حدیث نمبر: 9840
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أُمِّهِ لَيْلَى ، قَالَتْ : كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَلَيْنَا فِي إِسْلَامِنَا ، فَلَمَّا تَهَيَّأْنَا لِلْخُرُوجِ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَأَتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا عَلَى بَعِيرِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَوَجَّهَ ، فَقَالَ : أَيْنَ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ ؟ فَقُلْتُ : آذَيْتُمُونَا فِي دِينِنَا ، فَنَذْهَبُ فِي أَرْضِ اللَّهِ لَا نُؤْذَى فِي عِبَادَةِ اللَّهِ ، فَقَالَ : صَحِبَكُمُ اللَّهُ . ثُمَّ ذَهَبَ فَجَاءَ زَوْجِي عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ مِنْ رِقَّةِ عُمَرَ ، فَقَالَ : تَرْجِينَ أَنْ يُسْلِمَ ؟ ! فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا يُسْلِمُ حَتَّى يُسْلِمَ حِمَارُ الْخَطَّابِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ ; فَهُوَ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن عامر بن ربیعہ ، اپنی والدہ سیدہ ام لیلی رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہمارے اسلام قبول کرنے کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہمارے سب سے زیادہ سخت مخالف تھے جب ہم نے حبشہ کی سرزمین کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ( جو اس وقت غیر مسلم تھے ) میں اپنے اونٹ پر سوار تھی اور میرا سفر پر روانہ ہونے کا ارادہ تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا : اے ام عبداللہ تم کہاں جا رہی ہو ؟ میں نے جواب دیا : آپ لوگ ہمارے دین کے حوالے سے ہمیں اذیت پہنچاتے ہیں ، تو ہم اللہ کی زمین پر جانے لگے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حوالے سے ہمیں اذیت نہ پہنچائی جائے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ رہے پھر وہ چلے گئے بعد میں میرے شوہر عامر بن ربیعہ آئے میں نے انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نرم دلی کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا: کیا تم یہ توقع رکھتی ہو کہ وہ مسلمان ہو جائے گا میں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو گا جب تک ( اس کے والد ) خطاب کا گدھا مسلمان نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابن اسحاق نے سماع کی صراحت کی ہے اور یہ روایت صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9840
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (29/25)»