السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء فيمن مر بحائط إنسان أو ماشيته باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جو کسی کے باغ یا اس کے مویشیوں کے پاس سے گزرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ مَرَّ لِرَجُلٍ بِزَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ مِنْ مَالِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَخْذُ شَيْءٍ مِنْهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ؛ لِأَنَّ هَذَا مِمَّا لَمْ يَأْتِ فِيهِ كِتَابٌ وَلَا سُنَّةٌ ثَابِتَةٌ بِإِبَاحَتِهِ، فَهُوَ مَمْنُوعٌ لِمَالِكِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. قَالَ: وَقَدْ قِيلَ: مَنْ مَرَّ بِحَائِطٍ فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً. وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ لَوْ كَانَ يَثْبُتُ مِثْلُهُ عِنْدَنَا لَمْ نُخَالِفْهُ، وَالْكِتَابُ وَالْحَدِيثُ الثَّابِتُ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَكْلُ مَالِ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ. قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا قَائِلُ هَذَا الْقَوْلِ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب کوئی کسی آدمی کی کھیتی، باغ، پھل یا مویشیوں کے پاس سے گزرے تو بغیر اجازت کے کچھ نہ لے۔ کیونکہ اس کے جائز ہونے کے بارے میں نہ قرآن میں کچھ آیا ہے اور نہ کوئی ثابت سنت۔ صرف مالک کی اجازت سے ممکن ہے، واللہ اعلم۔ فرماتے ہیں: یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو باغ کے پاس سے گزرے وہ کھا لے، لیکن جھولی بھر کر نہ لے جائے۔ اس بارے میں ایک حدیث بھی روایت کی گئی ہے، اگر اس جیسی حدیث ہمارے نزدیک ثابت ہوتی تو ہم اس کی مخالفت نہ کرتے، لیکن قرآن اور ثابت حدیث یہ بتاتے ہیں کہ کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر کھانا جائز نہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ بات کہنے والے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں۔