَّ لَنَا رَبًّا لَا يَنْبَغِي أَنْ نَسْجُدَ لِغَيْرِهِ ، وَلَوْ سَجَدْنَا لِأَحَدٍ لَسَجَدْنَا لِنَبِيِّنَا قَالَ : هَلْ مَعَكُمْ مِنْ كِتَابِكُمْ شَيْءٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَرَأَ جَعْفَرٌ سُورَةَ مَرْيَمَ ، فَقَالَ : مَا تَقُولُ فِي عِيسَى ؟ قَالَ : هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : مَا تَقُولُونَ ؟ فَسَكَتُوا ، فَأَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا خَالَفُوا أَمْرَ عِيسَى هَذِهِ وَإِنْ أَنْكَرْتُكُمْ ، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ آمَنْتُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : إِنْ شِئْتُمْ جَهَّزْتُكُمْ فَقَدِمْتُمْ عَلَى نَبِيِّكُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَقَمْتُمْ عِنْدِي حَتَّى يَسْتَقِرَّ مَكَانًا ، فَأَخَذَ عَمْرٌو يَعْمَلُ فِي عُمَارَةَ ، فَلَطُفَ بِامْرَأَةِ النَّجَاشِيِّ فَأَخَذَ عِطْرًا مِنْ عِطْرِهَا ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّجَاشِيِّ : إِنَّ عُمَارَةَ يَدْخُلُ عَلَى امْرَأَتِكَ ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ غَدًا وَعَلَيْهِ طِيبٌ مِنْ طِيبِهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَا طَيَّبَهُ ، فَقَالَ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَلِكِ ، فَانْطَلَقَا حَتَّى دَخَلَ فَوَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الطِّيبِ ، فَعَرَفَ النَّجَاشِيُّ طِيبَهُ ، فَأَمَرَ النَّجَاشِيُّ بِعُمَارَةَ فَنَفَخَ فِي إِحْلِيلِهِ ، فَاسْتُطِيرَ حَتَّى لَحِقَ بِالصَّحَارَى ، يَسْعَى فِيهَا مَعَ الْوَحْشِ ، فَجَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ أَهْلَهُ فَأَصَابُوهُ ، فَسَقَوْهُ شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ فَتَعْتَعَتْهُ فَمَاتَ ، فَلَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَتْهُ وَفَاةُ النَّجَاشِيِّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحم بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : قریش نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو نجاشی کے زمانے میں بھیجا ، عمارہ ایک وجیہہ و شکیل شخص تھے ، انہوں نے عمرو کو سمندر میں پھینک دیا وہ غوطے کھاتے ہوئے نکلے ، پھر انہوں نے دوبارہ پھینک دیا ، وہ پھر غوطے کھاتے ہوئے نکلے ، تو عمرو نے عمارہ کے خلاف دل میں یہ بات رکھ لی ، جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا ، جب وہ دونوں نجاشی کے پاس پہنچے ، تو ان دونوں نے نجاشی سے کہا: جعفر اور ان کے ساتھی اپنے آباؤ اجداد پر الزام عائد کرتے ہیں اور ان کے دین سے مختلف رائے رکھتے ہیں اور وہ تم لوگوں کے دین سے بھی مختلف رائے رکھتے ہیں ، وہ تمہیں اس طرح سلام نہیں کرتے ہیں ، جس طرح دوسرے لوگ سلام کرتے ہیں ، یوں انہوں نے ان کے خلاف باتیں کیں ، نجاشی نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بلا لیا اور دریافت کیا : کیا وجہ ہے ؟ کہ تم لوگ مجھے اس طرح سلام نہیں کرتے ( یعنی سجدہ نہیں کرتے ) جس طرح دوسرے لوگ کرتے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا : ہمارا ایک پروردگار ہے ، اس کے علاوہ کسی اور کے لئے سجدہ کرنا ، ہمارے لئے جائز نہیں ہے اگر ہم نے کسی کو سجدہ کرنا ہوتا ، تو ہم اپنے نبی کو سجدہ کرتے ، نجاشی نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس تمہاری کتاب کا کوئی حصہ ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے سورہ مریم کی تلاوت کی ، نجاشی نے دریافت کیا : تم لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : