حدیث نمبر: 9847
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَنْطَلِقَ مَعَ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى النَّجَاشِيِّ فَبَلَغَ ذَلِكَ قُرَيْشًا ، فَبَعَثُوا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَجَمَعَا لِلنَّجَاشِيِّ هَدِيَّةً ، وَقَدِمَا عَلَى النَّجَاشِيِّ فَأَتَيَاهُ بِالْهَدِيَّةِ فَقَبِلَهَا وَسَجَدَا لَهُ ثُمَّ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : إِنَّ نَاسًا مِنْ أَرْضِنَا رَغِبُوا عَنْ دِينِنَا وَهُمْ فِي أَرْضِكَ ، فَقَالَ لَهُمُ النَّجَاشِيُّ : فِي أَرْضِي ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَبَعَثَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ لَنَا جَعْفَرٌ : لَا يَتَكَلَّمْ مِنْكُمْ أَحَدٌ ، أَنَا خَطِيبُكُمُ الْيَوْمَ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّجَاشِيِّ وَهُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعُمَارَةُ عَنْ يَسَارِهِ ، وَالْقِسِّيسُونَ وَالرُّهْبَانُ جُلُوسٌ سِمَاطِينَ ، وَقَدْ قَالَ لَهُ عَمْرٌو وَعُمَارَةُ : إِنَّهُمْ لَا يَسْجُدُونَ لَكَ ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا بَدَرَنَا مَنْ عِنْدَهُ مِنَ الْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ : اسْجُدُوا لِلْمَلِكِ ، فَقَالَ جَعْفَرٌ : إِنَّا لَا نَسْجُدُ إِلَّا لِلَّهِ . قَالَ لَهُ النَّجَاشِيُّ : وَمَا ذَاكَ ؟ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولًا ، وَهُوَ الرَّسُولُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ، وَأَمَرَنَا بِالْمَعْرُوفِ ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ . ¤ فَأَعْجَبَ النَّجَاشِيَّ قَوْلُهُ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَمْرٌو قَالَ : أَصْلَحَ اللَّهُ الْمَلِكَ ، إِنَّهُمْ يُخَالِفُونَكَ فِي ابْنِ مَرْيَمَ ، فَقَالَ النَّجَاشِيُّ : مَا يَقُولُ صَاحِبُكُمْ فِي ابْنِ مَرْيَمَ ؟ قَالَ : يَقُولُ فِيهِ قَوْلَ اللَّهِ : " هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَخْرَجَهُ مِنَ الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ الَّتِي لَمْ يَقْرَبْهَا بَشَرٌ ، وَلَمْ يَفْتَرِضْهَا وَلَدٌ " . فَتَنَاوَلَ النَّجَاشِيُّ عُودًا مِنَ الْأَرْضِ فَرَفَعَهُ ، فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ ، مَا يَزِيدُ هَؤُلَاءِ عَلَى مَا تَقُولُونَ فِي ابْنِ مَرْيَمَ مَا يَزِنُ هَذِهِ ، مَرْحَبًا بِكُمْ ، وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ، وَلَوْلَا مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أُقَبِّلَ نَعْلَيْهِ ، امْكُثُوا فِي أَرْضِي مَا شِئْتُمْ . وَأَمَرَ لَنَا بِطَعَامٍ وَكُسْوَةٍ ، وَقَالَ : رُدُّوا عَلَى هَذَيْنِ هَدِيَّتَهُمَا ، وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَجُلًا قَصِيرًا ، وَكَانَ عُمَارَةُ رَجُلًا جَمِيلًا ، وَكَانَا أَقْبَلَا إِلَى النَّجَاشِيِّ فَشَرِبُوا - يَعْنِي خَمْرًا - وَمَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ امْرَأَتُهُ فَلَمَّا شَرِبُوا مِنَ الْخَمْرِ ، قَالَ عُمَارَةُ لِعَمْرٍو : مُرِ امْرَأَتَكَ فَلْتُقَبِّلْنِي ، فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو : أَلَا تَسْتَحِي ؟ فَأَخَذَ عُمَارَةُ عَمْرًا فَرَمَى بِهِ فِي الْبَحْرِ ، فَجَعَلَ عَمْرٌو يُنَاشِدُ عُمَارَةَ حَتَّى أَدْخَلَهُ السَّفِينَةَ ، فَحَقَدَ عَمْرٌو عَلَى ذَلِكَ ، فَقَالَ عَمْرٌو لِلنَّجَاشِيِّ : إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ خَلَفَكَ عُمَارَةَ فِي أَهْلِكَ . فَدَعَا النَّجَاشِيُّ عُمَارَةَ فَنَفَخَ فِي إِحْلِيلِهِ فَطَارَ مَعَ الْوَحْشِ . قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدُ مِنْهُ مِقْدَارَ سَطْرٍ مِنَ الْجَنَائِزِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نجاشی کی طرف چلے جائیں قریش کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو انہوں نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو بھیجا ، ان دونوں نے نجاشی کے لئے تحائف جمع کیے ، یہ دونوں نجاشی کے پاس آئے اور تحفے لے کر اس کے پاس آئے ، تو نجاشی نے ان دونوں کے تحفوں کو قبول کر لیا ، ان دونوں نے نجاشی کے سامنے سجدہ کیا پھر عمرو بن العاص نے یہ کہا: ہماری سرزمین پر کچھ ایسے لوگ ہیں جو ہمارے دین کو چھوڑ چکے ہیں اور وہ اب آپ کی سرزمین پر رہ رہے ہیں ، نجاشی نے ان سے دریافت کیا : کیا میری سرزمین پر رہ رہے ہیں ؟ ان لوگوں نے جواب دیا جی ہاں ، پھر نجاشی نے ہمیں پیغام بھیج کر بلوایا ، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا: تم میں سے کوئی بھی شخص کلام نہیں کرے گا ، میں خطاب کروں گا جب ہم نجاشی کے پاس پہنچے تو وہ ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا ، عمرو بن العاص اس کے دائیں طرف موجود تھے اور عمارہ اس کے بائیں طرف تھے اور پادری اور راہب بیٹھے ہوئے تھے ، عمرو اور عمارہ نے ان سے کہا: ان لوگوں نے آپ کو سجدہ نہیں کیا ، جب ہم وہاں پہنچے ، تو اس کے پاس موجود پادریوں اور راہبوں میں سے ایک لپک کر ہماری طرف آیا اور بولا: بادشاہ کو سجدہ کرو ! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں ، نجاشی نے ان سے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ انہوں نے بتایا اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف رسول کو مبعوث کیا ہے ، یہ وہی رسول ہیں ، جن کے بارے میں سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے یہ خوشخبری دی تھی کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا ، جس کا نام ” أحمد ہو گا ، وہ رسول ہمیں نیکی کرنے کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے ، نجاشی کو ان کی گفتگو اچھی لگی جب عمرو نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ بادشاہ کو ٹھیک رکھے ، سیدنا ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں یہ لوگ آپ کے برخلاف عقیدہ رکھتے ہیں ، نجاشی نے دریافت کیا : تمہارے آقا سیدنا ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بیان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ، جسے اس نے کنواری مریم کی طرف بھیجا تھا ، جن کے قریب کوئی بشر نہیں گیا تھا اور جن کے ہاں بچے کی پیدائش میں کسی بشر کے فعل کا دخل نہیں ہے ، نجاشی نے زمین سے ایک تنکا پکڑا ، اسے اٹھایا اور بولا: اے راہبوں اور پادریوں کے گروہ ! سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں تم لوگ جو عقیدہ رکھتے ہو ، اس شخص نے اس سے اتنا بھی زیادہ نہیں بیان کیا ، جتنا اس تنکے کا وزن ہے ، تم لوگوں کو خوش آمدید ہے ! انہیں خوش آمدید ہے ! جن کے پاس سے تم آئے ہو ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ، وہ ، وہی فرد ہیں ، جن کے بارے میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی تھی ، اگر میرے حکومتی معاملات نہ ہوتے ، تو میں ان کے پاس جاتا اور ان کے جوتوں کو بوسہ دیتا ، تم لوگ میری سرزمین پر جب تک چاہو رہو ، پھر بادشاہ نے ہمیں اناج اور کپڑے دینے کا حکم دیا اور یہ کہا: ان دو افراد کے تحفے انہیں واپس کر دو ، عمرو بن العاص چھوٹے قد کا شخص تھا ، جبکہ عمارہ ایک وجیہہ و شکیل شخص تھا وہ دونوں نجاشی کے پاس سے آئے ، انہوں نے شراب پی ، عمرو بن العاص کے ساتھ ان کی بیوی تھی ، جب ان لوگوں نے شراب پی لی ، تو عمارہ نے عمرو سے کہا: اپنی بیوی سے کہو کہ میرا بوسہ لے ، عمرو نے اس سے کہا: کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟ عمارہ نے عمرو کو پکڑا اور انہیں سمندر میں پھینک دیا ، عمرو ، عمارہ کو واسطے دیتے رہے ، یہاں تک کہ عمارہ نے عمرو کو کشتی میں سوار کر لیا ، عمرو نے یہ بات دل میں رکھی ، پھر عمرو نے نجاشی سے کہا: جب تم نکلے تھے ، تو عمارہ تمہاری غیر موجودگی میں تمہاری بیوی کے پاس گیا تھا ، تو نجاشی نے عمارہ کو بلوایا اور اس کی شرمگاہ میں اذیت پہنچائی تو وہ وحشی جانوروں کی طرح بھاگ کھڑا ہوا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے ایک سطر جتنا حصہ جنائز سے متعلق باب میں نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9847
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح