مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ باب: حبشہ کی طرف ہجرت کا بیان
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : قَالَ جَعْفَرٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي أَنْ آتِيَ أَرْضًا أَعْبُدُ اللَّهَ فِيهَا لَا أَخَافُ أَحَدًا . قَالَ : فَأُذِنَ لَهُ فِيهَا فَأَتَى النَّجَاشِيَّ ، قَالَ عَمِيرٌ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ : لَمَّا رَأَيْتُ جَعْفَرًا وَأَصْحَابَهُ آمِنِينَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ حَسَدْتُهُ ، قُلْتُ : لَا تَسْتَقْبِلَنَّ لِهَذَا وَأَصْحَابِهِ فَأَتَيْتُ النَّجَاشِيَّ ، فَقُلْتُ : ائْذَنْ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، فَأَذِنَ لِي ، فَدَخَلْتُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ بِأَرْضِنَا ابْنَ عَمٍّ لِهَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ لِلنَّاسِ إِلَّا إِلَهٌ وَاحِدٌ ، وَإِنَّا وَاللَّهِ إِنْ لَمْ تُرِحْنَا مِنْهُ وَأَصْحَابِهِ لَا قَطَعْتُ إِلَيْكَ هَذِهِ النُّطْفَةَ ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي أَبَدًا . فَقَالَ : وَأَيْنَ هُوَ ؟ قُلْتُ : إِنَّهُ يَجِيءُ مَعَ رَسُولِكَ ; إِنَّهُ لَا يَجِيءُ مَعِي ، فَأَرْسَلَ مَعِي رَسُولًا فَوَجَدْنَاهُ قَاعِدًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، فَدَعَاهُ فَجَاءَ فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ ، نَادَيْتُ : ائْذَنْ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَنَادَى خَلْفِي : ائْذَنْ لِحِزْبِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَسَمِعَ صَوْتَهُ ، فَأَذِنَ لَهُ قَبْلِي ، فَدَخَلَ وَدَخَلْتُ ، وَإِذَا النَّجَاشِيُّ عَلَى السَّرِيرِ قَالَ : فَذَهَبْتُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَجَعَلْتُهُ خَلْفِي ، وَجَعَلْتُ بَيْنَ كُلِّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي ، فَقَالَ النَّجَاشِيُّ : نَجِّرُوا - قَالَ عَمْرٌو : يَعْنِي تَكَلَّمُوا - قُلْتُ : إِنَّ بِأَرْضِكَ رَجُلًا ابْنُ عَمِّهِ بِأَرْضِنَا ، وَيَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ لِلنَّاسِ إِلَّا إِلَهٌ وَاحِدٌ ، وَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَقْتُلْهُ وَأَصْحَابَهُ لَا أَقْطَعُ إِلَيْكَ هَذِهِ النُّطْفَةَ أَنَا وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي أَبَدًا ، قَالَ جَعْفَرٌ : صَدَقَ ابْنُ عَمِّي وَأَنَا عَلَى دِينِهِ قَالَ : فَصَاحَ صِيَاحًا ، وَقَالَ : أُوهٍ . حَتَّى قُلْتُ : مَا لِابْنِ الْحَبَشِيَّةِ لَا يَتَكَلَّمُ ؟ ! وَقَالَ : أَنَامُوسٌ ، كَنَامُوسِ مُوسَى ؟ قَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ؟ قَالَ : أَقُولُ هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ . قَالَ : فَتَنَاوَلَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ، فَقَالَ : مَا أَخْطَأَ فِي أَمْرِهِ مِثْلَ هَذَا ، فَوَاللَّهِ لَوْلَا مُلْكِي لَاتَّبَعْتُكُمْ ، وَقَالَ لِي : مَا كُنْتُ أُبَالِي أَنْ لَا تَأْتِيَنِي أَنْتَ ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ أَبَدًا . أَنْتَ آمِنٌ بِأَرْضِي مَنْ ضَرَبَكَ قَتَلْتُهُ ، وَمَنْ سَبَّكَ غَرَّمْتُهُ ، وَقَالَ لِآذِنِهِ : مَتَى اسْتَأْذَنَكَ هَذَا فَائْذَنْ لَهُ إِلَّا أَنْ أَكُونَ عِنْدَ أَهْلِي ، فَإِنْ أَتَى فَأْذَنْ لَهُ . ¤ قَالَ : فَتَفَرَّقْنَا وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْ جَعْفَرٍ قَالَ : فَاسْتَقْبَلَنِي مِنْ طَرِيقٍ مَرَّةً ، فَنَظَرْتُ خَلْفَهُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ، فَنَظَرْتُ خَلْفِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ ، وَقُلْتُ : أَتَعْلَمُ أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ قَالَ : فَقَدْ هَدَاكَ اللَّهُ فَاثْبُتْ ، فَتَرَكَنِي وَذَهَبَ ، فَأَتَيْتُ أَصْحَابِي فَكَأَنَّمَا شَهِدُوهُ مَعِي ، فَأَخَذُوا قَطِيفَةً أَوْ ثَوْبًا فَجَعَلُوهُ عَلَيَّ حَتَّى غَمُّونِي بِهَا قَالَ : وَجَعَلْتُ أُخْرِجُ رَأْسِي مِنْ هَذِهِ النَّاحِيَةِ مَرَّةً وَمِنْ هَذِهِ النَّاحِيَةِ مَرَّةً حَتَّى أَفْلَتَ ، وَمَا عَلَيَّ قِشْرَةً ، فَمَرَرْتُ عَلَى حَبَشِيَّةٍ ، فَأَخَذْتُ قِنَاعَهَا ، فَجَعَلْتُهُ عَلَى عَوْرَتِي ، فَأَتَيْتُ جَعْفَرًا فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا لَكَ ؟ فَقُلْتُ : أَخَذَ كُلَّ شَيْءٍ لِي مَا تَرَكَ عَلَيَّ قِشْرَةً فَأَتَيْتُ حَبَشِيَّةً ، فَأَخَذْتُ قِنَاعَهَا ، فَجَعَلْتُهُ عَلَى عَوْرَتِي ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى بَابِ الْمَلِكِ ، فَقَالَ جَعْفَرٌ لِآذِنِهِ : اسْتَأْذِنْ لِي . قَالَ : إِنَّهُ عِنْدَ أَهْلِهِ فَأَذِنَ لَهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ عَمْرًا تَابَعَنِي عَلَى دِينِي قَالَ : كَلَّا ، قُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ لِإِنْسَانٍ : اذْهَبْ مَعَهُ فَإِنْ فَعَلَ فَلَا تَقُلْ شَيْئًا إِلَّا كَتَبْتُهُ قَالَ : فَجَاءَ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ وَجَعَلَ يَكْتُبُ حَتَّى كَتَبَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْقَدَحَ قَالَ : وَلَوْ شِئْتَ آخُذُ شَيْئًا مِنْ أَمْوَالِهِمْ إِلَى مَالِي فَعَلْتُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ . ¤ وَصَدْرُ الْحَدِيثِ فِي أَوَّلِهِ لَهُ ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ قَالَ : ثُمَّ كُنْتُ بَعْدُ مِنَ الَّذِينَ أَقْبَلُوا فِي السُّفُنِ مُسْلِمِينَ . وَعُمَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَى أَبُو يَعْلَى بَعْضَهُ ثُمَّ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ . ¤عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں کسی ایسی سرزمین پر چلا جاؤں جہاں میں اللہ کی عبادت کروں اور مجھے کسی کا خوف نہ ہو ۔ راوی کہتے ہیں : انہیں اس چیز کی اجازت دے دی گئی وہ نجاشی کے پاس چلے گئے ۔ عمیر نامی راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی جب میں نے جعفر اور اس کے ساتھیوں کو حبشہ کی سرزمین پر امن کی حالت میں رہتے ہوئے دیکھا تو مجھے ان سے حسد ہوا میں نے کہا: انہیں اور ان کے ساتھیوں کو آئندہ یہ موقع نہیں ملے گا میں نجاشی کے پاس آیا میں نے ( دربان ) سے کہا: عمرو بن العاص کے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو اس نے مجھے اجازت دے دی میں اندر آیا میں نے کہا: ہماری سرزمین پر اس شخص کا ایک چچازاد ہے جس کا کہنا ہے کہ لوگوں کا معبود صرف ایک ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر آپ نے ہمیں ان صاحب اور ان کے ساتھیوں سے راحت نہ دلوائی تو نہ میں ، اور نہ ہی میرے ساتھیوں میں سے کوئی ، کبھی اس سمندر کے پانی سے گزر کر تم تک آ سکے گا ، نجاشی نے دریافت کیا : وہ شخص کہاں ہے ؟ میں نے جواب دیا : وہ تمہارے قاصد کے ساتھ آ جائے گا وہ میرے ساتھ نہیں آئے گا ، تو نجاشی نے میرے ساتھ اپنے پیغام رساں کو بھیجا میں نے جعفر کو اپنے ساتھیوں کے درمیان بیٹھے ہوئے پایا نجاشی نے اسے بلوایا تھا وہ آ گیا جب میں دروازے کے پاس آیا تو میں نے کہا: عمرو بن العاص کے لئے اندر آنے کی اجازت طلب کرو جعفر نے میرے پیچھے سے بلند آواز میں پکارا اللہ کے گروہ کے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو نجاشی نے اس کی آواز سن لی اور مجھ سے پہلے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی وہ اندر داخل ہوا پھر میں اندر داخل ہوا نجاشی پلنگ پر بیٹھا ہوا تھا ۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں آگے بڑھا اور نجاشی کے سامنے بیٹھ گیا میں نے جعفر کو اپنے پیچھے کر لیا اور اس کے ساتھیوں میں سے ہر دو افراد کو اپنے ساتھیوں میں سے کسی فرد کے پیچھے کر دیا نجاشی نے کہا: تم لوگ بات چیت شروع کرو میں نے کہا: آپ کی سرزمین پر ایک ایسا شخص ہے جس کا چچازاد ہماری سرزمین پر رہتا ہے اور اس کا یہ کہنا ہے کہ لوگوں کا معبود صرف ایک ہے اگر آپ نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو قتل نہ کیا ، تو نہ میں ، اور نہ ہی میرے ساتھیوں میں سے کوئی ، کبھی اس سمندر کے پانی سے گزر کر تم تک آ سکے گا ، تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے چچازاد نے ٹھیک کہا: ہے پہلے میں بھی اس کے دین پر قائم تھا پھر اس نے چیخ ماری اور بولا: اوہ ، یہاں تک کہ میں نے یہ سوچا کہ حبشی عورت کے بیٹے کو کیا ہوا کہ یہ کوئی بات ہی نہیں کر رہا پھر اس نے دریافت کیا : کیا یہ وہی فرشتہ ہے ، جو سیدنا موسیٰ کے پاس آیا تھا پھر اس نے دریافت کیا : تم لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں یہ کہتا ہوں : وہ اللہ کا روح اور اس کا کلمہ تھے ، تو نجاشی نے زمین سے کوئی چیز اٹھائی اور بولے : ان کے معاملے میں اس نے اتنی بھی غلطی نہیں کی ( جتنا یہ تنکا ہے ) ۔ اللہ کی قسم ! اگر میرے حکومتی معاملات نہ ہوتے تو میں تمہارے ساتھ جاتا پھر نجاشی نے مجھ سے کہا: مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ تم یا تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی بھی میرے پاس کبھی نہ آئے ( پھر اس نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: ) تم لوگ میری سرزمین پر امن کے ساتھ رہو گے ، جو شخص تمہیں مارے گا میں اسے قتل کروا دوں گا جو شخص تمہیں برا کہے گا میں اس پر جرمانہ عائد کروں گا پھر اس نے اپنے دربان سے کہا: کہ یہ صاحب جب بھی تم سے اندر آنے کی اجازت مانگیں تم انہیں اجازت دے دینا البتہ جب میں اپنی بیوی کے پاس موجود ہوں اس وقت ایسا نہیں ہو گا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : وہاں سے ہم بکھر گئے میری یہ خواہش تھی کہ میری جعفر سے ملاقات ہو جائے ایک دن وہ مجھے راستے میں ملے میں نے ان کے پیچھے دیکھا مجھے کوئی نظر نہیں آیا میں نے اپنے پیچھے دیکھا مجھے کوئی نظر نہیں آیا میں ان کے قریب ہوا اور میں نے کہا: کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت نصیب کر دی ہے تم ثابت قدم رہنا پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور چلے گئے میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو یوں لگا جیسے وہ لوگ اس وقت میرے ساتھ موجود تھے ( یعنی انہیں میرے اسلام قبول کرنے کا پتہ چل چکا تھا ) تو انہوں نے ایک چادر یا کپڑا لے کر اسے میرے اوپر رکھا اور مجھے اس میں بند کر دیا میں کبھی ایک طرف سے سر باہر نکالتا تھا کبھی دوسری طرف سے سر نکالتا تھا یہاں تک کہ جب میں ان سے نکل کے بھاگا ، تو میرے جسم پر لباس کے نام پر ایک دھجی بھی نہیں تھی میں ایک حبشی عورت کے پاس آیا میں نے اس کی چادر لی اس کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو ڈھانپا اور پھر جعفر کے پاس آ گیا انہوں نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے میں نے کہا: انہوں نے میری ہر چیز لے لی ہے میرے جسم پر ایک دھجی بھی نہیں رہنے دی پھر میں ایک حبشی عورت کے پاس آیا میں نے اس کی چادر لی اور اسے اپنی شرمگاہ پر باندھا ہے پھر وہ گئے ان کے ساتھ میں بھی گیا یہاں تک کہ ہم بادشاہ کے دروازے پر آئے جعفر نے دربان سے کہا: میرے لئے اندر آنے کی اجازت مانگو دربان نے کہا: بادشاہ اپنی اہلیہ کے پاس موجود ہے پھر بادشاہ نے انہیں اجازت دے دی میں نے کہا: ( یا سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: ) عمرو نے میرے دین کے حوالے سے میری پیروی کر لی ہے اس نے کہا: ہرگز نہیں میں نے کہا: جی ہاں ۔ اس نے ایک شخص سے کہا: تم اس کے ساتھ جاؤ اگر اس نے ایسا کیا ہے ، تو تم کچھ نہ کہنا بس اس کو نوٹ کر لینا پھر وہ آیا اس نے بتایا جی ہاں پھر میں نے کہنا شروع کیا اور اس نے لکھنا شروع کیا یہاں تک کہ اس نے ہر چیز لکھ لی ، یہاں تک کہ پیالہ تک لکھا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اگر میں نے ان لوگوں کے اموال میں سے کوئی چیز لینی ہوتی تو میں ایسا کر سکتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ روایت کا ابتدائی حصہ انہوں نے نقل کیا ہے اور آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : اس کے بعد میں ان افراد میں سے تھا جو کشتیوں میں مسلمان ہو کر آئے تھے ۔ عمیر نامی راوی کو ابن اسحاق ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں امام ابویعلیٰ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور پھر یہ بات بیان کی ہے ۔ اس کے بعد راوی نے طویل حدیث ذکر کی ہے ۔