کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: احرام والا شخص کب حلال ہوتا ہے ؟
حدیث نمبر: 5593
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ - الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ - ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَنَحَرَ هَدْيًا ، ثُمَّ حَلَقَ ، فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حَرُمَ عَلَيْهِ مِنْ شَأْنِ الْحَجِّ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ أَثَرٌ مَوْقُوفٌ عَلَيْهِ ، وَفِيهِ إِلَّا النِّسَاءَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص عقبہ کے پاس موجود جمرہ کو سات کنکریاں مار لے اور پھر واپس آ جائے اور قربانی کے جانور کو ذبح کر لے پھر وہ سر مونڈوا دے تو حج کے حوالے سے جو چیز اس پر حرام تھی وہ اس کے لئے حلال ہو جاتی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک اثر منقول ہے ، جو ان پر موقوف ہے اور اس میں یہ مذکور ہے ، البتہ خواتین کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5593
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5594
وَعَنْ عَطَاءٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ وَذَبَحَ وَحَلَقَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جمرہ کو کنکریاں مار لیں ( قربانی کا جانور ) ذبح کر لیا اور سر مونڈوا لیا تو خواتین کے علاوہ ہر چیز کے حوالے سے آپ حلال ہو جاتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور
یہ روایت ” مرسل“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5594
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4464)»