أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّهَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي " لَفْظَ حَدِيثِ الرَّبِيعِ وَفِي حَدِيثِ حَرْمَلَةَ أَنَّهَا اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنْ هَذَا عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي " قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ فِي مِرْكَنٍ فِي حُجْرَةِ أُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى تَعْلُوَ حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثْنَا بِذَلِكَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَقَالَ: رَحِمَ اللهُ هِنْدًا لَوْ كَانَتْ سَمِعَتْ بِهَذِهِ الْفُتْيَا وَاللهِ إِنْ كَانَتْ لَتَبْكِي لِأَنَّهَا كَانَتْ لَا تُصَلِّي وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ بِطُولِهِ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ دُونَ قِصَّةِ هِنْدَ وَكَذَلِكَ قَالَهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْهُمَا جَمِيعًا ⦗٥١٤⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا جو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، وہ سات سال تک استحاضہ والی رہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ ایک رگ ہے لہٰذا غسل کر۔“
اور حرملہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ ایک رگ ہے لہٰذا غسل کر اور نماز پڑھ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے کمرے میں ٹب میں ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آجاتی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: ہم نے یہ بات ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے بیان کی تو انہوں نے کہا: اللہ ہند پر رحم فرمائے، کاش وہ یہ فتویٰ سن لیتیں، اللہ کی قسم! وہ روتی تھیں کیونکہ وہ نماز نہیں پڑھتی تھیں۔
اور حرملہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ ایک رگ ہے لہٰذا غسل کر اور نماز پڑھ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے کمرے میں ٹب میں ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آجاتی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: ہم نے یہ بات ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے بیان کی تو انہوں نے کہا: اللہ ہند پر رحم فرمائے، کاش وہ یہ فتویٰ سن لیتیں، اللہ کی قسم! وہ روتی تھیں کیونکہ وہ نماز نہیں پڑھتی تھیں۔
وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيَمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ وَابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَرُبَّمَا، قَالَ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ عَنْهُمَا جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ نے اس کو زہری سے، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے۔
یہ حدیث ان دونوں (عروہ اور عمرہ) سے صحیح ہے۔
یہ حدیث ان دونوں (عروہ اور عمرہ) سے صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ مِلْحَانَ ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتِ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ فَقَالَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي " فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ اللَّيْثُ: فَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ أَنْ تَغْتَسِلَ يَعْنِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ فَعَلَتْهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ وَذَكَرَ كَلَامَ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَبِمَعْنَاهُ قَالَهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ أَيْضًا وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ رِوَايَتَهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِيعِ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ وَلَيْسَ فِيهِ أَنَّهُ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَلَا أَشُكُّ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى أَنَّ غُسْلَهَا كَانَ تَطَوُّعًا غَيْرَ مَا أُمِرْتَ بِهِ وَذَلِكَ وَاسِعٌ لَهَا، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ رَوَى غَيْرُ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَلَكِنْ رَوَاهُ، عَنْ عَمْرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَالسِّيَاقِ وَالزُّهْرِيُّ أَحْفَظُ مِنْهُ وَقَدْ رَوَى فِيهِ شَيْئًا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْحَدِيثَ غَلَطٌ قَالَ: تَتْرُكُ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا وَعَائِشَةُ تَقُولُ الْأَقْرَاءُ الْأَطْهَارُ وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهَ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں استحاضہ والی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے پس غسل کر اور نماز پڑھ۔“ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ لیث کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ ہر نماز کے لیے غسل کرے، بلکہ یہ ایک کام تھا جو وہ خود کرتی تھیں۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔ اس میں یہ نہیں کہ آپ ﷺ نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا۔ «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ مجھے شک نہیں ہے کہ انہیں غسل کا حکم استحبابی تھا، ان پر فرض نہیں کہا گیا تھا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زہری کے علاوہ دوسرے ائمہ نے یہ حدیث بیان کی ہے، نبی ﷺ نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا۔ لیکن ائمہ نے عمرہ سے اسے سند اور سیاق سے روایت کیا ہے، امام زہری کی روایت اس سے زیادہ محفوظ ہے، اس میں ایک ایسی چیز بیان ہوئی ہے جو حدیث کے غلط ہونے پر دلالت ہے کہ وہ اپنے حیض کی مقدار نماز چھوڑے گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ «الأَقْرَاءُ» سے مراد طہر ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔ اس میں یہ نہیں کہ آپ ﷺ نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا۔ «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ مجھے شک نہیں ہے کہ انہیں غسل کا حکم استحبابی تھا، ان پر فرض نہیں کہا گیا تھا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زہری کے علاوہ دوسرے ائمہ نے یہ حدیث بیان کی ہے، نبی ﷺ نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا۔ لیکن ائمہ نے عمرہ سے اسے سند اور سیاق سے روایت کیا ہے، امام زہری کی روایت اس سے زیادہ محفوظ ہے، اس میں ایک ایسی چیز بیان ہوئی ہے جو حدیث کے غلط ہونے پر دلالت ہے کہ وہ اپنے حیض کی مقدار نماز چھوڑے گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ «الأَقْرَاءُ» سے مراد طہر ہے۔
