حدیث نمبر: 19661
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الزَّكِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الْمُنْعِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْفَرَاوِيُّ قَالَ: أَخْبَرنَا أَبُو الْمَعَالِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَيْهقِيُّ، وَأَنْبَأَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَشْيَاخِنَا عَنْ زَاهِرِ بْنِ طَاهِرٍ الشَّحَّامِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ:.
حافظ ثناء اللہ
عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اور مجھے سخت بھوک لگی ہوئی تھی، میں ایک باغ میں داخل ہوا اور پھل دار شاخ کو پکڑ کر اس سے کھالیا اور کچھ اپنے کپڑے میں ڈال لیا، باغ والا آگیا، اس نے مجھے مارا بھی اور مجھ سے توڑا ہوا پھل بھی چھین لیا، راوی فرماتے ہیں کہ پھر ہم دونوں (باغ والا اور عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ) نبی ﷺ کی طرف چلے اور آپ ﷺ کے سامنے واقعے کا تذکرہ کیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ نہیں جانتا تھا تو آپ اس کو سکھا دیتے اور آپ نے اس کو بھوک کی وجہ سے کھلایا بھی نہیں۔“ آپ ﷺ نے مجھے ایک وسق جو کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 19662
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ الصُّوفِيُّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ يَحْيَى الرَّازِيُّ، أنبأ مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ الْخُرَاسَانِيُّ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، أنبأ صَالِحُ بْنُ أَبِي جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ، فَأَخَذُونِي، فَذَهَبُوا بِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا يَرْمِي نَخْلَنَا، فَقَالَ: " يَا رَافِعُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ؟ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَجُوعُ، قَالَ: " لَا تَرْمِ، وَكُلْ مِمَّا يَقَعُ، أَشْبَعَكَ اللهُ، وَرَوَاكَ "..
حافظ ثناء اللہ
رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں انصار کی کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا۔ وہ مجھے پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے اور کہنے لگے: یہ ہماری کھجوروں کو پتھر مار رہا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے رافع! تم ان کی کھجوروں کو پتھر کیوں مار رہے تھے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوکا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پتھر نہ مارو بلکہ نیچے گرے ہوئے کھا لیا کرو۔ اللہ آپ کو سیر اور سیراب کرے۔“
حدیث نمبر: 19663
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا أَبُو تُمَيْلَةَ، ⦗٤⦘ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي جُبَيْرٍ مَوْلَى الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَكَا نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ غُلَامًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ يَرْمِي نَخْلَهُمْ؟ قَالَ: " خُذُوهُ، فَأْتُونِي بِهِ "، فَإِذَا هُوَ رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو أَخُو الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
صالح بن ابوجبیر جو حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مدینہ کے لوگوں نے نبی ﷺ سے شکایت کی کہ بنو غفار کا غلام ان کی کھجوروں کو پتھر مارتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پکڑ کر میرے پاس لے آؤ۔“ تو وہ رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ جو حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے۔
حدیث نمبر: 19664
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ ابْنُ أَخِي عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَهُنَا غُلَامًا يَرْمِي نَخْلَنَا، قَالَ: قَالَ: " خُذُوهُ، فَأْتُونِي بِهِ "، قَالَ: " يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ؟ "، قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ آكُلَ، قَالَ: " لَا تَرْمِ نَخْلَهُمْ، وَكُلْ مِمَّا فِي أُصُولِهَا "، قَالَ: وَمَسَحَ رَأْسَ الْغُلَامِ، وَقَالَ: " اللهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَعُثْمَانَ ابْنَيْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ مُعْتَمِرٍ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور ایک غلام انصار کی کھجوروں کو پتھر مارا کرتے تھے۔ نبی ﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ یہاں غلام ہماری کھجوروں کو پتھر مارتے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم انہیں پکڑ کر میرے پاس لاؤ۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے بچے! تم ان کی کھجوروں کو پتھر کیوں مارتے ہو؟“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: کھانے کا ارادہ ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پتھر نہ مارو بلکہ نیچے گرے ہوئے پھل کھا لیا کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ» ”اے اللہ! اس کے پیٹ کو سیر کر دے۔“
حدیث نمبر: 19665
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ سَادَتِي، نُرِيدُ الْهِجْرَةَ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ جَعَلُونِي فِي ظَهْرِهِمْ وَدَخَلُوا الْمَدِينَةَ، فَأَصَابَتْنِي مَجَاعَةٌ شَدِيدَةٌ، قَالَ: فَمَرَّ بِي بَعْضُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ، فَأَصَبْتَ مِنْ ثِمَارِ حَوَائِطِهَا، فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ، فَقَطَعْتُ قِنْوَيْنِ، فَجَاءَ صَاحِبُهُ وَهُمَا مَعِي، فَذَهَبَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَنِي عَنْ أَمْرِي، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟ " فَأَشَرْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا، فَقَالَ: " خُذْهُ "، وَأَمَرَ صَاحِبَ الْحَائِطِ، فَأَخَذَ الْآخَرَ، وَخَلَّى سَبِيلِي. وَهَذِهِ الْأَخْبَارُ - إِنْ ثَبَتَتْ - كَانَتْ دَالَّةً مَعَ غَيْرِهَا عَلَى جَوَازِ الْأَكْلِ مِنْ مَالِ الْغَيْرِ عِنْدَ الضَّرُورَةِ، ثُمَّ وُجُوبِ الْبَدَلِ فَمُسْتَفَادٌ مِنَ الدَّلَائِلِ الَّتِي دَلَّتْ عَلَى تَحْرِيمِ مَالِ الْغَيْرِ بِغَيْرِ طِيبَةِ نَفْسِهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. وَقَدِ اسْتَدَلَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حِينَ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفَرٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَأَصَابَهُمْ عَطَشٌ شَدِيدٌ، وَإِنَّهُ بَعَثَ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي كَانَ مَعَهَا بَعِيرٌ عَلَيْهِ مَزَادَتَانِ حَتَّى أَتَى بِهَا، وَأَخَذُوا مِنْ مَائِهَا، وَالْمَزَادَتَانِ كَمَا هُمَا، لَمْ تَزْدَادَا إِلَّا امْتِلَاءً، ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ، فَجَاءُوا مِنْ زِادِهِمْ حَتَّى مَلَأَ لَهَا ثَوْبَهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو اللحم رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے آقاؤں کے ساتھ آیا اور ہم ہجرت کا ارادہ رکھتے تھے۔ جب ہم مدینہ کے قریب ہوئے تو انہوں نے مجھے پیچھے کر دیا اور وہ مدینہ میں داخل ہو گئے اور مجھے سخت بھوک لگ گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے مدینہ کے باشندے گزرے تو کہنے لگے: ”اگر آپ مدینہ میں داخل ہوں اور وہاں کے باغوں کے پھل کھا لیں۔“ میں مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہوا اور دو خوشے توڑ لیے۔ باغ والا آ گیا اور دونوں خوشے میرے پاس ہی تھے۔ وہ پکڑ کر مجھے نبی ﷺ کے پاس لے گیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے میرے معاملے کے بارے میں پوچھا تو میں نے آپ ﷺ کو بتا دیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”ان دو خوشوں میں سے کون سا اچھا ہے؟“ تو میں نے ایک کی طرف اشارہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو لے لو۔“ اور باغ والے سے فرمایا: ”تم دوسرا خوشہ لے لو۔“ اور میرا راستہ چھوڑ دیا۔
نوٹ: یہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ضرورت کے وقت دوسروں کا مال کھایا جا سکتا ہے اور کسی کے مال کا بدل دینا واجب ہے، جب مال والے کی رضا مندی کے بغیر مال لیا جائے۔ جیسے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ ایک سفر میں نکلے، آپ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھے، ان کو سخت پیاس لگ گئی تو انہوں نے ایک عورت جس کے پاس دو مشکیزے تھے، اس کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے اس کے مشکیزوں سے پانی لیا، آخر کار اس کے مشکیزے اور کپڑے میں مزید بھی دیا۔
نوٹ: یہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ضرورت کے وقت دوسروں کا مال کھایا جا سکتا ہے اور کسی کے مال کا بدل دینا واجب ہے، جب مال والے کی رضا مندی کے بغیر مال لیا جائے۔ جیسے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ ایک سفر میں نکلے، آپ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھے، ان کو سخت پیاس لگ گئی تو انہوں نے ایک عورت جس کے پاس دو مشکیزے تھے، اس کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے تو انہوں نے اس کے مشکیزوں سے پانی لیا، آخر کار اس کے مشکیزے اور کپڑے میں مزید بھی دیا۔