السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الاستثناء في الحج باب: حج (کی نیت) میں استثناء (ان شاء اللہ وغیرہ کہنے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ الْجِيزِيُّ وَكَتَبَهُ لِي بِخَطِّهِ، ثنا الْإِمَامُ أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عِصَامُ بْنُ رَوَّادِ بْنِ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا آدَمُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَكَيْفَ أُهِلُّ بِالْحَجِّ؟ قَالَ: " قُولِي: اللهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِالْحَجِّ إِنْ أَذِنْتَ لِي بِهِ، وَأَعَنْتَنِي عَلَيْهِ، وَيَسَّرْتَهُ لِي، وَإِنْ حَبَسْتَنِي فَعُمْرَةٌ وَإِنْ، حَبَسْتَنِي عَنْهُمَا جَمِيعًا فَمَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي ".سعید بن مسیب رحمہ اللہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، میں حج کا احرام کیسے باندھوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِالْحَجِّ إِنْ أَذِنْتَ لِي بِهِ، وَأَعَنْتَنِي عَلَيْهِ، وَيَسَّرْتَهُ لِي، وَإِنْ حَبَسْتَنِي فَعُمْرَةٌ، وَإِنْ حَبَسْتَنِي عَنْهُمَا جَمِيعًا فَمَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي» ”اے اللہ! میں حج کا احرام باندھتی ہوں، اگر تو مجھے اس کی اجازت دے اور اس پر میری مدد کرے اور اسے میرے لیے آسان کر دے۔ اگر تو نے مجھے روک لیا تو عمرہ ہے، اور اگر تو نے مجھے حج و عمرہ دونوں سے روک لیا تو میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہوگی جہاں تو نے مجھے روک لیا۔““