کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کا طائف کی طرف تشریف لے جانا اور خود کو مختلف قبائل کے سامنے لانا
حدیث نمبر: 9851
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الطَّائِفِ مَاشِيًا عَلَى قَدَمَيْهِ ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَلَمْ يُجِيبُوهُ ، فَانْصَرَفَ فَأَتَى ظِلَّ شَجَرَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ ضَعْفَ قُوَّتِي ، وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ ، أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ أَنْتَ ، أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي إِلَى عَدُوٍّ يَتَجَهَّمُنِي ؟ أَمْ إِلَى قَرِيبٍ مَلَّكْتَهُ أَمْرِي ؟ إِنْ لَمْ تَكُنْ غَضْبَانَ عَلَيَّ فَلَا أُبَالِي ، غَيْرَ أَنَّ عَافِيَتَكَ أَوْسَعُ لِي ، أُعُوذُ بِوَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلُمَاتُ ، وَصَلَحَ عَلَيْهِ أَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، أَنْ يَنْزِلَ بِي غَضَبُكَ أَوْ يَحِلَّ بِي سَخَطُكَ ، لَكَ الْعُتْبَى حَتَّى تَرْضَى ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب جناب ابوطالب کا انتقال ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئے ، آپ پیدل وہاں تشریف لے گئے تھے ، آپ نے ان لوگوں کو اسلام کی دعوت کی ، انہوں نے آپ کی دعوت کو قبول نہیں کیا ، جب آپ واپس تشریف لا رہے تھے ، تو آپ ایک درخت کے سائے میں آئے ، وہاں آپ نے دو رکعت نماز ادا کی ، پھر آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! میں تیرے سامنے اپنی قوت کے کمزور ہونے اور لوگوں کے سامنے اپنی حیثیت کے کم ہونے کی شکایت کرتا ہوں تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ! تو مجھے کس کے سپرد کرے گا ؟ دشمن کے تاکہ وہ میرے ساتھ سختی سے پیش آئے ، یا کسی قریب کے سپرد کرے گا جس کو تو میرے معاملے کا نگران بنا دے اگر تو مجھ پر غضبناک نہیں ہے ، تو پھر مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے ، تاہم تیری عافیت میرے لئے زیادہ گنجائش والی ہے میں تیری اس ذات کی پناہ لیتا ہوں ، جس کی وجہ سے تاریکیاں روشن ہوتی ہیں ، اور جس کی وجہ سے دنیا اور آخرت کا معاملہ ٹھیک ہوتا ہے ( اس بات سے پناہ لیتا ہوں ) کہ تیرا غضب مجھ پر نازل ہو جائے ، یا تیری ناراضگی میرے لیے حلال ہو جائے ، عتاب کرنا تیرے ہی لیے مخصوص ہے ، یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس اور ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9851
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 9852
وَعَنْ رَقِيقَةَ قَالَتْ : لَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْتَغِي النَّصْرَ بِالطَّائِفِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَأَمَرَتْ لَهُ بِشَرَابٍ مِنْ سَوِيقٍ ، فَشَرِبَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَعْبُدِي طَاغِيَتَهُمْ ، وَلَا تَصَلِّي إِلَيْهَا " . قُلْتُ : إِذًا يَقْتُلُونِي ! قَالَ : " فَإِذَا قَالُوا لَكِ ذَلِكَ ، فَقُولِي : رَبُّ هَذِهِ الطَّاغِيَةِ ، فَإِذَا صَلَّيْتِ فَوَلِّيهَا ظَهْرَكِ " . ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عِنْدِهِمْ ، قَالَتْ بِنْتُ رَقِيقَةَ : فَأَخْبَرَنِي أَخَوَايَ سُفْيَانُ وَوَهَبُ ابْنَيْ قَيْسِ بْنِ أَبَانَ ، قَالَا : لَمَّا أَسْلَمَتْ ثَقِيفٌ خَرَجْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا فَعَلَتْ أُمُّكُمَا ؟ " . قُلْنَا : هَلَكَتْ عَلَى الْحَالِ الَّتِي تَرَكْتَهَا قَالَ : " لَقَدْ أَسْلَمَتْ أُمُّكُمَا إِذًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب طائف سے واپس تشریف لائے ، تو آپ اُن ( خاتون ) کے پاس آئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ستو کا مشروب تیار کرنے کا حکم دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پی لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم ان کے معبودوں کی عبادت نہ کرو اور نہ ہی ان کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھو ، میں نے کہا: ایسی صورت میں وہ مجھے قتل کر دیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر وہ تمہیں اس بارے میں کچھ کہیں ، تو تم یہ کہنا کہ اس طاغہ کے پروردگار کے لئے اور جب تم نماز ادا کرو ، تو اپنی پشت اس کی طرف کر لینا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس سے تشریف لے گئے ۔ سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں : میرے دو بھائیوں ، سفیان بن قیس بن ابان اور وہب بن قیس بن ابان نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ جب ثقیف قبیلے کے لوگ مسلمان ہو گئے ، تو ہم نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، آپ نے دریافت کیا : تمہاری ماں کا کیا حال ہے ؟ ہم نے کہا: اُن کا انتقال اسی حالت میں ہوا تھا ، جس پر آپ نے انہیں چھوڑا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس صورت میں ، تمہاری ماں مسلمان تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9852
