حدیث نمبر: 9850
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ فِي تَسْمِيَةِ الَّذِينَ خَرَجُوا إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَبْلَ خُرُوجِ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ : الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ، وَسَهْلُ بْنُ بَيْضَاءَ ، وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ، وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ ، وَأَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، وَلَدَتْ لَهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حُذَيْفَةَ ، وَأَبُو سَبْرَةَ بْنُ أَبِي رُهْمٍ ، وَمَعَهُ أُمُّ كُلْثُومَ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ ، وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ أُمُّ سَلَمَةَ . ¤ قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَهَبُوا الْمَرَّةَ الْأُولَى قَبْلَ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابِهِ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ الَّتِي يَذْكُرُ فِيهَا وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ قُرَيْشٍ : لَوْ كَانَ هَذَا الرَّجُلُ يَذْكُرُ آلِهَتَنَا بِخَيْرٍ أَقْرَرْنَاهُ وَأَصْحَابَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ أَحَدًا مِمَّنْ خَالَفَ دِينَهُ مِنَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى بِمِثْلِ الَّذِي يَذْكُرُ بِهِ آلِهَتَنَا مِنَ الشَّرِّ وَالشَّتْمِ ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ الَّذِي يَذْكُرُ فِيهَا وَالنَّجْمِ ، وَقَرَأَ : أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِيهَا عِنْدَ ذَلِكَ ذِكْرَ الطَّوَاغِيتِ ، فَقَالَ : وَإِنَّهُنَّ مِنَ الْعَرَانِيقِ الْعُلَا ، وَإِنَّ شَفَاعَتَهُمْ لَتُرْتَجَى ، وَذَلِكَ مِنْ سَجْعِ الشَّيْطَانِ وَفِتْنَتِهِ ، فَوَقَعَتْ هَاتَانِ الْكَلِمَتَانِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُشْرِكٍ ، وَذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ ، وَاسْتَبْشَرُوا بِهَا ، وَقَالُوا : إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ رَجَعَ إِلَى دِينِهِ الْأَوَّلِ ، وَدِينِ قَوْمِهِ . ¤ فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِرَ السُّورَةِ الَّتِي فِيهَا النَّجْمُ سَجَدَ ، وَسَجَدَ مَعَهُ كُلُّ مَنْ حَضَرَهُ مِنْ مُسْلِمٍ وَمُشْرِكٍ ، غَيْرَ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ رَجُلًا كَبِيرًا فَرَفَعَ مِلْءَ كَفِّهِ تُرَابًا فَسَجَدَ عَلَيْهِ ، فَعَجِبَ الْفَرِيقَانِ كِلَاهُمَا مِنْ جَمَاعَتِهِمْ فِي السُّجُودِ لِسُجُودِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَّا الْمُسْلِمُونَ فَعَجِبُوا مِنْ سُجُودِ الْمُشْرِكِينَ مِنْ غَيْرِ إِيمَانٍ وَلَا يَقِينٍ ، وَلَمْ يَكُنِ الْمُسْلِمُونَ سَمِعُوا الَّذِي أَلْقَى الشَّيْطَانُ عَلَى أَلْسِنَةِ الْمُشْرِكِينَ . وَأَمَّا الْمُشْرِكُونَ فَاطْمَأَنَّتْ أَنْفُسُهُمْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ لَمَّا سَمِعُوا الَّذِي أَلْقَى الشَّيْطَانُ في أُمْنِيَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثَهُمُ الشَّيْطَانُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَرَأَهَا فِي السَّجْدَةِ ، فَسَجَدُوا لِتَعْظِيمِ آلِهَتِهِمْ ، فَفَشَتْ تِلْكَ الْكَلِمَةُ فِي النَّاسِ وَأَظْهَرَهَا الشَّيْطَانُ حَتَّى بَلَغَتِ الْحَبَشَةُ ، فَلَمَّا سَمِعَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُمْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْلَمُوا ، وَصَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَلَغَهُمْ سُجُودُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَلَى التُّرَابِ عَلَى كَفِّهِ ، أَقْبَلُوا سِرَاعًا فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَمْسَى أَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَشَكَا إِلَيْهِ ، فَأَمَرَهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا بَلَغَهَا تَبَرَّأَ مِنْهَا جِبْرِيلُ قَالَ : مَعَاذَ اللَّهِ مِنْ هَاتَيْنِ ، مَا أَنْزَلَهُمَا رَبِّي ، وَلَا أَمَرَنِي بِهِمَا رَبُّكَ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَقَّ عَلَيْهِ وَقَالَ : أَطَعْتُ الشَّيْطَانَ ، وَتَكَلَّمْتُ بِكَلَامِهِ ، وَشَرَكَنِي فِي أَمْرِ اللَّهِ . فَنَسَخَ اللَّهُ مَا أَلْقَى الشَّيْطَانُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ : وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ . لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ . ¤ فَلَمَّا بَرَّأَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ سَجْعِ الشَّيْطَانِ وَفِتْنَتِهِ انْقَلَبَ الْمُشْرِكُونَ بِضَلَالِهِمْ وَعَدَاوَتِهِمْ ، وَبَلَغَ الْمُسْلِمُونَ مِمَّنْ كَانَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ ، وَقَدْ شَارَفُوا مَكَّةَ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا الرُّجُوعَ مِنْ شِدَّةِ الْبَلَاءِ الَّذِي أَصَابَهُمْ وَالْجُوعِ وَالْخَوْفِ وَخَافُوا أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ فَيُبْطَشَ بِهِمْ فَلَمْ يَدْخُلْ رَجُلٌ مِنْهُمْ إِلَّا بِجِوَارٍ ، فَأَجَارَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ ، فَلَمَّا أَبْصَرَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ الَّذِي يَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ مِنَ الْبَلَاءِ ، وَعُذِّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِالنَّارِ وَبِالسِّيَاطِ ، وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ مُعَافًى لَا يَعْرِضُ لَهُ ، رَجَعَ إِلَى نَفْسِهِ فَاسْتَحَبَّ الْبَلَاءَ عَلَى الْعَافِيَةِ ، وَقَالَ : أَمَّا مَنْ كَانَ فِي عَهْدِ اللَّهِ وَذِمَّتِهِ ، وَذِمَّةِ رَسُولِهِ الَّذِي اخْتَارَ لِأَوْلِيَائِهِ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ، وَمَنْ دَخَلَ فِيهِ فَهُوَ خَائِفٌ مُبْتَلًى بِالشِّدَّةِ وَالْكَرْبِ ، عَمِدَ إِلَى الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ عَمِّ ، أَجَرْتَنِي فَأَحْسَنْتَ جِوَارِي ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تُخْرِجَنِي إِلَى عَشِيرَتِكَ ، فَتَبْرَأَ مِنِّي بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ . فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ : ابْنَ أَخِي لَعَلَّ أَحَدًا آذَاكَ أَوْ شَتَمَكَ وَأَنْتَ فِي ذِمَّتِي ، فَأَنْتَ تُرِيدُ مَنْ هُوَ أَمْنَعُ لَكَ مِنِّي ، فَأَنَا أَكْفِيكَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا بِي ذَلِكَ ، وَمَا اعْتَرَضَ لِي مِنْ أَحَدٍ ، فَلَمَّا أَبَى عُثْمَانُ إِلَّا أَنْ يَتَبَرَّأَ مِنْهُ الْوَلِيدُ أَخْرَجَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَقُرَيْشٌ فِيهِ كَأَحْفَلِ مَا كَانُوا ، وَلَبِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الشَّاعِرُ يُنْشِدُهُمْ ، فَأَخَذَ الْوَلِيدُ بِيَدِ عُثْمَانَ فَأَتَى بِهِ قُرَيْشًا ، فَقَالَ : إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي وَحَمَلَنِي عَلَى أَنْ أَنْزِلَ إِلَيْهِ عَنْ جِوَارِي ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي بَرِيءٌ فَجَلَسَا مَعَ الْقَوْمِ ، وَأَخَذَ لَبِيدٌ يُنْشِدُهُمْ فَقَالَ : ¤ أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ . فَقَالَ عُثْمَانُ : صَدَقْتَ . ثُمَّ إِنْ لَبِيدًا أَنْشَدَهُمْ تَمَامَ الْبَيْتِ ، فَقَالَ : ¤ وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلُ . فَقَالَ : كَذَبْتَ . فَسَكَتَ الْقَوْمُ وَلَمْ يَدْرُوا مَا أَرَادَ بِكَلِمَتِهِ ، ثُمَّ أَعَادَهَا الثَّانِيَةَ ، وَأَمَرَ بِذَلِكَ ، فَلَمَّا قَالَهَا قَالَ مِثْلَ كَلِمَتِهِ الْأُولَى وَالْأُخْرَى ، صَدَقْتَ مَرَّةً وَكَذَبْتَ مَرَّةً ، وَإِنَّمَا يُصَدِّقُهُ إِذَا ذَكَرَ كُلَّ شَيْءٍ يَفْنَى ، وَإِذَا قَالَ : كُلُّ نَعِيمٍ ذَاهِبٌ كَذَّبَهُ عِنْدَ ذَلِكَ ؛ إِنَّ نَعِيمَ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَا يَزُولُ ، نَزَعَ عِنْدَ ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَلَطَمَ عَيْنَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، فَاخْضَرَّتْ مَكَانَهَا ، فَقَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَأَصْحَابُهُ : قَدْ كُنْتَ فِي ذِمَّةٍ مَانِعَةٍ مَمْنُوعَةٍ فَخَرَجْتَ مِنْهَا إِلَى هَذَا ، فَكُنْتَ عَمَّا لَقِيتَ غَنِيًّا ، ثُمَّ ضَحِكُوا ، فَقَالَ عُثْمَانُ : بَلْ كُنْتُ إِلَى هَذَا الَّذِي لَقِيتُ مِنْكُمْ فَقِيرًا ، وَعَيْنِي الَّتِي لَمْ تُلْطَمْ إِلَى مِثْلِ هَذَا الَّذِي لَقِيتُ ، صَاحِبَتُهَا فَقِيرَةٌ لِي فِيمَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكُمْ أُسْوَةً ، فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ : إِنْ شِئْتَ أَجَرْتُكَ الثَّانِيَةَ . قَالَ : لَا أَرَبَ لِي فِي جِوَارِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین

عروہ بن زبیر ، اُن لوگوں کے نام بیان کرتے ہیں : جو حبشہ کی سرزمین کی طرف پہلی مرتبہ نکلے تھے ، یہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے جانے سے پہلے کی بات ہے ( اور اُن کے نام یہ ہیں : ) سیدنا زبیر بن عوام ، رضی اللہ عنہ سیدنا سہل بن بیضاء ، رضی اللہ عنہ سیدنا عامر بن ربیعہ ، رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان بن غنی رضی اللہ عنہ ، ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا تھیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں ، سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ، سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو عبدالدار سے ہے ، سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ سہلہ بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا تھیں ، جنہوں نے حبشہ کی سرزمین پر ان کے صاحبزادے محمد بن ابوحذیفہ کو جنم دیا تھا ، سیدنا ابوسبرہ بن ابورہم رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ سیدہ ام کلثوم بنت سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہا تھیں ، سیدنا ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ جو لوگ سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے پہلے ، پہلی مرتبہ میں حبشہ گئے تھے ، یہ لوگ واپس آ گئے ، یہ اس وقت کی بات ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل کی جس میں یہ ذکر ہے : ” اور ستارے کی قسم ہے ! جب وہ نیچے کی طرف آتا ہے “ ۔ تو مشرکین جن کا تعلق قریش سے تھا ، انہوں نے یہ کہا: اگر یہ صاحب ہمارے معبودوں کا ذکر بھلائی کے ساتھ کریں ، تو ہم انہیں اور ان کے ساتھیوں کو رہنے دیں گے ، کیونکہ یہ اپنے برخلاف دین رکھنے والے اور کسی بھی دین ، یعنی یہودیوں یا عیسائیوں کا ذکر اس طرح نہیں کرتے ہیں ، جس طرح یہ برائی اور برا کہنے کے ہمراہ ، ہمارے معبودوں کا ذکر کرتے ہیں ، جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ، جس میں اس کا ذکر ہے کہ ستارے کی قسم ہے کہ جب وہ نیچے آیا ، اس میں یہ آیت تلاوت کی : جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کے بنائے ہوئے کلمات اور اس کی آزمائش سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لاتعلق کر دیا ، تو مشرکین اپنی گمراہی اور عداوت کی طرف لوٹ گئے ، جو مسلمان حبشہ کی سرزمین پر رہتے تھے ، انہیں اس وقت اس بات کی اطلاع ملی ، جب وہ مکہ کے قریب پہنچ چکے تھے اور وہ مشکلات کی وجہ سے واپس جانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے ، کیونکہ انہیں بھوک اور خوف لاحق تھا ، لیکن انہیں یہ بھی اندیشہ تھا کہ اگر وہ مکہ میں داخل ہو گئے ، تو ان کے ساتھ زیادتیاں ہوں گی ، تو ان میں سے ہر ایک فرد کسی کی پناہ لے کر مکہ میں آیا ، ولید بن مغیرہ نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو پناہ دے دی ، جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اور آپ کے ساتھیوں کو آگ کے ذریعے اور کوڑوں کے ذریعے تکلیف دی جاتی ہے ، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ خود عافیت میں رہ رہے تھے ، ان کے ساتھ یہ صورت حال نہیں تھی ، انہوں نے غور کیا اور عافیت کے مقابلے میں آزمائش کو پسند کیا اور یہ کہا: جو شخص اللہ تعالیٰ کے عہد اور اس کے ذمہ میں ہو ، اور اس کے رسول کے ذمہ میں ہو ، جسے وہ اہل اسلام میں سے اپنے ساتھیوں کے لئے اختیا کر لے ، اور جو شخص اس میں داخل ہو جائے وہ خوف زدہ ہو ، شدت اور پریشانی میں مبتلاء ہو ، تو وہ ولید بن مغیرہ کے پاس گئے اور بولے : اے چچازاد ! تم نے مجھے پناہ دی تھی ، تم نے اچھے طریقے سے پناہ دی تھی ، لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ تم مجھے ساتھ لے کر اپنے خاندان کے پاس جاؤ اور ان کے درمیان مجھ سے لاتعلقی کا اظہار کر دو ! ولید نے ان سے کہا: اے میرے بھتیجے ! شاید تمہیں کسی نے اذیت پہنچائی ہے ، یا تمہیں برا کہا: ہے ، جبکہ تم میرے ذمہ میں ہو اور تم یہ چاہتے کہ تم اس شخص کے پاس چلے جاؤ ، جو مجھ سے زیادہ اچھی پناہ دے سکتا ہے ، لیکن میں اس صورت حال میں تمہارے لئے کفایت کر جاؤں گا ، سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! ایسی کوئی بات نہیں ہے ، کوئی میرے در پے نہیں ہوا ۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس بات پر اصرار کیا کہ ولید اُن سے لاتعلقی کا اظہار کرے ، تو وہ انہیں ساتھ لے کر مسجد میں آیا ، قریش وہاں زیادہ تعداد میں موجود تھے ، ولید بن ربیعہ ، جو شاعر ہے ، وہ انہیں شعر سنا رہا تھا ، ولید نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ، وہ انہیں لے کر قریش کے پاس آیا اور بولا: یہ شخص مجھ پر غالب آ گیا ہے اور اس نے مجھے اس بات پر مجبور کیا ہے کہ میں اس کی پناہ واپس لے لوں ، میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اس سے لاتعلق ہوں ، پھر وہ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گئے ، لبید نے انہیں شعر سنانے شروع کیے اور یہ مصرعہ پڑھا : خبردار ! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز باطل ہے “ ۔ تو سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے سچ کہا: ہے ، پھر لبید نے دوسرا مصرعہ پڑھا اور یہ کہا: ” ہر چیز لازمی طور پر زائل ( یعنی ختم ) ہو جائے گی“ ۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے غلط کہا: ہے ، لوگ خاموش ہو گئے ، انہیں سمجھ نہیں آئی کہ اس کلمہ کے ذریعے کیا مراد لیا ہے ؟ پھر اس نے دوسری مرتبہ اس کو دُہرایا ، تو انہوں نے اس کے مطابق بات کی ، جب اس نے وہ مصرعہ پڑھا ، تو انہوں نے یہی بات کہی جو پہلے اور دوسرے مصرعہ کی دفعہ کہی تھی ، کہ ایک مرتبہ یہ کہا: کہ تم نے سچ کہا: ہے اور ایک مرتبہ یہ کہا: کہ تم نے غلط کہا: ہے ، تو انہوں نے اُس کی اس بات کی تصدیق کی کہ ہر چیز فنا ہو جائے گی ، تو جب اس نے یہ کہا: کہ ہر نعمت بھی ختم ہو جائے گی ، ، تو اس وقت انہوں نے اس کی بات کو جھٹلا دیا کہ اہل جنت کی نعمتیں تو کبھی زائل نہیں ہوں گی ، اس وقت قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اٹھا اور اس نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو تھپڑ مارا ، جس کی وجہ سے وہ جگہ نیلی پڑ گئی ، ولید بن مغیرہ اور ان کے ساتھیوں نے کہا: تم ایک ایسی پناہ میں تھے ، جو رکاوٹ بننے والی تھی اور بچانے والی تھی اور تم اس صورت حال سے نکل کر اس صورت حال میں آ گئے ہو کہ تمہیں جس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ، اس سے نہیں بچ پائے ، پھر وہ لوگ ہنس پڑے ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بلکہ میں نے جس صورت حال کا سامنا کیا ہے ، میں اسی میں خوش ہوں اور میری وہ آنکھ جس پر ابھی تھپڑ نہیں لگا ، وہ اس آنکھ کی بہ نسبت فقیر ہے ، جس پر تھپڑ لگا ہے ، اس پر ولید نے ان سے کہا: اگر تم چاہو تو میں دوبارہ تمہیں پناہ دے دیتا ہوں ، انہوں نے فرمایا : مجھے تمہاری پناہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ، اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ابن لہیعہ نامی راوی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9850
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8316)»