السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الاستثناء في الحج باب: حج (کی نیت) میں استثناء (ان شاء اللہ وغیرہ کہنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10120
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا سُرَيْجٌ، أنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: " اسْتَثْنُوا فِي الْحَجِّ اللهُمَّ الْحَجَّ أَرَدْتُ وَلَهُ عَمَدْتُ فَإِنْ تَمَّمْتَهُ فَهُوَ حَجٌّ، وَإِلَّا فَهِيَ عُمْرَةٌ " وَكَانَتْ تَسْتَثْنِي وَتَأْمُرُ مَنْ مَعَهَا أَنْ يَسْتَثْنُوا.حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن ابی علقمہ اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ وہ فرمایا کرتی تھیں: ”تم حج میں استثناء کرلو کہ اے اللہ! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، اس کا قصد بھی میں نے کیا ہے اگر تو اس کو پورا کرے تو یہ حج ہے، وگرنہ عمرہ۔“ وہ بذات خود تو استثناء کرتی تھیں اور جو ان کے ساتھ ہوتے انہیں بھی استثناء کا حکم دیتی تھیں۔