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6431)»
حدیث نمبر: 9853
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْرِضُ نَفْسُهُ عَلَى النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ ، فَيَقُولُ : " هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " . فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ ، فَقَالَ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " . فَقَالَ الرَّجُلُ : مِنْ هَمْدَانَ ، فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَ قَوْمِكَ مِنْ مَنْعَةٍ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَشِيَ أَنْ يَخْفِرَهُ قَوْمُهُ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : آتِيهِمْ أُخْبِرُهُمْ ثُمَّ آتِيكَ مِنْ قَابِلٍ قَالَ : " نَعَمْ " . فَانْطَلَقَ وَجَاءَ وَفْدُ الْأَنْصَارِ فِي رَجَبٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کے موقع پر ، مختلف لوگوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور یہ فرماتے تھے : کیا کوئی شخص مجھے اپنی قوم کے پاس لے جائے گا ؟ کیونکہ قریش تو مجھے اس بات سے روکتے ہیں کہ میں اپنے پرودگار کے کلام کی تبلیغ کروں ، ہمدان قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کے پاس آیا ، آپ نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : ہمدان سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہاری قوم کے پاس مضبوط حیثیت ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر اس شخص کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں اس کی قوم اس کی عہد شکنی نہ کرے ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: میں اُن لوگوں کے پاس جا کر انہیں اس بارے میں بتاؤں گا ، پھر میں اگلے سال آپ کے پاس آؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے پھر وہ شخص چلا گیا اور پھر رجب کے مہینے میں انصار کا وفد آ گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9853
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (390/3)»
حدیث نمبر: 9854
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ : إِنِّي لَمَعَ أَبِي ، شَابٌّ ، أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتْبَعُ الْقَبَائِلَ ، وَوَرَاءَهُ رَجُلٌ أَحْمَرُ وَضِيءٌ ذُو جُمَّةٍ ، يَقِفُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْقَبِيلَةِ يَقُولُ : " يَا بَنِي فُلَانٍ ، إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ ، آمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ تُصَدِّقُونِي وَتَمْنَعُونِي ، حَتَّى أُنَفِّذَ عَنِ اللَّهِ مَا بَعَثَنِي بِهِ " . فَإِذَا فَرَغَ مِنْ مَقَالَتِهِ ، قَالَ الْآخَرُ مِنْ خَلْفِهِ : يَا بَنِي فُلَانٍ ، إِنَّ هَذَا يُرِيدُ مِنْكُمْ أَنْ تَسْلَخُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى ، وَحُلَفَاءَكُمْ مِنَ الْحَيِّ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ أَقْيَشَ إِلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنَ الْبِدْعَةِ وَالضَّلَالَةِ ، فَلَا تَسْمَعُوا لَهُ ، وَلَا تَتَّبِعُوهُ ، فَقُلْتُ لِأَبِي : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : هَذَا عَمُّهُ أَبُو لَهَبٍ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِيمَا أُوذِيَ بِهِ سَيِّدُنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعْضُهَا صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ربیعہ بن عباد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ تھا ، میں ایک نوجوان تھا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ مختلف قبائل کے پاس تشریف لے جاتے تھے ، آپ کے پیچھے ایک سرخ رنگ کا شخص موجود ہوتا تھا ، جس کا چہرہ خوبصورت تھا اور اس نے بال بڑے رکھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قبیلے کے پاس ٹھہرتے اور یہ فرماتے تھے : اے بنو فلاں ! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ، میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور تم میری تصدیق کرو اور تم میرا بچاؤ کرو ، تاکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جن چیزوں کے ہمراہ بھیجا ہے ، میں اُن کا نفاذ کروا سکوں ، جب آپ اپنی گفتگو سے فارغ ہوتے تھے ، تو آپ کے پیچھے موجود شخص یہ کہتا تھا : اے بنوفلاں ! یہ شخص تم سے یہ چاہتا ہے کہ تم لوگ لات اور عزی کو چھوڑ دو ، اور بنو مالک بن اقیش سے تعلق رکھنے والے ، اپنے قبیلے کے حلیفوں کو چھوڑ دو ، اور اس چیز کی طرف آ جاؤ ، جو بدعت اور گمراہی یہ لے کر آیا ہے ، تو تم اس کی بات نہ سنو ، اور اس کی پیروی نہ کرو ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : یہ کون شخص ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ ان کا چچا ، ابولہب ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس سے پہلے اس روایت کے مختلف طرق گزر چکے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانے سے متعلق باب میں گزرے ہیں ، اس کی بعض اسناد صحیح ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9854
