السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء فيمن مر بحائط إنسان أو ماشيته باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جو کسی کے باغ یا اس کے مویشیوں کے پاس سے گزرے۔
حدیث نمبر: 19648
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ مَرَّ لِرَجُلٍ بِزَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ مِنْ مَالِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَخْذُ شَيْءٍ مِنْهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ؛ لِأَنَّ هَذَا مِمَّا لَمْ يَأْتِ فِيهِ كِتَابٌ وَلَا سُنَّةٌ ثَابِتَةٌ بِإِبَاحَتِهِ، فَهُوَ مَمْنُوعٌ لِمَالِكِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ: وَقَدْ قِيلَ: مَنْ مَرَّ بِحَائِطٍ فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً. وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ لَوْ كَانَ يَثْبُتُ مِثْلُهُ عِنْدَنَا لَمْ نُخَالِفْهُ، وَالْكِتَابُ وَالْحَدِيثُ الثَّابِتُ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَكْلُ مَالِ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا قَائِلُ هَذَا الْقَوْلِ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب کوئی کھیتی، باغ، پھل یا مویشیوں کے پاس سے گزرے تو بغیر اجازت کے کچھ نہ لے۔ کیونکہ کسی بھی دلیل سے اس کا لینا درست ثابت نہیں ہے۔ صرف مالک کی اجازت سے ممکن ہے۔ فرماتے ہیں: جو باغ کے پاس سے گزرے وہ پھل توڑ کر کھا لے، لیکن جھول بھر کر نہ لے جائے، لیکن مالک کی مرضی کے بغیر پھل نہ توڑے۔