کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سر مونڈوانا بال چھوٹے کروانا ، نیز نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان :’’ صرف حج اور عمرہ میں بال مونڈے جائیں گے “
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُوضَعُ النَّوَاصِي إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَغَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( ثواب کے حصول کی خاطر ) صرف حج اور عمرہ میں بال مونڈے جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ اس حدیث اور دیگر روایات کے حوالے سے ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ اس حدیث اور دیگر روایات کے حوالے سے ضعیف ہے ۔
وَعَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنْتُ أُرَحِّلُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ لِي لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي : " يَا مَعْمَرُ ، لَقَدْ وَجَدْتُ اللَّيْلَةَ فِي أَنْسَاعِي اضْطِرَابًا ؟ " . قَالَ : فَقُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَقَدْ شَدَدْتُهَا كَمَا كُنْتُ أَشُدُّهَا ، وَلَكِنْ أَرْخَاهَا مَنْ قَدْ كَانَ نَفِسَ عَلَيَّ مَكَانِي مِنْكَ ; لِتَسْتَبْدِلَ بِي غَيْرِي . فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي غَيْرُ فَاعِلٍ " . قَالَ : فَلَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ بِمِنًى أَمَرَنِي أَنْ أَحْلِقَهُ قَالَ : فَأَخَذْتُ الْمُوسَى فَقُمْتُ عَلَى رَأْسِهِ قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي فَقَالَ لِي : " يَا مَعْمَرُ ، أَمْكَنَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَحْمَةِ أُذُنِهِ ، وَفِي يَدِكَ الْمُوسَى " . فَقُلْتُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ نِعَمِهِ عَلَيَّ وَمِنَّتِهِ ! قَالَ : أَجَلْ " إِذَنْ أُقِرُّ لَكَ " . قَالَ : ثُمَّ حَلَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُقْبَةَ مَوْلَى مَعْمَرٍ ; ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يُوَثَّقْ وَلَمْ يُجَرَّحْ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پالان تیار کیا کرتا تھا ایک رات آپ نے مجھ سے فرمایا : اے معمر ! گزشتہ رات میں نے اپنے پالان میں اضطراب محسوس کیا میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا میں نے تو اسے اسی طرح باندھا تھا جس طرح میں پہلے باندھا کرتا تھا لیکن شاید اسے اس شخص نے ڈھیلا کر دیا ہو گا جو میری جگہ یہ خدمت لینا چاہتا ہے تاکہ آپ میری جگہ کسی اور کو یہ خدمت سپرد کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ایسا نہیں کروں گا راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں قربانی کے جانور کو قربان کر لیا تو آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں آپ کا سر مونڈ دوں راوی بیان کرتے ہیں : میں نے استرا پکڑا اور آپ کے سر کے پاس آ کر کھڑا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر مجھ سے ارشاد فرمایا : اے معمر ! اللہ کے رسول نے اپنے کانوں کی لو تمہارے ق ابومیں دے دی ہے اور تمہارے ہاتھ میں استرا ہے میں نے عرض کی : اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! یہ ان کی نعمت ہے اور احسان ہے ، جو مجھ پر ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے پھر میں تمہیں برقرار رکھتا ہوں راوی بیان کرتے ہیں : تو پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مونڈ دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معمر کا غلام عبدالرحمن بن عقبہ ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے اس کی نہ توثیق کی گئی ہے اور نہ اس پر جرح کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معمر کا غلام عبدالرحمن بن عقبہ ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے اس کی نہ توثیق کی گئی ہے اور نہ اس پر جرح کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : حَلَقَ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں قربانی کے دن معمر بن عبداللہ عدوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مونڈا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
وَعَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ جنہیں حجتہ الوداع میں شرکت کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! تو سر مونڈوانے والوں کی مغفرت کر دے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو سر مونڈوانے والوں کی مغفرت کر دے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی ؟ تیسری مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا اور بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی ( مغفرت کر دے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " . قَالَ : يَقُولُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " . ثُمَّ قَالَ : فَأَنَا يَوْمَئِذٍ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ فَمَا يَسُرُّنِي بِحَلْقِ رَأْسِي حُمْرُ النَّعَمِ أَوْ خَطَرًا عَظِيمًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ یہ کہہ رہے تھے : ” اے اللہ ! تو سر مونڈوانے والوں کی مغفرت کر دے اے اللہ ! تو سر مونڈوانے والوں کی مغفرت کر دے حاضرین میں سے ایک نے عرض کی اور بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یا شاید چوتھی مرتبہ میں فرمایا اور بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی ( مغفرت کر دے ) پھر آپ نے ارشاد فرمایا : آج میں نے سر مونڈوایا ہوا ہے اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ سر مونڈوانے کے عوض میں مجھے سرخ اونٹ مل جائیں ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) یا عظیم چیز مل جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ قَارِبٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " . قَالَ رَجُلٌ : وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " . يُقَلِّلُهُ سُفْيَانُ بِيَدِهِ ، وَقَالَ سُفْيَانُ : وَقَالَ : فِي تِيكَ كَأَنَّهُ يُوشِغُ يَدَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قارب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا اے اللہ ! سر مونڈوانے والوں کی مغفرت کر دے ایک صاحب نے عرض کی اور بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی ؟ چوتھی مرتبہ میں آپ نے فرمایا : اور بال چھوٹے کروانے والوں کی بھی سفیان نامی راوی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات بیان کی کہ یہ کم حیثیت رکھتا ہے ، سفیان کہتے ہیں : انہوں نے یوں اشارہ کیا جس طرح کسی چیز کے کم ہونے کو ظاہر کر رہے ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے ۔
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ جَدَّتِهِ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا فِي الثَّالِثَةِ : وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن حصین اپنی دادی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ یہ فرما رہے تھے : اللہ تعالیٰ سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے اللہ تعالیٰ سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے اللہ تعالیٰ سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے تیسری مرتبہ لوگوں نے عرض کی اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ؟ آپ نے فرمایا : اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ( اللہ تعالیٰ رحم کرے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصْحَابُهُ إِلَّا أَبُو قَتَادَةَ وَعُثْمَانُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " فِي الثَّالِثَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَفِيهِ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ جَهَّلَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے سر مونڈوا لیا صرف سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسا نہیں کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالٰی سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ میں یہ ارشاد فرمایا : اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ( رحم کرے ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابوابراہیم انصاری ہے ، جسے ابوحاتم نے مجہول قرار دیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابوابراہیم انصاری ہے ، جسے ابوحاتم نے مجہول قرار دیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ غَيْرَ عُثْمَانَ وَأَبِي قَتَادَةَ ، فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثَةً وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے احرام باندھا ہوا تھا صرف سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے نہیں باندھا ہوا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مونڈوانے والوں کے لئے دو مرتبہ دعائے مغفرت کی اور بال چھوٹے کروانے والوں کے لئے ایک مرتبہ ( دعائے مغفرت کی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ابراہیم نامی راوی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ابراہیم نامی راوی ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ : " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے ہم نے عرض کی : اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی سر مونڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ؟ تیسری یا چوتھی مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور بال چھوٹے کروانے والوں پر بھی ( اللہ تعالیٰ رحم کرے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
وَعَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي أَحْرَمْتُ وَجَمَعْتُ شَعْرِي ؟ فَقَالَ : أَمَا سَمِعْتَ عُمَرَ فِي خِلَافَتِهِ قَالَ : مَنْ ضَفَّرَ رَأْسَهُ أَوْ لَبَّدَهُ فَلْيَحْلِقْ ؟ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي لَمْ أُضَفِّرْهُ ، وَلَكِنِّي جَمَعْتُهُ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : عَنْزٌ وَتَيْسٌ ، وَتَيْسٌ وَعَنْزٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک شخص نے ان سے سوال کیا اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! میں نے احرام باندھ لیا اور اپنے بال اکھٹے کر لیے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا تم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی خلافت کے دوران یہ فرماتے نہیں سنا کہ جس شخص نے اپنے بالوں کی مینڈھاں بنا لی ہوں یا ان کی تلبید کر لی ہو ، تو وہ سر مونڈوا لے اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن میں نے ان کی مینڈھیاں نہیں بنائی تھیں بلکہ میں نے انہیں اکٹھا کر لیا تھا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تیس اور عنز اور عنز اور تیس ( دونوں ایک ہی چیز ہوتا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