حدیث نمبر: 5605
وَعَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي أَحْرَمْتُ وَجَمَعْتُ شَعْرِي ؟ فَقَالَ : أَمَا سَمِعْتَ عُمَرَ فِي خِلَافَتِهِ قَالَ : مَنْ ضَفَّرَ رَأْسَهُ أَوْ لَبَّدَهُ فَلْيَحْلِقْ ؟ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي لَمْ أُضَفِّرْهُ ، وَلَكِنِّي جَمَعْتُهُ ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : عَنْزٌ وَتَيْسٌ ، وَتَيْسٌ وَعَنْزٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک شخص نے ان سے سوال کیا اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! میں نے احرام باندھ لیا اور اپنے بال اکھٹے کر لیے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا تم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی خلافت کے دوران یہ فرماتے نہیں سنا کہ جس شخص نے اپنے بالوں کی مینڈھاں بنا لی ہوں یا ان کی تلبید کر لی ہو ، تو وہ سر مونڈوا لے اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن میں نے ان کی مینڈھیاں نہیں بنائی تھیں بلکہ میں نے انہیں اکٹھا کر لیا تھا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تیس اور عنز اور عنز اور تیس ( دونوں ایک ہی چیز ہوتا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5605
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13062)»