مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ باب: حبشہ کی طرف ہجرت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : إِنَّ قُرَيْشًا بَعَثُوا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ زَمَنَ النَّجَاشِيِّ ، وَكَانَ عُمَارَةُ رَجُلًا جَمِيلًا ، وَكَانَ يَقْذِفُ عَمْرًا فِي الْبَحْرِ ، وَكَانَ يَعُومُ فَيَخْرُجُ ، ثُمَّ يُلْقِيهِ أَيْضًا ، فَيَعُومُ ، فَحَقَدَ عَمْرٌو فِي نَفْسِهِ عَلَى عُمَارَةَ مَا كَانَ يَصْنَعُ بِهِ ، فَلَمَّا قَدِمَا دَخَلَا عَلَى النَّجَاشِيِّ ، فَقَالَا لَهُ : إِنَّ جَعْفَرًا وَأَصْحَابَهُ طَعَنُوا عَلَى آبَائِهِمْ ، وَخَالَفُوهُمْ فِي دِينِهِمْ ، وَهُمْ يُخَالِفُونَكَ ، وَلَا يُحَيُّونَكَ كَمَا يُحَيِّكَ النَّاسُ ، فَوَقَعُوا فِيهِمْ ، فَبَعَثَ النَّجَاشِيُّ إِلَى جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : مَا لَكُمْ لَا تُحَيُّونِي كَمَا تُحَيِّينِي النَّاسُ ؟ قَالُوا : إِنَّ لَنَا رَبًّا لَا يَنْبَغِي أَنْ نَسْجُدَ لِغَيْرِهِ ، وَلَوْ سَجَدْنَا لِأَحَدٍ لَسَجَدْنَا لِنَبِيِّنَا قَالَ : هَلْ مَعَكُمْ مِنْ كِتَابِكُمْ شَيْءٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَرَأَ جَعْفَرٌ سُورَةَ مَرْيَمَ ، فَقَالَ : مَا تَقُولُ فِي عِيسَى ؟ قَالَ : هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : مَا تَقُولُونَ ؟ فَسَكَتُوا ، فَأَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ ، فَقَالُوا : وَاللَّهِ مَا خَالَفُوا أَمْرَ عِيسَى هَذِهِ وَإِنْ أَنْكَرْتُكُمْ ، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ آمَنْتُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : إِنْ شِئْتُمْ جَهَّزْتُكُمْ فَقَدِمْتُمْ عَلَى نَبِيِّكُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَقَمْتُمْ عِنْدِي حَتَّى يَسْتَقِرَّ مَكَانًا ، فَأَخَذَ عَمْرٌو يَعْمَلُ فِي عُمَارَةَ ، فَلَطُفَ بِامْرَأَةِ النَّجَاشِيِّ فَأَخَذَ عِطْرًا مِنْ عِطْرِهَا ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّجَاشِيِّ : إِنَّ عُمَارَةَ يَدْخُلُ عَلَى امْرَأَتِكَ ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ غَدًا وَعَلَيْهِ طِيبٌ مِنْ طِيبِهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَا طَيَّبَهُ ، فَقَالَ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَلِكِ ، فَانْطَلَقَا حَتَّى دَخَلَ فَوَجَدَ مِنْهُ رِيحَ الطِّيبِ ، فَعَرَفَ النَّجَاشِيُّ طِيبَهُ ، فَأَمَرَ النَّجَاشِيُّ بِعُمَارَةَ فَنَفَخَ فِي إِحْلِيلِهِ ، فَاسْتُطِيرَ حَتَّى لَحِقَ بِالصَّحَارَى ، يَسْعَى فِيهَا مَعَ الْوَحْشِ ، فَجَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ أَهْلَهُ فَأَصَابُوهُ ، فَسَقَوْهُ شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ فَتَعْتَعَتْهُ فَمَاتَ ، فَلَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَتْهُ وَفَاةُ النَّجَاشِيِّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤عبدالرحم بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : قریش نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو نجاشی کے زمانے میں بھیجا ، عمارہ ایک وجیہہ و شکیل شخص تھے ، انہوں نے عمرو کو سمندر میں پھینک دیا وہ غوطے