السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء فيمن مر بحائط إنسان أو ماشيته باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جو کسی کے باغ یا اس کے مویشیوں کے پاس سے گزرے۔
حدیث نمبر: 19658
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ عَبْدِ اللهِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ ذُهَيْلِ بْنِ عَوْفِ بْنِ شَمَّاخٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا إِبِلٌ مُصَرَّرَةٌ بِعِضَاهِ الشَّجَرِ فَانْطَلَقَ نَاسٌ لِيَحْتَلِبُوا، فَدَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَاسًا عَمَدُوا إِلَى مَزَاوِدِكُمْ فِيهَا أَزْوِدَتُكُمْ فَأَخَذُوا مَا فِيهَا لَكَانُوا غَدَرُوكُمْ؟ " قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: " هَذِهِ لِأَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، إِنَّ مَا فِي ضُرُوعِهَا مِثْلُ مَا فِي أَزْوِدَتِكُمْ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ أَخِيهِ؟ قَالَ: " أَنْ يَأْكُلَ وَلَا يَحْمِلَ، وَيَشْرَبَ وَلَا يَحْمِلَ ". هَذَا إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ الْحُجَّةُ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْحَجَّاجِ مَا دَلَّ أَنَّهُ فِي الْمُضْطَرِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ اونٹ درختوں کے پتے کھا رہے تھے۔ لوگ ان کا دودھ دوہنے گئے۔ آپ ﷺ نے بلا لیا اور فرمایا: ”اگر لوگ تمہارے مشکیزے میں موجود چیز کا قصد کریں اور تمہاری کھانے کی اشیاء لے جائیں تو انہوں نے تمہارے ساتھ غدر کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ہاں! فرمایا: ”یہ بھی مسلمان گھروں کی مانند ہیں جو ان کے تھنوں میں موجود ہے۔ وہ تمہارے مشکیزوں میں موجود اشیاء کی مانند ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے بھائی کے مال سے حلال چیز کے متعلق پوچھا تو فرمایا: ”کھائے پیے لیکن ساتھ نہ لے کر جائے۔“