حدیث نمبر: 5596
وَعَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كُنْتُ أُرَحِّلُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ لِي لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي : " يَا مَعْمَرُ ، لَقَدْ وَجَدْتُ اللَّيْلَةَ فِي أَنْسَاعِي اضْطِرَابًا ؟ " . قَالَ : فَقُلْتُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَقَدْ شَدَدْتُهَا كَمَا كُنْتُ أَشُدُّهَا ، وَلَكِنْ أَرْخَاهَا مَنْ قَدْ كَانَ نَفِسَ عَلَيَّ مَكَانِي مِنْكَ ; لِتَسْتَبْدِلَ بِي غَيْرِي . فَقَالَ : " أَمَا إِنِّي غَيْرُ فَاعِلٍ " . قَالَ : فَلَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ بِمِنًى أَمَرَنِي أَنْ أَحْلِقَهُ قَالَ : فَأَخَذْتُ الْمُوسَى فَقُمْتُ عَلَى رَأْسِهِ قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي فَقَالَ لِي : " يَا مَعْمَرُ ، أَمْكَنَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَحْمَةِ أُذُنِهِ ، وَفِي يَدِكَ الْمُوسَى " . فَقُلْتُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ نِعَمِهِ عَلَيَّ وَمِنَّتِهِ ! قَالَ : أَجَلْ " إِذَنْ أُقِرُّ لَكَ " . قَالَ : ثُمَّ حَلَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُقْبَةَ مَوْلَى مَعْمَرٍ ; ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يُوَثَّقْ وَلَمْ يُجَرَّحْ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پالان تیار کیا کرتا تھا ایک رات آپ نے مجھ سے فرمایا : اے معمر ! گزشتہ رات میں نے اپنے پالان میں اضطراب محسوس کیا میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا میں نے تو اسے اسی طرح باندھا تھا جس طرح میں پہلے باندھا کرتا تھا لیکن شاید اسے اس شخص نے ڈھیلا کر دیا ہو گا جو میری جگہ یہ خدمت لینا چاہتا ہے تاکہ آپ میری جگہ کسی اور کو یہ خدمت سپرد کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ایسا نہیں کروں گا راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں قربانی کے جانور کو قربان کر لیا تو آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں آپ کا سر مونڈ دوں راوی بیان کرتے ہیں : میں نے استرا پکڑا اور آپ کے سر کے پاس آ کر کھڑا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر مجھ سے ارشاد فرمایا : اے معمر ! اللہ کے رسول نے اپنے کانوں کی لو تمہارے ق ابومیں دے دی ہے اور تمہارے ہاتھ میں استرا ہے میں نے عرض کی : اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! یہ ان کی نعمت ہے اور احسان ہے ، جو مجھ پر ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے پھر میں تمہیں برقرار رکھتا ہوں راوی بیان کرتے ہیں : تو پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مونڈ دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معمر کا غلام عبدالرحمن بن عقبہ ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے اس کی نہ توثیق کی گئی ہے اور نہ اس پر جرح کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5596
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (447/20) اخرجه احمد فى المسند (400/6)»