مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ باب: حبشہ کی طرف ہجرت کا بیان
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : بَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ مِنْ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى النَّجَاشِيِّ ، فَقَالُوا لَهُ وَنَحْنُ عِنْدُهُ : قَدْ بَعَثُوا إِلَيْكَ أُنَاسًا مِنْ سَفَلَتِنَا وَسُفَهَائِهِمْ فَادْفَعَهُمْ إِلَيْنَا قَالَ : لَا ، حَتَّى أَسْمَعَ كَلَامَهُمْ ، فَبَعَثَ إِلَيْنَا ، وَقَالَ : مَا تَقُولُونَ ؟ فَقُلْنَا : إِنَّ قَوْمَنَا يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَآمَنَّا بِهِ وَصَدَّقْنَاهُ ، فَقَالَ لَهُمُ النَّجَاشِيُّ : عَبِيدٌ هُمْ لَكُمْ ؟ قَالُوا : لَا . قَالَ : فَلَكُمْ عَلَيْهِمْ دَيْنٌ ؟ قَالُوا : لَا . قَالَ : فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : إِنَّ هَؤُلَاءِ يَقُولُونَ فِي عِيسَى غَيْرَ مَا تَقُولُونَ قَالَ : إِنْ لَمْ يَقُولُوا فِي عِيسَى مِثْلَ مَا نَقُولُ ، لَا أَدَعُهُمْ فِي أَرْضِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَكَانَتِ الدَّعْوَةُ الثَّانِيَةُ أَشَدَّ عَلَيْنَا مِنَ الْأُولَى ، فَقَالَ : مَا يَقُولُ صَاحِبُكُمْ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ؟ فَقُلْنَا : يَقُولُ : " هُوَ رُوحُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ " . قَالَ : فَأَرْسَلَ ، فَقَالَ : ادْعُوا فُلَانًا الْقِسِّيسَ ، وَفُلَانًا الرَّاهِبَ ، فَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ؟ قَالُوا : فَأَنْتَ أَعْلَمُنَا فَمَا تَقُولُ ؟ قَالَ : فَأَخَذَ النَّجَاشِيُّ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ مَا زَادَ عَلَى مَا قَالَ هَؤُلَاءِ مِثْلَ هَذَا ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : أَيُؤْذِيكُمْ أَحَدٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : مَنْ آذَى أَحَدًا مِنْ هَؤُلَاءِ فَأَغْرِمُوهُ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ قَالَ : يَكْفِيَكُمْ ؟ فَقُلْنَا : لَا ، فَأَضْعَفَهَا فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَظَهَرَ بِهَا ، قُلْنَا لَهُ : إِنَّ صَاحِبَنَا قَدْ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَظَهَرَ بِهَا ، وَهَاجَرَ قِبَلَ الَّذِينَ كُنَّا حَدَّثْنَاكَ عَنْهُمْ ، وَقَدْ أَرَدْنَا الرَّحِيلَ إِلَيْهِ فَزَوِّدْنَا قَالَ : نَعَمْ ، فَحَمَلَنَا وَزَوَّدَنَا وَأَعْطَانَا ثُمَّ قَالَ : أَخْبِرْ صَاحِبَكَ مَا صَنَعْتُ إِلَيْكُمْ ، وَهَذَا رَسُولِي مَعَكَ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي ، قَالَ جَعْفَرٌ : فَخَرَجْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ ، فَتَلَقَّانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاعْتَنَقَنِي ، فَقَالَ : " مَا أَدْرِي أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ ، أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ ؟ " . ¤ ثُمَّ جَلَسَ ، فَقَامَ رَسُولُ النَّجَاشِيِّ ، فَقَالَ : هُوَ ذَا جَعْفَرٌ فَسَلْهُ مَا صَنَعَ بِهِ صَاحِبُنَا ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَدْ فَعَلَ بِنَا ، قَدْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا ، وَحَمَلَنَا وَزَوَّدَنَا ، وَنَصَرَنَا ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَقَالَ : قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَعَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلنَّجَاشِيِّ " . فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : آمِينَ . فَقَالَ جَعْفَرٌ : فَقُلْتُ لِلرَّسُولِ : انْطَلِقْ فَأَخْبِرْ صَاحِبَكَ مَا رَأَيْتَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قریش نے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو ، ابوسفیان کی طرف سے ، تحائف کے ہمراہ نجاشی کے پاس بھیجا ، ان لوگوں نے نجاشی سے یہ کہا: ، جبکہ ہم نجاشی کے ہاں رہ رہے تھے کہ ہمارے کمتر افراد میں سے کچھ لوگ تمہاری طرف آئے ہیں ، تم انہیں ہمارے سپرد کر دو نجاشی نے کہا: ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ، جب تک میں ان کی بات نہیں سن لیتا ، پھر اس نے ہمیں پیغام بھیجا اور دریافت کیا : تم لوگوں کا کیا نظریہ ہے ؟ ہم نے کہا: ہم ایک ایسی قوم تھے کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا ہم اس پر ایمان لے آئے ہم نے اس کی تصدیق کی نجاشی نے ان ( یعنی عمرو بن العاص وغیرہ ) سے دریافت کیا : کیا وہ لوگ تمہارے غلام ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! انجاشی نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے ان سے کوئی قرض لینا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں نجاشی نے کہا: پھر ان لوگوں کو چھوڑ دو ! ہم نجاشی کے پاس سے نکلے تو عمرو بن العاص نے کہا: یہ لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں آپ لوگوں سے مختلف رائے رکھتے ہیں نجاشی نے کہا: اگر یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس کی مانند عقیدہ نہیں رکھتے ، جو ہم عقیدہ رکھتے ہیں ، تو میں انہیں دن کی ایک گھڑی کے لئے بھی اپنی سرزمین پر نہیں رہنے دوں گا ، پھر نجاشی نے ہمیں پیغام بھیجا یہ دوسرا بلاوا تھا جو ہمارے لئے پہلے سے زیادہ سخت تھا اس نے دریافت کیا تمہارے آقا سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ ہم نے جواب دیا : وہ یہ کہتے ہیں : وہ اللہ کا روح اور اس کا کلمہ تھے ، جنہیں اُس نے کنواری پاک بی بی کی طرف القاء کیا تھا ، تو نجاشی نے پیغام بھیجا اور کہا: فلاں پادری ، فلاں راہب کو بلا کے لے کے آؤ ، کچھ لوگ ان کے پاس آ گئے ، اس نے دریافت کیا : تم لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ ان پادریوں نے جواب دیا آپ اس بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں ، آپ کیا کہتے ہیں ؟ پھر نجاشی نے زمین سے کوئی چیز لی اور بولے : سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اس شخص کی بیان کی ہوئی بات سے اتنے بھی زیادہ نہیں تھے ، بالکل ویسے ہی ہیں ، پھر اس نے ان لوگوں سے کہا: کیا کوئی تمہیں اذیت پہنچاتا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نجاشی نے منادی کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کر دے کہ جو شخص ان ( مسلمانوں ) میں سے کسی کو اذیت پہنچائے گا ، اسے چار درہم جرمانہ ہو گا نجاشی نے کہا: ٹھیک ہے ؟ ہم نے کہا: جی نہیں نجاشی نے جرمانہ دگنا کر دیا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور وہاں آپ کو غلبہ حاصل ہو گیا تو ہم نے نجاشی سے کہا: ہمارے آقا مدینہ منورہ تشریف لے آئے ہیں اور وہاں انہیں غلبہ نصیب ہو گیا ہے اور انہوں نے ان لوگوں کی طرف ہجرت کی ہے جن کے بارے میں ہم تمہیں بیان کر چکے ہیں ، تو اب ہم یہاں سے روانہ ہونا چاہتے ہیں ، تم ہمیں زاد سفر دو اس نے کہا: ٹھیک ہے پھر اس نے ہمارے لیے سواریوں کا بندوبست کیا ، ہمیں زاد سفر دیا اور ادائیگیاں کیں ، پھر اس نے کہا: تم اپنے آقا کو بتا دینا ، جو میں نے تمہارے ساتھ رویہ اختیار کیا ہے ، یہ میرا قاصد تمہارے ساتھ ہے ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ، تم ان سے یہ کہنا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم وہاں سے روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ مدینہ منورہ آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم سے ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھے گلے لگا لیا اور ارشاد فرمایا : مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ مجھے خیبر کے فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہوئی ہے ، یا جعفر کے آنے کی زیادہ خوشی ہوئی ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے ، نجاشی کا قاصد کھڑا ہوا اور بولا: یہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ موجود ہیں ، آپ ان سے پوچھ لیں کہ ہمارے آقا نے ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں اس نے ہمارے ساتھ یہ کیا اور وہ کیا ، اس نے ہمیں سواریاں دیں زاد سفر دیا اور ہماری مدد کی اور اس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور اس نے یہ بھی کہا: تھا کہ تم ان سے یہ کہہ دینا کہ وہ میرے لئے دعائے مغفرت کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے آپ نے وضو کیا پھر آپ نے تین مرتبہ یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو نجاشی کی مغفرت کر دے ! “ مسلمانوں نے کہا: ” آمین “ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے قاصد سے کہا: اب تم جاؤ اور اپنے آقا کو یہ بتا دینا ، جو چیز تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھی ہے ۔