السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الاستثناء في الحج باب: حج (کی نیت) میں استثناء (ان شاء اللہ وغیرہ کہنے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: " أَمَا تُرِيدِينَ الْحَجَّ؟ " فَقَالَتْ: إِنِّي شَاكِيَةٌ، فَقَالَ لَهَا: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ: لَوْ ثَبَتَ حَدِيثُ عُرْوَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِثْنَاءِ لَمْ أَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَحِلُّ عِنْدِي خِلَافُ مَا ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ ثَبَتَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ فَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا.ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ضباعۃ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو حج کا ارادہ نہیں رکھتی؟“ اس نے کہا: میں بیمار ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حج کر اور شرط لگا کہ میرے حلال ہونے کی وہ جگہ ہوگی جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا: اگر استثنا کے بارے میں عروہ کی نبی ﷺ سے حدیث ثابت ہو تو میں اس سے ہٹ کر کسی اور بات کی طرف نہ جاؤں گا، کیونکہ میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ بات کی مخالفت جائز نہیں ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: یہ حدیث نبی ﷺ سے کئی سندوں سے ثابت ہے، رہی ابن عیینہ کی ہشام سے روایت تو وہ موصول بھی روایت کی گئی ہے۔