❮
❯
حدیث نمبر: 19655
وَمِنْهَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى رَاعٍ فَلْيُنَادِ: يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلَنَّ، وَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى حَائِطٍ فَلْيُنَادِ ثَلَاثًا: يَا صَاحِبَ الْحَائِطِ، فَإِنْ أَجَابَهُ وَإِلَّا فَلْيَأْكُلْ وَلَا يَحْمِلَنَّ ". تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ إِلَّا أَنَّهُ اخْتَلَطَ فِي آخِرِ عُمْرِهِ، وَسَمَاعُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْهُ بَعْدَ اخْتِلَاطِهِ. وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخِلَافِ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اونٹوں کے چرواہوں کے پاس آؤ تو تین آوازیں دو، اگر کوئی جواب ملے تو درست، وگرنہ دوہ لو، پی لو اور ساتھ نہ لے جاؤ؛ اور جب تم کسی کے باغ میں آؤ تو تین آوازیں لگا لیا کرو، اگر جواب مل جائے تو درست ہے، وگرنہ باغ کا پھل کھا لینے کی اجازت ہے، لیکن ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔“
اس روایت کو بیان کرنے میں سعید بن ایاس جریری منفرد ہیں، وہ ثقہ راویوں میں سے ہیں مگر آخری عمر میں ان کا حافظہ خلط ملط ہو گیا تھا اور یزید بن ہارون نے ان سے اختلاط کے بعد سنا ہے۔ اسے حماد بن سلمہ نے بھی جریری سے روایت کیا ہے اور یہ قوی نہیں ہے، اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کی اس کے خلاف روایت بھی مروی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19655
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»