السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: ما جاء فيمن مر بحائط إنسان أو ماشيته باب: اس شخص کے متعلق کیا مروی ہے جو کسی کے باغ یا اس کے مویشیوں کے پاس سے گزرے۔
حدیث نمبر: 19654
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، وَإِلَّا فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ. قَالَ الشَّيْخُ: أَحَادِيثُ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ لَا يُثْبِتُهَا بَعْضُ الْحُفَّاظِ، وَيَزْعُمُ أَنَّهَا مِنْ ⦗٦٠٤⦘ كِتَابٍ غَيْرَ حَدِيثِ الْعَقِيقَةِ الَّذِي قَدْ ذُكِرَ فِيهِ السَّمَاعُ، وَإِنْ صَحَّ فَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى حَالِ الضَّرُورَةِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم جانور کے پاس آؤ، وہاں ان کا مالک ہو تو اجازت لے کر دودھ دوہ کر پی لو۔ اگر مالک نہ ہو تو تین آوازیں لگاؤ۔ اگر مالک آجائے تو اجازت لے لو، وگرنہ دودھ دوہ کر پی لو، ساتھ نہ لے جاؤ۔“
شیخ فرماتے ہیں: حسن کی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ احادیث کو بعض حفاظ ثابت نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ یہ ایک کتاب سے لی گئی ہیں، سوائے عقیقہ والی حدیث کے جس میں سماع کا ذکر ہے۔ اگر یہ حدیث صحیح ہو تب یہ بوقتِ ضرورت ہے۔