السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء فيمن مر بحائط إنسان أو ماشيته باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جو کسی کے باغ یا اس کے مویشیوں کے پاس سے گزرے۔
حدیث نمبر: 19652
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، قَالَ: وَذُكِرَ لِأَبِي زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بِالْحَائِطِ فَيَأْكُلُ مِنْهُ، قَالَ: هَذَا غَلَطٌ. وَقَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ يَرْوِي أَحَادِيثَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ يَهِمُ فِيهَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ لَيْسَتْ بِقَوِيَّةٍ.حافظ ثناء اللہ
ابو زکریا یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے سامنے یحییٰ بن سلیم طائفی کی وہ حدیث ذکر کی گئی جو وہ عبیداللہ سے ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو باغ کے پاس سے گزرتا ہے اور اس میں سے کھا لیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ غلط ہے۔“ امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل (بخاری) رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یحییٰ بن سلیم، عبیداللہ سے ایسی احادیث روایت کرتے ہیں جن میں انہیں وہم ہو جاتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے جو قوی نہیں ہیں۔