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرٍ ثنا أَبِي، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا ابْنُ كَاسِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتُحِيضَتْ فَذَكَرَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ فَقَالَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِحَيْضَةٍ وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنَ الرَّحِمِ فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ أَقْرَائِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فَتُتْرَكِ الصَّلَاةَ ثُمَّ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ بَعْضُ مَشَائِخِنَا خَبَرُ ابْنُ الْهَادِ غَيْرُ مَحْفُوظٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَسَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں، انہوں نے یہ بات نبی ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے، لیکن رحم میں ایک چوکا ہے تو اپنے حیض کی مقدار انتظار کرے، جتنی مقدار تو حیض گزارتی تھی اور نماز کو چھوڑ دے، پھر ہر نماز کے لیے غسل کر اور نماز پڑھ۔“ (ب) ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے بعض مشائخ کا ابن ہاد کی حدیث محفوظ نہیں۔ (ج) شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث کو محمد بن اسحاق بن یسار نے زہری سے وہ عروہ سے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا هَنَّادٌ عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ ⦗٥١٦⦘ اسْتُحِيضَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ " وَقَالَ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: اسْتُحِيضَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ " وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ: تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ عَبْدِ الصَّمَدِ وَالْقَوْلُ قَوْلُ أَبِي الْوَلِيدِ قَالَ الشَّيْخُ: وَرِوَايَةُ أَبِي الْوَلِيدِ أَيْضًا غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ فَقَدْ رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ كَمَا رَوَاهُ سَائِرُ النَّاسِ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے زمانہ میں مستحاضہ ہو گئیں تو نبی ﷺ نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں تو انہیں نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر نماز کے لیے غسل کر۔“ (ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے نقل کیا ہے: ”ہر نماز کے لیے وضو کر۔“ یہ عبدالصمد کا وہم ہے، اور صحیح بات ابو ولید کی ہے۔ (د) شیخ کہتے ہیں: ابو ولید کی روایت بھی محفوظ نہیں۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں تو انہیں نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر نماز کے لیے غسل کر۔“ (ج) امام ابوداؤد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے نقل کیا ہے: ”ہر نماز کے لیے وضو کر۔“ یہ عبدالصمد کا وہم ہے، اور صحیح بات ابو ولید کی ہے۔ (د) شیخ کہتے ہیں: ابو ولید کی روایت بھی محفوظ نہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ الْقَاضِي ثنا مُسْلِمٌ ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: اسْتُحِيضَتْ أُخْتُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ سَبْعَ سِنِينَ فَكَانَتْ تَمْلَأُ مِرْكَنًا لَهَا مَاءً ثُمَّ تَدْخُلُهُ حَتَّى تَعْلُوَ الْمَاءَ حُمْرَةُ الدَّمِ فَاسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: " " إِنَّهُ لَيْسَ بِحَيْضَةٍ وَلَكِنَّهُ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي " " وَلَيْسَ فِيهِ الْأَمْرُ بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَهَذَا أَوْلَى لِمُوَافَقَتِهِ سَائِرَ الرِّوَايَاتِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَرِوَايَةُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ غَلَطٌ لِمُخَالَفَتِهَا سَائِرَ الرِّوَايَاتِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَمُخَالَفَتِهَا الرِّوَايَةَ الصَّحِيحَةَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی بہن سات سال مستحاضہ رہیں، وہ اپنا ٹب پانی سے بھر لیتی تھیں پھر (نہانے کے لیے) داخل ہوتیں تو خون کی سرخی پانی کے اوپر آجاتی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں بلکہ یہ ایک رگ ہے، غسل کر اور نماز پڑھ۔“ (ب) اس روایت میں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم نہیں، یہ امام زہری کی تمام روایات کے موافق ہے۔
محمد بن اسحاق کی زہری سے روایت غلط ہے، کیونکہ یہ زہری کی باقی تمام روایات اور عراک بن مالک عن عروہ عن عائشہ کی صحیح روایت کے خلاف ہے۔
