السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء فيمن مر بحائط إنسان أو ماشيته باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جو کسی کے باغ یا اس کے مویشیوں کے پاس سے گزرے۔
حدیث نمبر: 19660
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحَجْرِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ سَلِيطٍ التَّمِيمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنْ مَالِ أَخِيهِ، قَالَ: " يَأْكُلُ حَتَّى يَشْبَعَ إِذَا كَانَ جَائِعًا، وَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ انسان کے لیے اپنے بھائی کے مال سے کیا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب بھوکا ہو یا پیاسا ہو پیٹ بھر کر کھا پی لے۔“