حدیث نمبر: 19650
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَأَمِّرُوا عَلَيْكُمْ وَاحِدًا مِنْكُمْ، فَإِذَا مَرَرْتُمْ بِرَاعِي الْإِبِلِ فَنَادُوا: يَا رَاعِيَ الْإِبِلِ، فَإِنْ أَجَابَكُمْ فَاسْتَسْقُوهُ، وَإِنْ لَمْ يُجِبْكُمْ فَأْتُوهَا فُحُلُّوهَا وَاشْرَبُوا ثُمَّ صُرُّوهَا. ⦗٦٠٣⦘ هَذَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَحِيحٌ بِإِسْنَادَيْهِ جَمِيعًا، وَهُوَ عِنْدَنَا مَحْمُولٌ عَلَى حَالِ الضَّرُورَةِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

زید بن وہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم تین ہو تو ایک کو امیر مقرر کر لیا کرو اور جب تم اونٹوں کے چرواہے کے پاس سے گزرو تو تین آوازیں دے لیا کرو: اے اونٹوں کے چرواہے! اگر وہ تمہاری آواز سن کر آ جائے تو دودھ پینے کا مطالبہ کر دو، وگرنہ دودھ دوہ کر پی لو اور اونٹنی کے تھن پھر بند کر دو، لیکن یہ بوقتِ ضرورت ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الضحايا / حدیث: 19650
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»