محمد بن اسحاق کی زہری سے روایت غلط ہے، کیونکہ یہ زہری کی باقی تمام روایات اور عراک بن مالک عن عروہ عن عائشہ کی صحیح روایت کے خلاف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ثنا أَبِي وَإِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرٍ، وَالنَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالُوا: ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَكَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّمَ فَقَالَ لَهَا: " امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي " قَالَ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهَا فَفِي هَذِهِ الرِّوَايَتَيْنِ الصَّحِيحَتَيْنِ بَيَانٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْمُرْهَا بِالْغُسْلِ عِنْدِ كُلِّ صَلَاةٍ ⦗٥١٧⦘ وَأَنَّهَا كَانَتْ تَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهَا فَكَيْفَ يَكُونُ الْأَمْرُ بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَابِتًا مِنْ حَدِيثِ عُرْوَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہما جو عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے خون کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اتنی دیر ٹھہری رہ جتنی دیر تجھ کو تیرا حیض روکے رکھے، پھر غسل کر۔“ راوی کہتا ہے: وہ اپنی طرف سے ہر نماز کے وقت غسل کرتی تھیں۔ (ب) ان دونوں صحیح روایات میں نبی ﷺ نے ہر نماز کے لیے غسل کا حکم نہیں دیا، وہ یہ کام اپنی جانب سے کرتی تھیں۔ تو غسل کا حکم عروہ کی حدیث سے کیسے ثابت ہوگا؟
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَحَاضَةِ إِلَّا أَنْ تَغْتَسِلَ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَتَوَضَّأَ بَعْدَ ذَلِكَ لِلصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد (عروہ رحمہ اللہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ مستحاضہ پر صرف ایک ہی غسل ہے، پھر اس کے بعد نماز کے لیے وضو کرے گی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ تَوَضَّأَ بَعْدَ ذَلِكَ لِكُلِّ صَلَاةٍ. وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ نے اس کی مثل بیان کیا ہے مگر وہ کہتے ہیں: ”پھر اس کے بعد ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيَعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَرَى عَلَى الْمُسْتَحَاضَةِ إِلَّا غُسْلًا وَاحِدًا " وَرُوِّينَا فِيمَا تَقَدَّمَ عَنْ قَمِيرَ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ مَا يَدُلُّ عَلَى هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ وہ مستحاضہ پر ایک ہی غسل خیال کرتی تھیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ أنا أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خُبَيْبٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى ثنا أَبُو مَعْمَرٍ ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ ثنا حُسَيْنٌ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ عَنِ الْحُسَيْنِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي " كَذَلِكَ رَوَاهُ حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ وَخَالَفَهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ فَأَرْسَلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھ کو زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ ایسی عورت تھی جو مسلسل خون بہاتی تھی اور وہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھی، رسول اللہ ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ ”وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے اور نماز پڑھے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيَمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ثنا هِشَامُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ⦗٥١٨⦘ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنِّي أُهْرَاقُ الدَّمَ " فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي " وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى فَجَعَلَ الْمُسْتَحَاضَةَ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میں مسلسل خون بہاتی ہوں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ”وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے اور نماز پڑھے۔“ (ب) اوزاعی نے یحییٰ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں مستحاضہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ثنا الْأَوْزَاعِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، وَعِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ كَانَتْ تَعْتَكِفُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَهْرِيقُ الدَّمَ " فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ لِكُلِّ صَلَاةٍ " وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ بِخِلَافِ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سلمہ اور عکرمہ رحمہما اللہ نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اعتکاف کرتی تھیں اور وہ مسلسل خون بہاتی تھیں، انھیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ”وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ فَسَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَظِرَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلَ أَوْ تُصَلِّيَ فَإِذَا رَأَتْ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْئًا تَوَضَّأَتْ وَاسْتَثْفَرَتْ وَاحْتَشَتْ وَصَلَّتْ " وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ أَقْرَبُ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ فِي بَابِ الْغُسْلِ وَحَدِيثُ عَائِشَةَ مِنَ الْوَجْهِ الثَّابِتِ عَنْهَا أَوْلَى أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا تَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَتَوَضَّأُ وَهُوَ لَا يُخَالِفُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں، انہوں نے نبی ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ”اپنے حیض کے دنوں میں انتظار کرے، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے، اگر اس کے بعد کوئی چیز دیکھے تو وضو کرے اور لنگوٹ باندھے، روئی رکھے اور نماز پڑھے۔