وہ اللہ کی روح ، اُس کا کلمہ ہیں ، جسے اس نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی طرف القاء کیا تھا ، نجاشی نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا : تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ وہ لوگ خاموش رہے ، نجاشی نے زمین سے کوئی چیز اپنی دو انگلیوں کے درمیان لی اور بولے : اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے معاملے کے بارے میں اتنی بھی مخالفت نہیں کی اور میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں : میں اس چیز پر ایمان لاتا ہوں ، جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے پھر اس نے کہا: اگر تم لوگ چاہو ، تو میں تمہیں ساز و سامان فراہم کر دیتا ہوں ، تم لوگ اپنے نبی کے پاس چلے جاؤ اور اگر تم چاہو تو میرے ہاں مقیم رہو ، جب تک صورت حال بہتر نہیں ہو جاتی ۔ عمرو ، عمارہ کے ساتھ تھے ، انہوں نے ، حیلے سے نجاشی کی بیوی کا عطر لے لیا ، پھر نجاشی سے کہا: عمارہ تمہاری بیوی کے پاس گیا تھا ، اس کی نشانی یہ ہے کہ کل جب وہ تمہارے پاس آئے گا ، تو اس پر تمہاری بیوی کی خوشبو لگی ہوئی ہو گی ، جب وہ اگلے دن آئے تو انہوں نے عمارہ کو خوشبو لگا دی اور کہا: چلو ! بادشاہ کے پاس چلتے ہیں ، جب وہ دونوں گئے اور بادشاہ کے پاس آئے اور بادشاہ کو اس سے اپنی بیوی کی خوشبو محسوس ہوئی ، تو نجاشی نے اس خوشبو کو پہچان لیا ، نجاشی نے عمارہ کے بارے میں حکم دیا اس کی شرمگاہ میں پھونک ماری گئی ، یہاں تک کہ وہ بے قرار ہو کر صحراء میں چلا گیا اور وحشی جانوروں کے ساتھ دوڑا پھرتا تھا ، اس کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے پاس آیا ، ان لوگوں نے اس کو پکڑا اور اسے ستو کا مشروب پلایا ، جس کی وجہ سے وہ مر گیا ۔ جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، تو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ، نجاشی کے انتقال کی اطلاع آئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ فِي تَسْمِيَةِ الَّذِينَ خَرَجُوا إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَبْلَ خُرُوجِ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ : الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ، وَسَهْلُ بْنُ بَيْضَاءَ ، وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ، وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، وَأَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، وَلَدَتْ لَهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَأَبُو سَبْرَةَ بْنُ أَبِي رُهْمٍ ، وَمَعَهُ أُمُّ كُلْثُومَ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ ، وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ أُمُّ سَلَمَةَ . ¤ قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَهَبُوا الْمَرَّةَ الْأُولَى قَبْلَ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابِهِ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ الَّتِي يَذْكُرُ فِيهَا وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ قُرَيْشٍ : لَوْ كَانَ هَذَا الرَّجُلُ يَذْكُرُ آلِهَتَنَا بِخَيْرٍ أَقْرَرْنَاهُ وَأَصْحَابَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ أَحَدًا مِمَّنْ خَالَفَ دِينَهُ مِنَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى بِمِثْلِ الَّذِي يَذْكُرُ بِهِ آلِهَتَنَا مِنَ الشَّرِّ وَالشَّتْمِ ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ الَّذِي يَذْكُرُ فِيهَا وَالنَّجْمِ ، وَقَرَأَ : أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِيهَا