کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جو بیماری کی وجہ سے روکے جانے پر حلال ہونے کے قائل ہیں۔
حدیث نمبر: 10098
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَعِيلَ الطَّابَرَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ، ثنا رَوْحٌ، ثنا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمٌ ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كُسِرَ أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ أُخْرَى " قَالَ: فَحَدَّثْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَا: صَدَقَ. لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَفِي رِوَايَةِ رَوْحٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ وَقَالَ: " فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى "، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، وَهَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَأَبُو عَاصِمٍ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى ذَكَرُوا فِيهِ سَمَاعَ عِكْرِمَةَ مِنَ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ، وَقَدْ خَالَفَهُ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فَأَدْخَلَ بَيْنَهُمَا رَجُلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن رافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے محرم کے روکے جانے کے بارے میں سوال کیا تو وہ فرمانے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے وہ حلال ہو جائے، اس پر آئندہ سال دوبارہ حج ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے (یہ بات) کہی تو ان دونوں نے فرمایا کہ حجاج رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔
حدیث نمبر: 10099
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ عَنْ حَبْسِ الْمُسْلِمِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كُسِرَ أَوْ عُرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ " قَالَ عِكْرِمَةُ: فَحَدَّثْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَا: صَدَقَ الْحَجَّاجُ. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ أَثْبَتُ..
حافظ ثناء اللہ
ایضاً شیخ فرماتے ہیں: بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر حج رہ جائے تو وہ حلال ہو جائے، لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رکاوٹ تو صرف دشمن کی ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 10100
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، فَذَكَرَهُ. ⦗٣٦١⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ حَمَلَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنْ صَحَّ عَلَى أَنَّهُ يَحِلُّ بَعْدَ فَوَاتِهِ بِمَا يَحِلُّ بِمَنْ يَفُوتُهُ الْحَجُّ بِغَيْرِ مَرَضٍ، فَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ثَابِتًا عَنْهُ، قَالَ: لَا حَصْرَ إِلَّا حَصْرَ عَدُوٍّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ شخص جس کو ڈس لیا گیا اور اس نے عمرہ کا احرام باندھ رکھا تھا، پھر وہ روک دیا گیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اس کی قربانی مکہ روانہ کرو اور اپنے اور اس کے درمیان ایک دن علامت کے طور پر مقرر کرو، جب قربانی مکہ میں ذبح کر دی جائے تو وہ حلال ہو جائے۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسائی نے کہا: «الْأَمَارُ» کا معنی ”علامت“ ہے، جس کے ذریعہ کسی چیز کو پہچانا جائے؛ ایک معروف دن مقرر کر لو تاکہ تمہارے درمیان اختلاف نہ ہو۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کسائی نے کہا: «الْأَمَارُ» کا معنی ”علامت“ ہے، جس کے ذریعہ کسی چیز کو پہچانا جائے؛ ایک معروف دن مقرر کر لو تاکہ تمہارے درمیان اختلاف نہ ہو۔
حدیث نمبر: 10101
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الَّذِي لُدِغَ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِالْعُمْرَةِ فَأُحِصَرَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " ابْعَثُوا بِالْهَدْيِ، وَاجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ يَوْمَ أَمَارٍ فَإِذَا ذَبَحَ الْهَدْيَ بِمَكَّةَ حَلَّ هَذَا " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ الْكِسَائِيُّ: الْأَمَارُ: الْعَلَامَةُ الَّتِي يُعْرَفُ بِهَا الشَّيْءُ، يَقُولُ: اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ يَوْمًا تَعْرِفُونَهُ لِكَيْلَا تَخْتَلِفُوا.
حافظ ثناء اللہ
ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ضباعۃ بنت زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو حج کا ارادہ رکھتی ہے؟“ اس نے کہا: میں بیمار ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حج کر اور شرط لگا کہ میرے حلال ہونے کی وہ جگہ ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر عروہ کی حدیث نبی ﷺ سے استثنا کے بارے میں ثابت ہو تو میں کسی اور کے لیے اس کو جائز قرار نہ دوں گا، کیونکہ میرے نزدیک یہ جائز نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے اس کے برخلاف بھی ثابت ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر عروہ کی حدیث نبی ﷺ سے استثنا کے بارے میں ثابت ہو تو میں کسی اور کے لیے اس کو جائز قرار نہ دوں گا، کیونکہ میرے نزدیک یہ جائز نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے اس کے برخلاف بھی ثابت ہے۔