کھاتے ہوئے نکلے ، پھر انہوں نے دوبارہ پھینک دیا ، وہ پھر غوطے کھاتے ہوئے نکلے ، تو عمرو نے عمارہ کے خلاف دل میں یہ بات رکھ لی ، جو انہوں نے ان کے ساتھ کیا تھا ، جب وہ دونوں نجاشی کے پاس پہنچے ، تو ان دونوں نے نجاشی سے کہا: جعفر اور ان کے ساتھی اپنے آباؤ اجداد پر الزام عائد کرتے ہیں اور ان کے دین سے مختلف رائے رکھتے ہیں اور وہ تم لوگوں کے دین سے بھی مختلف رائے رکھتے ہیں ، وہ تمہیں اس طرح سلام نہیں کرتے ہیں ، جس طرح دوسرے لوگ سلام کرتے ہیں ، یوں انہوں نے ان کے خلاف باتیں کیں ، نجاشی نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بلا لیا اور دریافت کیا : کیا وجہ ہے ؟ کہ تم لوگ مجھے اس طرح سلام نہیں کرتے ( یعنی سجدہ نہیں کرتے ) جس طرح دوسرے لوگ کرتے ہیں تو ان لوگوں نے جواب دیا : ہمارا ایک پروردگار ہے ، اس کے علاوہ کسی اور کے لئے سجدہ کرنا ، ہمارے لئے جائز نہیں ہے اگر ہم نے کسی کو سجدہ کرنا ہوتا ، تو ہم اپنے نبی کو سجدہ کرتے ، نجاشی نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس تمہاری کتاب کا کوئی حصہ ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے سورہ مریم کی تلاوت کی ، نجاشی نے دریافت کیا : تم لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : وہ اللہ کی روح ، اُس کا کلمہ ہیں ، جسے اس نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی طرف القاء کیا تھا ، نجاشی نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا : تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ وہ لوگ خاموش رہے ، نجاشی نے زمین سے کوئی چیز اپنی دو انگلیوں کے درمیان لی اور بولے : اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے معاملے کے بارے میں اتنی بھی مخالفت نہیں کی اور میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں : میں اس چیز پر ایمان لاتا ہوں ، جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے پھر اس نے کہا: اگر تم لوگ چاہو ، تو میں تمہیں ساز و سامان فراہم کر دیتا ہوں ، تم لوگ اپنے نبی کے پاس چلے جاؤ اور اگر تم چاہو تو میرے ہاں مقیم رہو ، جب تک صورت حال بہتر نہیں ہو جاتی ۔ عمرو ، عمارہ کے ساتھ تھے ، انہوں نے ، حیلے سے نجاشی کی بیوی کا عطر لے لیا ، پھر نجاشی سے کہا: عمارہ تمہاری بیوی کے پاس گیا تھا ، اس کی نشانی یہ ہے کہ کل جب وہ تمہارے پاس آئے گا ، تو اس پر تمہاری بیوی کی خوشبو لگی ہوئی ہو گی ، جب وہ اگلے دن آئے تو انہوں نے عمارہ کو خوشبو لگا دی اور کہا: چلو ! بادشاہ کے پاس چلتے ہیں ، جب وہ دونوں گئے اور بادشاہ کے پاس آئے اور بادشاہ کو اس سے اپنی بیوی کی خوشبو محسوس ہوئی ، تو نجاشی نے اس خوشبو کو پہچان لیا ، نجاشی نے عمارہ کے بارے میں حکم دیا اس کی شرمگاہ میں پھونک ماری گئی ، یہاں تک کہ وہ بے قرار ہو کر صحراء میں چلا گیا اور وحشی جانوروں کے ساتھ دوڑا پھرتا تھا ، اس کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے پاس آیا ، ان لوگوں نے اس کو پکڑا اور اسے ستو کا مشروب پلایا ، جس کی وجہ سے وہ مر گیا ۔ جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، تو اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ، نجاشی کے انتقال کی اطلاع آئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید ثقفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