عِنْدَ ذَلِكَ ذِكْرَ الطَّوَاغِيتِ ، فَقَالَ : وَإِنَّهُنَّ مِنَ الْعَرَانِيقِ الْعُلَا ، وَإِنَّ شَفَاعَتَهُمْ لَتُرْتَجَى ، وَذَلِكَ مِنْ سَجْعِ الشَّيْطَانِ وَفِتْنَتِهِ ، فَوَقَعَتْ هَاتَانِ الْكَلِمَتَانِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُشْرِكٍ ، وَذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ ، وَاسْتَبْشَرُوا بِهَا ، وَقَالُوا : إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ رَجَعَ إِلَى دِينِهِ الْأَوَّلِ ، وَدِينِ قَوْمِهِ . ¤ فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِرَ السُّورَةِ الَّتِي فِيهَا النَّجْمُ سَجَدَ ، وَسَجَدَ مَعَهُ كُلُّ مَنْ حَضَرَهُ مِنْ مُسْلِمٍ وَمُشْرِكٍ ، غَيْرَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ رَجُلًا كَبِيرًا فَرَفَعَ مِلْءَ كَفِّهِ تُرَابًا فَسَجَدَ عَلَيْهِ ، فَعَجِبَ الْفَرِيقَانِ كِلَاهُمَا مِنْ جَمَاعَتِهِمْ فِي السُّجُودِ لِسُجُودِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَّا الْمُسْلِمُونَ فَعَجِبُوا مِنْ سُجُودِ الْمُشْرِكِينَ مِنْ غَيْرِ إِيمَانٍ وَلَا يَقِينٍ ، وَلَمْ يَكُنِ الْمُسْلِمُونَ سَمِعُوا الَّذِي أَلْقَى الشَّيْطَانُ عَلَى أَلْسِنَةِ الْمُشْرِكِينَ . وَأَمَّا الْمُشْرِكُونَ فَاطْمَأَنَّتْ أَنْفُسُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ لَمَّا سَمِعُوا الَّذِي أَلْقَى الشَّيْطَانُ في أُمْنِيَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثَهُمُ الشَّيْطَانُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَرَأَهَا فِي السَّجْدَةِ ، فَسَجَدُوا لِتَعْظِيمِ آلِهَتِهِمْ ، فَفَشَتْ تِلْكَ الْكَلِمَةُ فِي النَّاسِ وَأَظْهَرَهَا الشَّيْطَانُ حَتَّى بَلَغَتِ الْحَبَشَةُ ، فَلَمَّا سَمِعَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْلَمُوا ، وَصَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَلَغَهُمْ سُجُودُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَلَى التُّرَابِ عَلَى كَفِّهِ ، أَقْبَلُوا سِرَاعًا فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَمْسَى أَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَشَكَا إِلَيْهِ ، فَأَمَرَهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا بَلَغَهَا تَبَرَّأَ مِنْهَا جِبْرِيلُ قَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ مِنْ هَاتَيْنِ ، مَا أَنْزَلَهُمَا رَبِّي ، وَلَا أَمَرَنِي بِهِمَا رَبُّكَ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَقَّ عَلَيْهِ وَقَالَ : أَطَعْتُ الشَّيْطَانَ ، وَتَكَلَّمْتُ بِكَلَامِهِ ، وَشَرَكَنِي فِي أَمْرِ اللَّهِ . فَنَسَخَ اللَّهُ مَا أَلْقَى الشَّيْطَانُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ : وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ . لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ . ¤ فَلَمَّا بَرَّأَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ سَجْعِ الشَّيْطَانِ وَفِتْنَتِهِ انْقَلَبَ الْمُشْرِكُونَ بِضَلَالِهِمْ وَعَدَاوَتِهِمْ ، وَبَلَغَ الْمُسْلِمُونَ مِمَّنْ كَانَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ ، وَقَدْ شَارَفُوا مَكَّةَ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا الرُّجُوعَ مِنْ شِدَّةِ الْبَلَاءِ الَّذِي أَصَابَهُمْ وَالْجُوعِ وَالْخَوْفِ وَخَافُوا أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ فَيُبْطَشَ بِهِمْ فَلَمْ يَدْخُلْ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَّا بِجِوَارٍ ، فَأَجَارَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ ، فَلَمَّا أَبْصَرَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ الَّذِي يَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ مِنَ الْبَلَاءِ ، وَعُذِّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِالنَّارِ وَبِالسِّيَاطِ ، وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ مُعَافًى لَا يَعْرِضُ لَهُ ، رَجَعَ إِلَى نَفْسِهِ فَاسْتَحَبَّ الْبَلَاءَ عَلَى الْعَافِيَةِ ، وَقَالَ : أَمَّا مَنْ كَانَ فِي عَهْدِ اللَّهِ وَذِمَّتِهِ ، وَذِمَّةِ رَسُولِهِ الَّذِي اخْتَارَ لِأَوْلِيَائِهِ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ، وَمَنْ دَخَلَ فِيهِ فَهُوَ خَائِفٌ مُبْتَلًى بِالشِّدَّةِ وَالْكَرْبِ ، عَمِدَ إِلَى الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ عَمِّ ، أَجَرْتَنِي فَأَحْسَنْتَ جِوَارِي ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تُخْرِجَنِي إِلَى عَشِيرَتِكَ ، فَتَبْرَأَ مِنِّي بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ . فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ : ابْنَ أَخِي لَعَلَّ أَحَدًا آذَاكَ أَوْ شَتَمَكَ وَأَنْتَ فِي ذِمَّتِي ، فَأَنْتَ تُرِيدُ مَنْ هُوَ أَمْنَعُ لَكَ مِنِّي ، فَأَنَا أَكْفِيكَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا بِي ذَلِكَ ، وَمَا اعْتَرَضَ لِي مِنْ أَحَدٍ ، فَلَمَّا أَبَى عُثْمَانُ إِلَّا أَنْ يَتَبَرَّأَ مِنْهُ الْوَلِيدُ أَخْرَجَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَقُرَيْشٌ فِيهِ كَأَحْفَلِ مَا كَانُوا ، وَلَبِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الشَّاعِرُ يُنْشِدُهُمْ ، فَأَخَذَ الْوَلِيدُ بِيَدِ عُثْمَانَ فَأَتَى بِهِ قُرَيْشًا ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي وَحَمَلَنِي عَلَى أَنْ أَنْزِلَ إِلَيْهِ عَنْ جِوَارِي ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي بَرِيءٌ فَجَلَسَا مَعَ الْقَوْمِ ، وَأَخَذَ لَبِيدٌ يُنْشِدُهُمْ فَقَالَ : ¤ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ . فَقَالَ عُثْمَانُ : صَدَقْتَ . ثُمَّ إِنْ لَبِيدًا أَنْشَدَهُمْ تَمَامَ الْبَيْتِ ، فَقَالَ : ¤ وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلُ . فَقَالَ : كَذَبْتَ . فَسَكَتَ الْقَوْمُ وَلَمْ يَدْرُوا مَا أَرَادَ بِكَلِمَتِهِ ، ثُمَّ أَعَادَهَا الثَّانِيَةَ ، وَأَمَرَ بِذَلِكَ ، فَلَمَّا قَالَهَا قَالَ مِثْلَ كَلِمَتِهِ الْأُولَى وَالْأُخْرَى ، صَدَقْتَ مَرَّةً وَكَذَبْتَ مَرَّةً ، وَإِنَّمَا يُصَدِّقُهُ إِذَا ذَكَرَ كُلَّ شَيْءٍ يَفْنَى ، وَإِذَا قَالَ : كُلُّ نَعِيمٍ ذَاهِبٌ كَذَّبَهُ عِنْدَ ذَلِكَ ؛ إِنَّ نَعِيمَ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَا يَزُولُ ، نَزَعَ عِنْدَ ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَطَمَ عَيْنَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، فَاخْضَرَّتْ مَكَانَهَا ، فَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَأَصْحَابُهُ : قَدْ كُنْتَ فِي ذِمَّةٍ مَانِعَةٍ مَمْنُوعَةٍ فَخَرَجْتَ مِنْهَا إِلَى هَذَا ، فَكُنْتَ عَمَّا لَقِيتَ غَنِيًّا ، ثُمَّ ضَحِكُوا ، فَقَالَ عُثْمَانُ : بَلْ كُنْتُ إِلَى هَذَا الَّذِي لَقِيتُ مِنْكُمْ فَقِيرًا ، وَعَيْنِي الَّتِي لَمْ تُلْطَمْ إِلَى مِثْلِ هَذَا الَّذِي لَقِيتُ ، صَاحِبَتُهَا فَقِيرَةٌ لِي فِيمَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكُمْ أُسْوَةً ، فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ : إِنْ شِئْتَ أَجَرْتُكَ الثَّانِيَةَ . قَالَ : لَا أَرَبَ لِي فِي جِوَارِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر ، اُن لوگوں کے نام بیان کرتے ہیں : جو حبشہ کی سرزمین کی طرف پہلی مرتبہ نکلے تھے ، یہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے جانے سے پہلے کی بات ہے ( اور اُن کے نام یہ ہیں : ) سیدنا زبیر بن عوام ، رضی اللہ عنہ سیدنا سہل بن بیضاء ، رضی اللہ عنہ سیدنا عامر بن ربیعہ ، رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان بن غنی رضی اللہ عنہ ، ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا تھیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں ، سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ، سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو عبدالدار سے ہے ، سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا تھیں ، جنہوں نے حبشہ کی سرزمین پر ان کے صاحبزادے محمد بن ابوحذیفہ کو جنم دیا تھا ، سیدنا ابوسبرہ بن ابورہم رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ سیدہ ام کلثوم بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا تھیں ، سیدنا ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ جو لوگ سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے پہلے ، پہلی مرتبہ میں حبشہ گئے تھے ، یہ لوگ واپس آ گئے ، یہ اس وقت کی بات ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل کی جس میں یہ ذکر ہے : ” اور ستارے کی قسم ہے ! جب وہ نیچے کی طرف آتا ہے “ ۔ تو مشرکین جن کا تعلق قریش سے تھا ، انہوں نے یہ کہا: اگر یہ صاحب ہمارے معبودوں کا ذکر بھلائی کے ساتھ کریں ، تو ہم انہیں اور ان کے ساتھیوں کو رہنے دیں گے ، کیونکہ یہ اپنے برخلاف دین رکھنے والے اور کسی بھی دین ، یعنی یہودیوں یا عیسائیوں کا ذکر اس طرح نہیں کرتے ہیں ، جس طرح یہ برائی اور برا کہنے کے ہمراہ ، ہمارے معبودوں کا ذکر کرتے ہیں ، جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ، جس میں اس کا ذکر ہے کہ ستارے کی قسم ہے کہ جب وہ نیچے آیا ، اس میں یہ آیت تلاوت کی : جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کے بنائے ہوئے کلمات اور اس کی آزمائش سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لاتعلق کر دیا ، تو مشرکین اپنی گمراہی اور عداوت کی طرف لوٹ گئے ، جو مسلمان حبشہ کی سرزمین پر رہتے تھے ، انہیں اس وقت اس بات کی اطلاع ملی ، جب وہ مکہ کے قریب پہنچ چکے تھے اور وہ مشکلات کی وجہ سے واپس جانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے ، کیونکہ انہیں بھوک اور خوف لاحق تھا ، لیکن انہیں یہ بھی اندیشہ تھا کہ اگر وہ مکہ میں داخل ہو گئے ، تو ان کے ساتھ زیادتیاں ہوں گی ، تو ان میں سے ہر ایک فرد کسی کی پناہ لے کر مکہ میں آیا ، ولید بن مغیرہ نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو پناہ دے دی ، جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اور آپ کے ساتھیوں کو آگ کے ذریعے اور کوڑوں کے ذریعے تکلیف دی جاتی ہے ، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خود عافیت میں رہ رہے تھے ، ان کے ساتھ یہ صورت حال نہیں تھی ، انہوں نے غور کیا اور عافیت کے مقابلے میں آزمائش کو پسند کیا اور یہ کہا: جو شخص اللہ تعالیٰ کے عہد اور اس کے ذمہ میں ہو ، اور اس کے رسول کے ذمہ میں ہو ، جسے وہ اہل اسلام میں سے اپنے ساتھیوں کے لئے اختیا کر لے ، اور جو شخص اس میں داخل ہو جائے وہ خوف زدہ ہو ، شدت اور پریشانی میں مبتلاء ہو ، تو وہ ولید