کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے حج میں شرط لگانے کا انکار کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ: " أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى حَجَّ عَامًا قَابِلًا، وَيُهْدِيَ أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ " قَالَ يُونُسُ: قَالَ رَبِيعَةُ: لَا نَعْلَمُ شَرْطًا يَجُوزُ فِي إِحْرَامِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط کا انکار کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ کی سنت کافی نہیں ہے؟ اگر کوئی حج سے روک دیا جائے تو وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرے، پھر وہ ہر چیز سے حلال ہو جائے یہاں تک کہ وہ آئندہ سال حج کرے اور قربانی دے، اگر قربانی نہ ہو تو روزے رکھے۔“ یونس کہتے ہیں کہ ربیعہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نہیں جانتے کہ کوئی شرط احرام میں جائز ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٣٦٦⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ: " أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
سالم، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ حج میں شرطوں کا انکار کرتے تھے اور فرماتے تھے: کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ کی سنت کافی نہیں ہے؟
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا هَكَذَا مُخْتَصَرًا. وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ وَزَادَ فِيهِ " وَإنْ حَبَسَ أَحَدًا مِنْكُمْ حَابِسٌ فَإِذَا وَصَلَ إِلَيْهِ طَافَ بِهِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ يَحْلِقُ أَوْ يُقَصِّرُ، وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا ابْنُ زَنْجُوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَذَكَرَهُ، وَعِنْدِي أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَوْ بَلَغَهُ حَدِيثُ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ لَصَارَ إِلَيْهِ وَلَمْ يُنْكِرِ الِاشْتِرَاطَ كَمَا لَمْ يُنْكِرْهُ أَبُوهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرزاق معمر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، اس میں زائد بھی ہے: ”اگر تم میں سے کسی کو کوئی روکنے والا روک دے، جب وہ بیت اللہ تک پہنچے تو طواف کرے اور صفا و مروہ کی سعی کرے، پھر سر منڈائے یا بال کٹوائے اور اس پر آئندہ سال حج ہے۔“
(ب) مصنف کہتے ہیں: میرے نزدیک اگر ابوعبدالرحمن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا والی حدیث پہنچتی تو وہ اسی کو اختیار کر لیتے اور حج میں شرط کا انکار نہ کرتے جیسے ان کے والد نے انکار نہیں کیا، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
(ب) مصنف کہتے ہیں: میرے نزدیک اگر ابوعبدالرحمن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا والی حدیث پہنچتی تو وہ اسی کو اختیار کر لیتے اور حج میں شرط کا انکار نہ کرتے جیسے ان کے والد نے انکار نہیں کیا، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