کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جو کسی کے باغ یا اس کے مویشیوں کے پاس سے گزرے۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ مَرَّ لِرَجُلٍ بِزَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ مِنْ مَالِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَخْذُ شَيْءٍ مِنْهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ؛ لِأَنَّ هَذَا مِمَّا لَمْ يَأْتِ فِيهِ كِتَابٌ وَلَا سُنَّةٌ ثَابِتَةٌ بِإِبَاحَتِهِ، فَهُوَ مَمْنُوعٌ لِمَالِكِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ: وَقَدْ قِيلَ: مَنْ مَرَّ بِحَائِطٍ فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً. وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ لَوْ كَانَ يَثْبُتُ مِثْلُهُ عِنْدَنَا لَمْ نُخَالِفْهُ، وَالْكِتَابُ وَالْحَدِيثُ الثَّابِتُ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَكْلُ مَالِ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا قَائِلُ هَذَا الْقَوْلِ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب کوئی کسی آدمی کی کھیتی، باغ، پھل یا مویشیوں کے پاس سے گزرے تو بغیر اجازت کے کچھ نہ لے۔ کیونکہ اس کے جائز ہونے کے بارے میں نہ قرآن میں کچھ آیا ہے اور نہ کوئی ثابت سنت۔ صرف مالک کی اجازت سے ممکن ہے، واللہ اعلم۔ فرماتے ہیں: یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو باغ کے پاس سے گزرے وہ کھا لے، لیکن جھولی بھر کر نہ لے جائے۔ اس بارے میں ایک حدیث بھی روایت کی گئی ہے، اگر اس جیسی حدیث ہمارے نزدیک ثابت ہوتی تو ہم اس کی مخالفت نہ کرتے، لیکن قرآن اور ثابت حدیث یہ بتاتے ہیں کہ کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر کھانا جائز نہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ بات کہنے والے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19648
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَنْ مَرَّ مِنْكُمْ بِحَائِطٍ فَلْيَأْكُلْ فِي بَطْنِهِ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً.
حافظ ثناء اللہ
ابو عیاض سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جو باغ سے گزرے اپنا پیٹ بھرے لیکن جھولی بھر کر نہ لے جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19649
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَأَمِّرُوا عَلَيْكُمْ وَاحِدًا مِنْكُمْ، فَإِذَا مَرَرْتُمْ بِرَاعِي الْإِبِلِ فَنَادُوا: يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ، فَإِنْ أَجَابَكُمْ فَاسْتَسْقُوهُ، وَإِنْ لَمْ يُجِبْكُمْ فَأْتُوهَا فُحُلُّوهَا وَاشْرَبُوا ثُمَّ صُرُّوهَا. ⦗٦٠٣⦘ هَذَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَحِيحٌ بِإِسْنَادَيْهِ جَمِيعًا، وَهُوَ عِنْدَنَا مَحْمُولٌ عَلَى حَالِ الضَّرُورَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم تین ہو تو ایک کو امیر مقرر کر لیا کرو اور جب تم اونٹوں کے چرواہے کے پاس سے گزرو تو آواز دیا کرو: اے اونٹوں کے چرواہے! اگر وہ تمہاری آواز سن کر آ جائے تو دودھ پینے کا مطالبہ کر دو، وگرنہ دودھ دوہ کر پی لو اور اونٹنی کے تھن پھر بند کر دو، لیکن یہ بوقتِ ضرورت ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت دونوں سندوں کے ساتھ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19650
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي رُوِيَ فَفِيمَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ دَخَلَ حَائِطًا فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً ". أَخْبَرَنَاهُ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ فَذَكَرَهُ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں: ”جو شخص باغ میں داخل ہو، پھل توڑ کر کھا لے، لیکن جھولی بھر کر نہ لے جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19651