بن مغیرہ کے پاس گئے اور بولے : اے چچازاد ! تم نے مجھے پناہ دی تھی ، تم نے اچھے طریقے سے پناہ دی تھی ، لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ تم مجھے ساتھ لے کر اپنے خاندان کے پاس جاؤ اور ان کے درمیان مجھ سے لاتعلقی کا اظہار کر دو ! ولید نے ان سے کہا: اے میرے بھتیجے ! شاید تمہیں کسی نے اذیت پہنچائی ہے ، یا تمہیں برا کہا: ہے ، جبکہ تم میرے ذمہ میں ہو اور تم یہ چاہتے کہ تم اس شخص کے پاس چلے جاؤ ، جو مجھ سے زیادہ اچھی پناہ دے سکتا ہے ، لیکن میں اس صورت حال میں تمہارے لئے کفایت کر جاؤں گا ، سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! ایسی کوئی بات نہیں ہے ، کوئی میرے در پے نہیں ہوا ۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس بات پر اصرار کیا کہ ولید اُن سے لاتعلقی کا اظہار کرے ، تو وہ انہیں ساتھ لے کر مسجد میں آیا ، قریش وہاں زیادہ تعداد میں موجود تھے ، ولید بن ربیعہ ، جو شاعر ہے ، وہ انہیں شعر سنا رہا تھا ، ولید نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ، وہ انہیں لے کر قریش کے پاس آیا اور بولا: یہ شخص مجھ پر غالب آ گیا ہے اور اس نے مجھے اس بات پر مجبور کیا ہے کہ میں اس کی پناہ واپس لے لوں ، میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اس سے لاتعلق ہوں ، پھر وہ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گئے ، لبید نے انہیں شعر سنانے شروع کیے اور یہ مصرعہ پڑھا : خبردار ! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے “ ۔ تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے سچ کہا: ہے ، پھر لبید نے دوسرا مصرعہ پڑھا اور یہ کہا: ” ہر چیز لازمی طور پر زائل ( یعنی ختم ) ہو جائے گی“ ۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے غلط کہا: ہے ، لوگ خاموش ہو گئے ، انہیں سمجھ نہیں آئی کہ اس کلمہ کے ذریعے کیا مراد لیا ہے ؟ پھر اس نے دوسری مرتبہ اس کو دُہرایا ، تو انہوں نے اس کے مطابق بات کی ، جب اس نے وہ مصرعہ پڑھا ، تو انہوں نے یہی بات کہی جو پہلے اور دوسرے مصرعہ کی دفعہ کہی تھی ، کہ ایک مرتبہ یہ کہا: کہ تم نے سچ کہا: ہے اور ایک مرتبہ یہ کہا: کہ تم نے غلط کہا: ہے ، تو انہوں نے اُس کی اس بات کی تصدیق کی کہ ہر چیز فنا ہو جائے گی ، تو جب اس نے یہ کہا: کہ ہر نعمت بھی ختم ہو جائے گی ، ، تو اس وقت انہوں نے اس کی بات کو جھٹلا دیا کہ اہل جنت کی نعمتیں تو کبھی زائل نہیں ہوں گی ، اس وقت قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اٹھا اور اس نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو تھپڑ مارا ، جس کی وجہ سے وہ جگہ نیلی پڑ گئی ، ولید بن مغیرہ اور ان کے ساتھیوں نے کہا: تم ایک ایسی پناہ میں تھے ، جو رکاوٹ بننے والی تھی اور بچانے والی تھی اور تم اس صورت حال سے نکل کر اس صورت حال میں آ گئے ہو کہ تمہیں جس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ، اس سے نہیں بچ پائے ، پھر وہ لوگ ہنس پڑے ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بلکہ میں نے جس صورت حال کا سامنا کیا ہے ، میں اسی میں خوش ہوں اور میری وہ آنکھ جس پر ابھی تھپڑ نہیں لگا ، وہ اس آنکھ کی بہ نسبت فقیر ہے ، جس پر تھپڑ لگا ہے ، اس پر ولید نے ان سے کہا: اگر تم چاہو تو میں دوبارہ تمہیں پناہ دے دیتا ہوں ، انہوں نے فرمایا : مجھے تمہاری پناہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ، اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ابن لہیعہ نامی راوی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ، اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ابن لہیعہ نامی راوی ہے ۔