کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حج (کی نیت) میں استثناء (ان شاء اللہ وغیرہ کہنے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: " أَمَا تُرِيدِينَ الْحَجَّ؟ " فَقَالَتْ: إِنِّي شَاكِيَةٌ، فَقَالَ لَهَا: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ: لَوْ ثَبَتَ حَدِيثُ عُرْوَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِثْنَاءِ لَمْ أَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَحِلُّ عِنْدِي خِلَافُ مَا ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ ثَبَتَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ فَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ضباعۃ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو حج کا ارادہ نہیں رکھتی؟“ اس نے کہا: میں بیمار ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حج کر اور شرط لگا کہ میرے حلال ہونے کی وہ جگہ ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا: اگر استثنا کے بارے میں عروہ کی نبی ﷺ سے حدیث ثابت ہو تو میں اس سے ہٹ کر کسی اور بات کی طرف نہ جاؤں گا، کیونکہ میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ بات کی مخالفت جائز نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث نبی ﷺ سے کئی سندوں سے ثابت ہے، رہی ابن عیینہ کی ہشام سے روایت تو وہ موصول بھی روایت کی گئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا: اگر استثنا کے بارے میں عروہ کی نبی ﷺ سے حدیث ثابت ہو تو میں اس سے ہٹ کر کسی اور بات کی طرف نہ جاؤں گا، کیونکہ میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ بات کی مخالفت جائز نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث نبی ﷺ سے کئی سندوں سے ثابت ہے، رہی ابن عیینہ کی ہشام سے روایت تو وہ موصول بھی روایت کی گئی ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِضُبَاعَةَ وَهِيَ شَاكِيَةٌ، فَقَالَ: " أَتُرِيدِينَ الْحَجَّ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " فَحُجِّي وَاشْتَرِطِي وَقُولِي: اللهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " ⦗٣٦٢⦘ وَصَلَهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ وَهُوَ ثِقَةٌ، عَنْ سُفْيَانَ وَأَرْسَلَهُ غَيْرُهُ، وَقَدْ وَصَلَهُ أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ. وَمَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے اور وہ بیمار تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا آپ حج کا ارادہ رکھتی ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو حج کر اور شرط لگا اور کہہ: «اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”اے اللہ! میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے۔““
عبدالجبار نے، جو ثقہ ہیں، اسے سفیان سے موصول بیان کیا ہے جبکہ دوسروں نے اسے مرسل بیان کیا ہے۔
عبدالجبار نے، جو ثقہ ہیں، اسے سفیان سے موصول بیان کیا ہے جبکہ دوسروں نے اسے مرسل بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهَا: " أَرَدْتِ الْحَجَّ؟ " قَالَتْ: وَالِلَّهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً، فَقَالَ لَهَا: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي وَقُولِي: اللهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي ". وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو حج کا ارادہ رکھتی ہے؟“ وہ کہنے لگیں: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو تکلیف ہی میں پاتی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو حج کر اور شرط لگا اور کہہ: «اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”اے اللہ! میرے حلال ہونے کی وہی جگہ ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔““ اور یہ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ: إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاكِيَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي "،.
حافظ ثناء اللہ
عروہ رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا: میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، لیکن بیمار ہوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تو حج کر اور شرط لگا کہ میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْرَقِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يُخْبِرَانِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَأُرِيدُ الْحَجَّ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أُهِلُّ؟ قَالَ: " أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي ".
حافظ ثناء اللہ
طاؤس اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، پھر آپ مجھے کیسے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو احرام باندھ اور شرط لگا کہ میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يُخْبِرَانِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَمَا تَأْمُرُنِي؟، قَالَ: " أَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " فَأَدْرَكَتْهُ ⦗٣٦٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ، وَأَبِي عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عکرمہ، دونوں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ضباعہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، کہنے لگیں: میں زیادہ بھاری عورت ہوں اور میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، آپ ﷺ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حج کا احرام باندھو اور شرط لگا لو کہ میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“ چنانچہ انہوں نے (حج) پا لیا۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَبِيبُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ أَنْ تَشْتَرِطَ فِي الْحَجِّ فَفَعَلَتْ ذَلِكَ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر اور عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ضباعۃ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ حج میں شرط لگائیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ایسا ہی کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرِّيَاحِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ وَهِيَ تُرِيدُ الْحَجَّ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرِطِي عِنْدَ إِحْرَامِكِ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي، فَإِنَّ ذَلِكَ لَكِ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور وہ حج کا ارادہ رکھتی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنے احرام کے وقت یہ شرط لگانا کہ میرے احرام کھولنے کی وہی جگہ ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا کہ یہ تیرے لیے ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَزَّازُ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِّ، ثنا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ أَفَأَشْتَرِطُ؟، قَالَ: " نَعَمْ فَاشْتَرِطِي " قَالَتْ: فَمَا أَقُولُ؟ قَالَ: " قُولِي: لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ، مَحِلِّي عَنِ الْأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي " قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِّ بِالْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ دُونَ الثَّانِي.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، کیا میں شرط لگاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، شرط لگا۔“ اس نے کہا: میں کیا کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کہہ! «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، مَحِلِّي عَنِ الْأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”اے اللہ! میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، زمین پر میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک لے۔““