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، قَالَ: وَذُكِرَ لِأَبِي زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بِالْحَائِطِ فَيَأْكُلُ مِنْهُ، قَالَ: هَذَا غَلَطٌ. وَقَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ يَرْوِي أَحَادِيثَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ يَهِمُ فِيهَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ لَيْسَتْ بِقَوِيَّةٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو زکریا یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے سامنے یحییٰ بن سلیم طائفی کی وہ حدیث ذکر کی گئی جو وہ عبیداللہ سے ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو باغ کے پاس سے گزرتا ہے اور اس میں سے کھا لیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ غلط ہے۔“ امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل (بخاری) رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یحییٰ بن سلیم، عبیداللہ سے ایسی احادیث روایت کرتے ہیں جن میں انہیں وہم ہو جاتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے جو قوی نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19652
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ لابن معين»
فَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الضَّالَّةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ الثِّمَارِ يُصِيبُهُ الرَّجُلُ، قَالَ: " مَا أَخَذَ فِي أَكْمَامِهِ - يَعْنِي رُءُوسَ النَّخْلِ - فَاحْتَمَلَهُ فَثَمَنُهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَضَرْبٌ نَكَالٌ، وَمَا كَانَ فِي أَجْرَانِهِ فَأَخَذَ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، وَإِنْ أَكَلَ بِفِيهِ وَلَمْ يَأْخُذْ فَيَتَّخِذْ خُبْنَةً فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ ". وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ عَلَى أَنْ لَيْسَ عَلَيْهِ فِيهِ قَطْعٌ حِينَ لَمْ يُخْرِجْهُ مِنَ الْحِرْزِ.
حافظ ثناء اللہ
مزینہ قبیلے کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جو باغ کے پھل توڑ لیتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کھجور سے توڑ کر ساتھ لے لیا تو اس کی قیمت اور اتنی ہی مزید ادا کرنا ہوگی اور عبرت ناک سزا دینا ہوگی۔ جس نے ڈھیر سے اٹھا لیا، اگر وہ ڈھال کی قیمت جتنا ہوا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن اگر اس نے صرف کھایا، ساتھ نہیں لیا اس پر کوئی حد نہیں۔“
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ حدیث صحیح ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں، کیونکہ اس نے پھل کو محفوظ جگہ سے نہیں نکالا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19653
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، وَإِلَّا فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ. قَالَ الشَّيْخُ: أَحَادِيثُ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ لَا يُثْبِتُهَا بَعْضُ الْحُفَّاظِ، وَيَزْعُمُ أَنَّهَا مِنْ ⦗٦٠٤⦘ كِتَابٍ غَيْرَ حَدِيثِ الْعَقِيقَةِ الَّذِي قَدْ ذُكِرَ فِيهِ السَّمَاعُ، وَإِنْ صَحَّ فَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى حَالِ الضَّرُورَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم جانور کے پاس آؤ، وہاں ان کا مالک ہو تو اجازت لے کر دودھ دوہ کر پی لو۔ اگر مالک نہ ہو تو تین آوازیں لگاؤ۔ اگر مالک آجائے تو اجازت لے لو، وگرنہ دودھ دوہ کر پی لو، ساتھ نہ لے جاؤ۔“
شیخ فرماتے ہیں: حسن کی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ احادیث کو بعض حفاظ ثابت نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ یہ ایک کتاب سے لی گئی ہیں، سوائے عقیقہ والی حدیث کے جس میں سماع کا ذکر ہے۔ اگر یہ حدیث صحیح ہو تب یہ بوقتِ ضرورت ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19654
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَمِنْهَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى رَاعٍ فَلْيُنَادِ: يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلَنَّ، وَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى حَائِطٍ فَلْيُنَادِ ثَلَاثًا: يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ، فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَحْمِلَنَّ ". تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ إِلَّا أَنَّهُ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ، وَسَمَاعُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْهُ بَعْدَ اخْتِلَاطِهِ. وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخِلَافِ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اونٹوں کے چرواہوں کے پاس آؤ تو تین آوازیں دو، اگر کوئی جواب ملے تو درست، وگرنہ دوہ لو، پی لو اور ساتھ نہ لے جاؤ؛ اور جب تم کسی کے باغ میں آؤ تو تین آوازیں لگا لیا کرو، اگر جواب مل جائے تو درست ہے، وگرنہ باغ کا پھل کھا لینے کی اجازت ہے، لیکن ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں سعید بن ایاس جریری منفرد ہیں، وہ ثقہ راویوں میں سے ہیں مگر آخری عمر میں ان کا حافظہ خلط ملط ہو گیا تھا اور یزید بن ہارون نے ان سے اختلاط کے بعد سنا ہے۔ اسے حماد بن سلمہ نے بھی جریری سے روایت کیا ہے اور یہ قوی نہیں ہے، اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی اس کے خلاف روایت بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19655
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَحُلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ أَهْلِهَا، فَإِنَّ خَاتَمَ أَهْلِهَا عَلَيْهَا. فَقِيلَ لِشَرِيكٍ: أَرَفَعَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا يوَافِقُ الْحَدِيثَ الثَّابِتَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ، وَقَدْ مَضَى فِي الْبَابِ قَبْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (نبی کریم ﷺ نے فرمایا): ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ گھر والوں کی اجازت کے بغیر اونٹنی کے دودھ دوہنے کے لیے تھن کھولے؛ کیونکہ اس کے گھر والوں نے اس پر مہر ثبت کر رکھی ہوئی ہے۔“ جب شریک سے کہا گیا: ”کیا آپ اس کو مرفوع بیان کرتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، مرفوع بیان کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19656
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَإِنَّمَا يُوَجَّهُ هَذَا الْحَدِيثُ يَعْنِي حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فِي الرُّخْصَةِ أَنَّهُ رَخَّصَ فِيهِ لِلْجَائِعِ الْمُضْطَرِّ الَّذِي لَا شَيْءَ مَعَهُ يَشْتَرِي بِهِ، وَهُوَ مُفَسَّرٌ فِي حَدِيثٍ آخَرَ حَدَّثَنَاهُ الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْجَائِعِ الْمُضْطَرِّ إِذَا مَرَّ بِالْحَائِطِ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، وَلَا يَتَّخِذَ خُبْنَةً. ⦗٦٠٥⦘ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَمِمَّا يبَيِّنُ ذَلِكَ حَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْأَنْصَارِ الَّذِينَ مَرُّوا بِحَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَسَأَلُوهُمُ الْقِرَى فَأَبَوْا، فَسَأَلُوهُمُ الشِّرَى فَأَبَوْا، فَضَبَطُوهُمْ فَأَصَابُوا مِنْهُمْ، فَأَتَوْا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَهَمَّ بِالْأَعْرَابِ، وَقَالَ: ابْنُ السَّبِيلِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ مِنَ التَّانِئِ عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَاهُ حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَهَذَا مُفَسَّرٌ إِنَّمَا هُوَ لِمَنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى قِرًى وَلَا شِرًى. وَكَذَلِكَ قَالَ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ: لِيُصَوِّتْ، يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا؛ لِيَكُونَ طَلَبُ الْقِرَى قَبْلُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي مِثْلِ هَذَا مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الْإِبِلُ نَلْقَاهَا وَنَحْنُ مُحْتَاجُونَ وَهِيَ مُصَرَّاةٌ. قَالَ: " تُنَادِي يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَكَ، وَإِلَّا فَاحْلُبْ ثُمَّ دَعْ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهُ ". زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: وَاحْلُبْ ثُمَّ صُرَّ وَبَقِّ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عمرو بن شعیب کی احادیث میں رخصت ہے، ایسا انسان جو کچھ خرید نہیں سکتا اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب باغ کے پاس سے گزرے تو کھا لے لیکن جھولی بھر کر نہ لے جائے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ انصار ایک عرب قبیلہ کے پاس سے گزرے، جب ان سے مہمانی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے ان سے کچھ مال لے لیا۔ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے دیہاتی لوگوں کا قصد کیا اور فرمایا: مسافر لوگ جس پانی کے چشمہ پر واقع ہوں اس کے زیادہ حق دار ہوتے ہیں۔ ابو عبید رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر یہ بیان کی، جو مہمان نوازی اور کچھ خریدنے کی طاقت نہ رکھے۔ وہ چرواہے کو تین آوازیں لگائے تاکہ وہ اس سے مہمانی کا مطالبہ کر سکے۔
