مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ باب: حبشہ کی طرف ہجرت کا بیان
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّجَاشِيَّ سَأَلَهُ : مَا دِينُكُمْ ؟ قَالَ : بُعِثَ إِلَيْنَا رَسُولٌ نَعْرِفُ لِسَانَهُ وَصِدْقَهُ وَوَفَاءَهُ ، فَدَعَانَا إِلَى أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَنَخْلَعَ مَا كَانَ يَعْبُدُ قَوْمُنَا وَغَيْرُهُمْ مِنْ دُونِهِ يَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ ، وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ وَصِلَةِ الرَّحِمِ ، فَدَعَانَا إِلَى مَا نَعْرِفُ ، وَقَرَأَ عَلَيْنَا تَنْزِيلًا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لَا يُشْبِهُ غَيْرَهُ ، فَصَدَّقْنَاهُ وَآمَنَّا بِهِ ، وَعَرَفْنَا أَنَّ مَا جَاءَ بِهِ حَقٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، فَفَارَقْنَا عِنْدَ ذَلِكَ قَوْمَنَا فَآذَوْنَا وَقَهَرُونَا ، فَلَمَّا أَنْ بَلَغُوا مِنَّا مَا نَكْرَهُ ، وَلَمْ نَقْدِرْ عَلَى أَنْ نَمْتَنِعَ مِنْهُمْ خَرَجْنَا إِلَى بَلَدِكَ ، وَاخْتَرْنَاكَ عَلَى مَنْ سِوَاكَ ، فَقَالَ النَّجَاشِيُّ : اذْهَبُوا فَأَنْتُمْ سُيُومٌ بِأَرْضِي - يَقُولُ : آمِنُونَ - مَنْ سَبَّكُمْ غَرِمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نجاشی نے ان سے دریافت کیا تمہارا دین کیا ہے ؟ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ہماری طرف ایک رسول کو مبعوث کیا گیا ہے جن کی زبان ، سچائی ، وفاشعاری کو ہم جانتے ہیں ، انہوں نے ہمیں اس بات کی طرف دعوت دی کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہرائیں اور ہماری قوم جس کی عبادت کرتی ہے اور دوسرے لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہیں ، ہم ان سے لاتعلق ہو جائیں ، وہ ہمیں نیکی کرنے کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے ہمیں منع کرتے ہیں ، وہ ہمیں نماز پڑھنے ، روزہ رکھنے ، صدقہ کرنے ، صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں جسے ہم نیکی سمجھتے ہیں وہ ہمارے سامنے قرآن کی آیات تلاوت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اور اس جیسا کلام اور کوئی نہیں ہے ، تو ہم نے اس نبی کی تصدیق کی ، ہم ان پر ایمان لائے اور ہمیں اس بات کا پتہ چل گیا کہ وہ جو چیز لے کر آئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا حق ہے ، تو اس وقت ہم نے اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر لی ، انہوں نے ہمیں اذیتیں دینی شروع کر دیں ، اور ہم پر زیادتیاں کیں ، جب یہ صورت حال ہمارے بس سے باہر ہو گئی ، اور ہم ان سے بچاؤ نہیں کر سکتے تھے ، تو ہم نکل کر تمہارے علاقے کی طرف آ گئے ، ہم نے دوسروں کی بجائے تمہیں اختیار کیا ، تو نجاشی نے کہا: تم لوگ جاؤ تم میری سرزمین پر امن کی حالت پر رہو گے ، جو شخص تمہیں برا کہے گا وہ جرمانہ دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے ابن اسحاق سے نقل کی ہے اور وہ مدلس ہے ۔