السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء فيمن مر بحائط إنسان أو ماشيته باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جو کسی کے باغ یا اس کے مویشیوں کے پاس سے گزرے۔
حدیث نمبر: 19656
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَحُلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ أَهْلِهَا، فَإِنَّ خَاتَمَ أَهْلِهَا عَلَيْهَا. فَقِيلَ لِشَرِيكٍ: أَرَفَعَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا يوَافِقُ الْحَدِيثَ الثَّابِتَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ، وَقَدْ مَضَى فِي الْبَابِ قَبْلَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (نبی کریم ﷺ نے فرمایا): ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ گھر والوں کی اجازت کے بغیر اونٹنی کے دودھ دوہنے کے لیے تھن کھولے؛ کیونکہ اس کے گھر والوں نے اس پر مہر ثبت کر رکھی ہوئی ہے۔“ جب شریک سے کہا گیا: ”کیا آپ اس کو مرفوع بیان کرتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، مرفوع بیان کرتا ہوں۔“