شیخ فرماتے ہیں: قاسم بن مخول اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: ہم اونٹوں سے ملتے ہیں ہمیں دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ انہوں نے دودھ روکا ہوتا ہے تو ”چرواہے کو تین آوازیں دو۔ اگر جواب ملے تو درست وگرنہ دودھ دوہ لیا کرو۔ پھر دوہنے والوں کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ پھر دودھ اور دودھ روک دے تاکہ چرواہے دودھ دوہ سکیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19657
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللهِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا إِبِلٌ مُصَرَّرَةٌ بِعِضَاهِ الشَّجَرِ فَانْطَلَقَ نَاسٌ لِيَحْتَلِبُوا، فَدَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَاسًا عَمَدُوا إِلَى مَزَاوِدِكُمْ فِيهَا أَزْوِدَتُكُمْ فَأَخَذُوا مَا فِيهَا لَكَانُوا غَدَرُوكُمْ؟ " قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: " هَذِهِ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، إِنَّ مَا فِي ضُرُوعِهَا مِثْلُ مَا فِي أَزْوِدَتِكُمْ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ أَخِيهِ؟ قَالَ: " أَنْ يَأْكُلَ وَلَا يَحْمِلَ، وَيَشْرَبَ وَلَا يَحْمِلَ ". هَذَا إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ الْحُجَّةُ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْحَجَّاجِ مَا دَلَّ أَنَّهُ فِي الْمُضْطَرِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ کچھ اونٹ کانٹے دار درختوں کے پاس تھے جن کے تھن باندھے ہوئے تھے۔ لوگ ان کا دودھ دوہنے گئے۔ آپ ﷺ نے بلا لیا اور فرمایا: ”اگر لوگ تمہارے مشکیزے میں موجود چیز کا قصد کریں اور تمہاری کھانے کی اشیاء لے جائیں تو انہوں نے تمہارے ساتھ غدر کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ہاں! فرمایا: ”یہ بھی مسلمان گھروں کی مانند ہیں جو ان کے تھنوں میں موجود ہے۔ وہ تمہارے مشکیزوں میں موجود اشیاء کی مانند ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے بھائی کے مال سے حلال چیز کے متعلق پوچھا تو فرمایا: ”کھائے پیے لیکن ساتھ نہ لے کر جائے۔“
یہ سند مجہول ہے، اس جیسی سند سے دلیل قائم نہیں ہوتی، اور حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں ہیں۔ حجاج سے ایک دوسری سند سے بھی روایت کی گئی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ مجبور (مضطر) شخص کے بارے میں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19658
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْحَجَّاجِ، ⦗٦٠٦⦘ عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ رَأَيْنَا إِبِلًا مَصْرُورَةً بِعِضَاهِ الشَّجَرِ. قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقُلْنَا: أَفَرَأَيْتَ إِنِ احْتَجْنَا إِلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ؟ فَقَالَ: " كُلْ وَلَا تَحْمِلْ، وَاشْرَبْ وَلَا تَحْمِلْ ". وَرَوَاهُ شَرِيكٌ الْقَاضِي عَنِ الْحَجَّاجِ، فَخَالَفَ فِي إِسْنَادِهِ مَنْ مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ (ہوتے ہوئے) کچھ اونٹ کانٹے دار درختوں کے پاس دیکھے جن کے تھن باندھے ہوئے تھے، ہم نے عرض کیا: جب ہم کھانے پینے کی ضرورت محسوس کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھاؤ، پیو لیکن ساتھ اٹھا کر نہ لے جاؤ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19659
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحَجْرِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ سَلِيطٍ التَّمِيمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ أَخِيهِ، قَالَ: " يَأْكُلُ حَتَّى يَشْبَعَ إِذَا كَانَ جَائِعًا، وَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ انسان کے لیے اپنے بھائی کے مال سے کیا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب بھوکا ہو یا پیاسا ہو پیٹ بھر کر کھا پی لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19660
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»