السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء فيمن مر بحائط إنسان أو ماشيته باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جو کسی کے باغ یا اس کے مویشیوں کے پاس سے گزرے۔
حدیث نمبر: 19653
فَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنِ الضَّالَّةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ الثِّمَارِ يُصِيبُهُ الرَّجُلُ، قَالَ: " مَا أَخَذَ فِي أَكْمَامِهِ - يَعْنِي رُءُوسَ النَّخْلِ - فَاحْتَمَلَهُ فَثَمَنُهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَضَرْبٌ نَكَالٌ، وَمَا كَانَ فِي أَجْرَانِهِ فَأَخَذَ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ، وَإِنْ أَكَلَ بِفِيهِ وَلَمْ يَأْخُذْ فَيَتَّخِذْ خُبْنَةً فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ ". وَهَذَا إِنْ صَحَّ فَمَحْمُولٌ عَلَى أَنْ لَيْسَ عَلَيْهِ فِيهِ قَطْعٌ حِينَ لَمْ يُخْرِجْهُ مِنَ الْحِرْزِ.حافظ ثناء اللہ
مزینہ قبیلے کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جو باغ کے پھل توڑ لیتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کھجور سے توڑ کر ساتھ لے لیا تو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی اور عبرت ناک سزا دینا ہوگی۔ جس نے ڈھیر سے اٹھا لیا، اگر وہ ڈھال کی قیمت جتنا ہوا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن اگر اس نے صرف کھایا، ساتھ نہیں لیا اس پر کوئی حد نہیں۔ یہ تب ہے جب وہ محفوظ چیز کو اٹھائے لیکن یہ صورت حال نہ ہو تب قطع ید نہیں ہے۔“