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَرُوذِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِضُبَاعَةَ: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " ⦗٣٦٤⦘ قَالَ أَبُو عَمْرٍو: حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدہ ضباعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”حج کر اور شرط لگا کہ میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ضُبَاعَةَ: " أَنْ حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ضباعہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ: ”تو حج کر اور شرط لگا کہ میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہوگی جہاں تو مجھے روک دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِضُبَاعَةَ: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " كَذَا قَالَهُ عَنْ جَابِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ضباعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تو حج کر اور شرط لگا کہ میرے احرام کھولنے کی وہی جگہ ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا أَبُو مُسْلِمٍ، نا هِشَامٌ، نا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تو حج کر اور شرط لگا کہ میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطٍ امْرَأَةِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ زینب بنت نبیط رضی اللہ عنہا جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں، سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”حج کرو اور شرط لگاؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ الْجِيزِيُّ وَكَتَبَهُ لِي بِخَطِّهِ، ثنا الْإِمَامُ أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عِصَامُ بْنُ رَوَّادِ بْنِ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا آدَمُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَكَيْفَ أُهِلُّ بِالْحَجِّ؟ قَالَ: " قُولِي: اللهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِالْحَجِّ إِنْ أَذِنْتَ لِي بِهِ، وَأَعَنْتَنِي عَلَيْهِ، وَيَسَّرْتَهُ لِي، وَإِنْ حَبَسْتَنِي فَعُمْرَةٌ وَإِنْ، حَبَسْتَنِي عَنْهُمَا جَمِيعًا فَمَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، میں حج کا احرام کیسے باندھوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِالْحَجِّ إِنْ أَذِنْتَ لِي بِهِ، وَأَعَنْتَنِي عَلَيْهِ، وَيَسَّرْتَهُ لِي، وَإِنْ حَبَسْتَنِي فَعُمْرَةٌ، وَإِنْ حَبَسْتَنِي عَنْهُمَا جَمِيعًا فَمَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”اے اللہ! میں حج کا احرام باندھتی ہوں، اگر تو مجھے اس کی اجازت دے اور اس پر میری مدد کرے اور اسے میرے لیے آسان کر دے۔ اگر تو نے مجھے روک لیا تو عمرہ ہے، اور اگر تو نے مجھے حج و عمرہ دونوں سے روک لیا تو میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہوگی جہاں تو نے مجھے روک لیا۔““
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يَا أَبَا أُمَيَّةَ حُجَّ وَاشْتَرِطْ، فَإِنَّ لَكَ مَا اشْتَرَطْتَ وَلِلَّهِ عَلَيْكَ مَا اشْتَرَطْتَ ".
حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: ”اے ابو امیہ! حج کر اور شرط لگا، تیرے لیے وہ ہے جو تو نے شرط لگائی اور اللہ کے لیے تیرے ذمہ وہ ہے جو تو شرط کر چکا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: " حُجَّ وَاشْتَرِطْ، وَقُلِ: اللهُمَّ الْحَجَّ أَرَدْتُ وَلَهُ عَمَدْتُ فَإِنْ تَيَسَّرَ وَإِلَّا فَعُمْرَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عمیرہ بن زیاد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: حج کر اور شرط لگا اور کہہ: «اللَّهُمَّ الْحَجَّ أَرَدْتُ وَلَهُ عَمَدْتُ، فَإِنْ تَيَسَّرَ، وَإِلَّا فَعُمْرَةٌ» ”اے اللہ! میں نے حج کا ارادہ اور قصد کیا ہے، اگر آسانی ہو جائے (تو حج) وگرنہ عمرہ۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا سُرَيْجٌ، أنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: " اسْتَثْنُوا فِي الْحَجِّ اللهُمَّ الْحَجَّ أَرَدْتُ وَلَهُ عَمَدْتُ فَإِنْ تَمَّمْتَهُ فَهُوَ حَجٌّ، وَإِلَّا فَهِيَ عُمْرَةٌ " وَكَانَتْ تَسْتَثْنِي وَتَأْمُرُ مَنْ مَعَهَا أَنْ يَسْتَثْنُوا.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن ابی علقمہ اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ وہ فرمایا کرتی تھیں: ”تم حج میں استثناء کرلو کہ اے اللہ! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، اس کا قصد بھی میں نے کیا ہے اگر تو اس کو پورا کرے تو یہ حج ہے، وگرنہ عمرہ۔“ وہ بذات خود تو استثناء کرتی تھیں اور جو ان کے ساتھ ہوتے انہیں بھی استثناء کا حکم دیتی تھیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " هَلْ تَسْتَثْنِي إِذَا حَجَجْتَ؟ " فَقُلْتُ لَهَا: مَاذَا أَقُولُ؟ فَقَالَتْ: " قُلِ اللهُمَّ الْحَجَّ أَرَدْتُ وَلَهُ عَمَدْتُ فَإِنْ يَسَّرْتَهُ فَهُوَ الْحَجُّ، وَإِنْ حَبَسَنِي حَابِسٌ فَهُوَ عُمْرَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: کیا آپ استثنا کرتے ہیں، جب حج کرتے ہیں؟ میں نے ان سے کہا: میں کیا کہوں؟ فرماتی ہیں: تم کہو: «اللَّهُمَّ الْحَجَّ أَرَدْتُ وَلَهُ عَمَدْتُ، فَإِنْ يَسَّرْتَهُ فَهُوَ الْحَجُّ، وَإِنْ حَبَسَنِي حَابِسٌ فَهُوَ عُمْرَةٌ» ”اے اللہ! میں نے حج کا ارادہ اور اس کا قصد کیا ہے، اگر تو اس کو آسان بنا دے تو یہ حج ہے، اگر کسی روکنے والے نے روک لیا تو پھر عمرہ ہے۔“
وَرُوِّينَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: " كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأْمُرُنَا إِذَا حَجَجْنَا بِالِاشْتِرَاطِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، ثنا يُونُسُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمر بن ابی سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا (نبی ﷺ کی زوجہ) ہمیں حکم دیتی تھیں کہ جب ہم حج کریں تو شرط لگائیں۔