السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الاستثناء في الحج باب: حج (کی نیت) میں استثناء (ان شاء اللہ وغیرہ کہنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10122
وَرُوِّينَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: " كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأْمُرُنَا إِذَا حَجَجْنَا بِالِاشْتِرَاطِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، ثنا يُونُسُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط کا انکار کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ کی سنت کافی نہیں ہے؟ اگر کوئی حج سے روک دیا جائے تو وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرے، پھر وہ ہر چیز سے حلال ہو گیا۔ پھر وہ آئندہ سال حج کرے اور قربانی دے، اگر قربانی نہ ہو تو روزے رکھے۔“ یونس اور ربیعہ رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کوئی شرط احرام میں جائز ہو۔