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني المعجم الكبير (4589) اخرجه احمد فى المسند (492/3)»
حدیث نمبر: 9855
وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ أَبُو الْحَيْسَرِ أَنَسُ بْنُ نَافِعٍ مَكَّةَ وَمَعَهُ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فِيهِمْ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ ، يَلْتَمِسُونَ الْحِلْفَ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى قَوْمِهِمْ مِنَ الْخَزْرَجِ ، سَمِعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُمْ فَجَلَسَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُمْ : " هَلْ لَكُمْ إِلَى خَيْرٍ مِمَّا جِئْتُمْ إِلَيْهِ ؟ " . قَالُوا : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : " أَنَا رَسُولُ اللَّهِ بَعَثَنِي إِلَى الْعِبَادِ أَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يَعْبُدُوهُ ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْزَلَ عَلَيَّ كِتَابًا " . ثُمَّ ذَكَرَ الْإِسْلَامَ ، وَتَلَا عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ وَكَانَ غُلَامًا حَدَثًا : أَيْ قَوْمِ ، هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا جِئْتُمْ إِلَيْهِ قَالَ : فَأَخَذَ أَبُو الْحَيْسَرِ أَنَسُ بْنُ نَافِعٍ حَفْنَةً مِنَ الْبَطْحَاءِ فَضَرَبَ بِهَا وَجْهَ إِيَاسِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَقَالَ : دَعْنَا عَنْكَ ، فَلَعَمْرِي لَقَدْ جِئْنَا لِغَيْرِ هَذَا ، قَالَ : فَصَمَتَ إِيَاسٌ ، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُمْ ، وَانْصَرَفُوا إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَكَانَتْ وَقْعَةُ بُعَاثٍ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ قَالَ : ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ إِيَاسُ بْنُ مُعَاذٍ أَنْ هَلَكَ ، قَالَ مَحْمُودُ بْنُ لَبِيدٍ : فَأَخْبَرَنِي مَنْ حَضَرَهُ مِنْ قَوْمِي أَنَّهُ لَمْ يَزَالُوا يَسْمَعُونَهُ يُهَلِّلُ اللَّهَ ، وَيُكَبِّرُهُ ، وَيَحْمَدُهُ ، وَيُسَبِّحُهُ حَتَّى مَاتَ ، فَمَا كَانُوا يَشُكُّونَ أَنَّ قَدْ مَاتَ مُسْلِمًا لَقَدْ كَانَ اسْتَشْعَرَ الْإِسْلَامَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ حِينَ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا سَمِعَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنوعبداشہل سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : جب ابوحیسر انس بن نافع مکہ آیا ، تو اس کے ساتھ بنوعبداشہل سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان بھی تھے ، جن میں ایک ایاس بن معاذ تھے ، وہ لوگ خزرج قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف قریش سے حلیف بننے کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں سنا ، تو آپ ان کے پاس تشریف لائے ، آپ ان کے پاس آ کر بیٹھے اور ان سے فرمایا : تم جس چیز کی طرف آئے ہو ، کیا تمہیں اس سے زیادہ بہتر چیز میں دلچسپی ہے ؟ انہوں نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مجھے بندوں کی طرف مبعوث کیا ہے ، تاکہ میں ان لوگوں کو اس بات کی طرف دعوت دوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور وہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتاب بھی نازل کی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیمات کا ذکر کیا ، اور قرآن کی تلاوت ان لوگوں کے سامنے کی ، تو ایاس بن معاذ ، جو ایک نوجوان تھے ، انہوں نے یہ کہا: اے قوم ! اللہ کی قسم یہ چیز اس سے زیادہ بہتر ہے جس کی خاطر تم آئے ہو ، تو ابوحیسر انس بن نافع نے مٹھی میں مٹی لی اور وہ ایاس بن معاذ کے چہرے پر ماری اور بولے : تم ہمیں چھوڑ دو ! مجھے اپنی زندگی کی قسم ! ہم کسی اور کام کے لئے آئے ہیں ، تو ایاس خاموش ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس سے اٹھ گئے ، پھر وہ لوگ مدینہ منورہ چلے گئے ، اس کے بعد اوس اور خزرج قبیلے کے درمیان جنگ بعاث کا معاملہ پیش آیا ، اس کے کچھ عرصے بعد ایاس بن معاذ ہلاکت کا شکار ہو گئے ۔ سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری قوم کے جو افراد ان کے آخری وقت میں ان کے پاس موجود تھے ، انہوں نے یہ بات بتائی ہے کہ وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور اس کی کبریائی کا اعتراف کرتے رہے ، اس کی حمد اور پاکی بیان کرتے رہے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، انہیں اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ اُن کا انتقال مسلمان ہونے کے عالم میں ہوا تھا ، کیونکہ جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی آپ کی تبلیغ سنی تھی ، تو انہیں اسلام کا شعور حاصل ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9855
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (805) اخرجه احمد فى المسند (427/4)»