مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ باب: حبشہ کی طرف ہجرت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى النَّجَاشِيِّ ، وَنَحْنُ نَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَجَعْفَرٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْفُطَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، فَأَتَوُا النَّجَاشِيَّ ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ ، فَلَمَّا دَخَلَا عَلَى النَّجَاشِيِّ سَجَدَا لَهُ ، ثُمَّ ابْتَدَرَاهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ قَالَا : إِنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عَمِّنَا نَزَلُوا أَرْضَكَ ، وَرَغِبُوا عَنَّا وَعَنْ مِلَّتِنَا قَالَ : فَأَيْنَ هُمْ ؟ قَالَا : هُمْ فِي أَرْضِكَ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ ، قَالَ جَعْفَرٌ : أَنَا خَطِيبُكُمُ الْيَوْمَ فَاتَّبَعُوهُ ، فَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْجُدْ ، فَقَالُوا لَهُ : مَا لَكَ لَا تَسْجُدُ لِلْمَلِكِ ؟ قَالَ : إِنَّا لَا نَسْجُدُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْجُدَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ . ¤ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : فَإِنَّهُمْ يُخَالِفُونَكَ فِي عِيسَى قَالَ : مَا يَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ وَأُمِّهِ ؟ قَالَ : يَقُولُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : هُوَ كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِلَى الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ ، الَّتِي لَمْ يَمَسَّهَا ، وَلَمْ يَفْتَرِضْهَا وَلَدٌ . قَالَ : فَرَفَعَ عُودًا مِنَ الْأَرْضِ ، وَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْحَبَشَةِ الْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ ، وَاللَّهِ مَا يَزِيدُونَ عَلَى الَّذِي نَقُولُ فِيهِ مَا سِوَى هَذَا ، مَرْحَبًا بِكُمْ ، وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَّهُ الَّذِي نَجِدْهُ فِي الْإِنْجِيلِ ، وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ ، انْزِلُوا حَيْثُ شِئْتُمْ ، فَوَاللَّهِ لَوْ مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَحْمِلُ نَعْلَيْهِ وَأُوَضِّئُهُ . وَأَمَرَ بِهَدِيَّةِ الْآخَرِينَ فَرُدَّتْ عَلَيْهِمَا . ¤ ثُمَّ تَعَجَّلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى أَدْرَكَ بَدْرًا ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَغْفَرَ لَهُ حِينَ بَلَغَهُ مَوْتُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَقَالَ : فِي بَعْضِ حَدِيثِهِ ضَعْفٌ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول نے ہمیں نجاشی کی طرف بھیجا ہم تقریبا اسی افراد تھے ان میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن عرفطہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ تھے یہ لوگ نجاشی کے پاس آئے قریش نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو تحائف کے ہمراہ بھیجا جب یہ دونوں لوگ نجاشی کے پاس آئے تو انہوں نے نجاشی کو سجدہ کیا پھر تیزی سے آ کے اس کے دائیں اور بائیں طرف آ گئے پھر ان دونوں نے کہا: ہمارے چچا زاد لوگوں میں سے کچھ لوگ ہیں ، جو آپ کی سرزمین پر آ کر ٹھہرے ہیں وہ ہم سے منہ موڑ چکے ہیں ہمارے دین سے منہ موڑ چکے ہیں نجاشی نے دریافت کیا : وہ کہاں ہیں ؟ ان دونوں نے کہا: وہ آپ کی سرزمین پر رہتے ہیں آپ انہیں پیغام بھیجیں نجاشی نے ان لوگوں کو پیغام بھیجا تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے ساتھیوں سے ) کہا: آج میں تمہارا خطیب ہوؤں گا پھر وہ لوگ نجاشی کے پاس گئے انہوں نے سلام کیا لیکن سجدہ نہیں کیا درباریوں نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے بادشاہ کو سجدہ کیوں نہیں کیا انہوں نے جواب دیا : ہم صرف اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں نجاشی نے دریافت کیا : کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف اپنے رسول کو مبعوث کیا ہے اور اس نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کو سجدہ نہ کریں اس نے ہمیں نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم دیا ہے عمرو بن العاص نے کہا: سیدنا عیسیٰ کے بارے میں یہ لوگ آپ سے مختلف عقیدہ رکھتے ہیں نجاشی نے کہا: سیدنا عیسیٰ بن مریم اور ان کی والدہ کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں : سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے بتایا : وہ یہ کہتے ہیں : جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ اور اس کی روح تھے جسے اللہ تعالیٰ نے کنواری پاک مریم کی طرف القاء کیا تھا ، جس خاتون کو کسی مرد نے چھوا نہیں تھا ، اور نہ ہی بچے کی پیدائش ( کسی بشر کے فعل کے نتیجے میں ہوئی تھی ) راوی کہتے ہیں : تو نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: اے حبشہ کے عبادت گزارو اور راہبو ۔ اللہ کی قسم ! وہ لوگ اس کے بارے میں اتنا بھی زیادہ نہیں کہتے جتنی یہ چھڑی ( یا تنکا ) ہے اس سے جو ہم کہتے ہیں ، تم لوگوں کو خوش آمدید ہے اور جن کے پاس سے تم آئے ہو انہیں بھی خوش آمدید ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور یہ وہی ہیں جن کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور یہ وہی ہیں جن کے بارے میں سیدنا عیسیٰ بن مریم نے خوشخبری دی تھی تم لوگ جہاں چاہو رہو ۔ اللہ کی قسم ! اگر میری بادشاہی کے معاملات نہ ہوتے تو میں ان کے پاس جاتا یہاں تک کہ میں ان کے جوتے اٹھاتا اور انہیں وضو کرواتا پھر دوسرے لوگوں کے تحفے کے بارے نجاشی نے حکم دیا کہ وہ انہیں واپس کر دیا جائے ۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حبشہ سے جلدی واپس آ گئے تھے ، یہاں تک کہ انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف بھی حاصل ہوا ان کا یہ بیان کرنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نجاشی کے انتقال کی اطلاع ملی تھی تو آپ نے اس کے لئے دعائے مغفرت کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حدیج بن معاویہ ہے جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : اس کی حدیث میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