السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الاستثناء في الحج باب: حج (کی نیت) میں استثناء (ان شاء اللہ وغیرہ کہنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10106
قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام طاؤس اور عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس آئیں، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، پھر میں کیسے احرام باندھوں؟ نیت کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو احرام باندھ اور شرط لگا کہ میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“