“ (ب) یہ روایت منقطع ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے قریب ہے جو باب الغسل میں ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سند سے ثابت ہے۔ اولیٰ ہے کہ وہ صحیح ہو۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ وہ ایک غسل کرتی تھیں، پھر وضو کرتیں اور یہ نبی ﷺ کی روایت کے مخالف نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا عَبْدُ اللهِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ثنا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: تَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَتَوَضَّأُ وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن ابی سلمہ اپنے والد (ابو سلمہ رحمہ اللہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ”وہ ایک ہی غسل کرے گی پھر وضو کرے گی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا الْمُجَوِّزُ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ سَهْلٍ ثنا عَاصِمٌ ثنا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ تُؤَخِّرَ ⦗٥١٩⦘ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَالْمَغْرِبُ وَالْعِشَاءُ تُعَجِّلُ هَذِهِ وَتُؤَخِّرُ هَذِهِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلًا وَهَكَذَا رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَهْلِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ غَلَطٌ مِنْ جِهَةِ الْحَسَنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کے زمانہ میں مستحاضہ ہوگئی، اسے نبی ﷺ نے حکم دیا کہ: ”ظہر کو مؤخر کر دے اور عصر جلدی پڑھے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کر لے اور مغرب اور عشاء میں سے اس (پہلی) کو جلدی پڑھے اور اس (دوسری) کو مؤخر کرے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کر لے۔“
یہ حسن (بن سہل) کی طرف سے غلطی ہے۔
یہ حسن (بن سہل) کی طرف سے غلطی ہے۔
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ثنا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَالْمَغْرِبُ وَالْعِشَاءُ تُؤَخِّرُ هَذِهِ وَتُعَجِّلُ هَذِهِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلًا وَتَغْتَسِلُ لِلصُّبْحِ غُسْلًا وَهَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ شُعْبَةَ وَذَكَرَ جَمَاعَةٌ مِنْهُمُ امْتِنَاعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ مِنْ رَفْعِ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کے زمانہ میں مستحاضہ ہو گئی، اس کو حکم دیا گیا کہ ”ظہر کو مؤخر کرے اور عصر کو جلدی کرے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کر لے اور مغرب کو مؤخر کرے اور عشاء جلدی پڑھے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کر لے اور صبح کے لیے ایک غسل کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ثنا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُمِرَتْ، قُلْتُ: مَنْ أَمَرَهَا، النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَسْتُ أُحَدِّثُكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَالَتْ: فَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ وَتَغْتَسِلَ لَهَا غُسْلًا وَاحِدًا وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ غُسْلًا " وَرَوَاهُ مُعَاذُ بْنُ مُعَاذِ، عَنْ شُعْبَةَ وَفِيهِ قَالَ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَكَذَلِكَ قَالَهُ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَخَالَفَ شُعْبَةُ فِي رَفْعِهِ وَسَمَّى الْمُسْتَحَاضَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے زمانہ میں ایک عورت مستحاضہ ہو گئی، اس کو حکم دیا گیا۔ میں نے (عبدالرحمن بن قاسم سے) پوچھا: کیا اس کو نبی ﷺ نے حکم دیا؟ انہوں نے کہا: میں تجھ کو نبی ﷺ سے کچھ بھی بیان نہیں کر رہا۔ پھر (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: ”اسے حکم دیا گیا کہ ظہر کو مؤخر کر دے اور عصر کو جلدی ادا کرے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کر لے اور مغرب کو مؤخر کر دے اور عشاء کو جلدی ادا کرے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کر لے اور صبح کے لیے ایک غسل کرے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ثنا عَبْدَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ، اسْتُحِيضَتْ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ " ⦗٥٢٠⦘ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَلِيٍّ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّمَا هِيَ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُهَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ فَلَمَّا شَقَّ عَلَيْهَا أَمَرَهَا، الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ: قَالَ بَعْضُ مَشَائِخِنَا: لَمْ يُسْنِدْ هَذَا الْخَبَرَ غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَشُعْبَةُ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ الْخَبَرُ مَرْفُوعًا وَأَخْطَأَ أَيْضًا فِي تَسْمِيَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَقَدِ اخْتَلَفَ الرُّوَاةُ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: فَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ كَمَا مَضَى وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَأَرْسَلَهُ إِلَّا أَنَّهُ وَافَقَ مُحَمَّدًا فِي رَفْعِهِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہیل مستحاضہ ہوگئیں، وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں، آپ ﷺ نے انھیں حکم دیا کہ ”وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے“، جب یہ ان کے لیے مشقت کا باعث بنا، آپ ﷺ نے انھیں حکم دیا کہ ”ایک غسل سے ظہر اور عصر ادا کرلے اور مغرب اور عشاء ایک غسل سے اور صبح کے لیے الگ غسل کرے۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ ﷺ نے ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا تھا جب ان پر یہ مشکل ہوگیا تو آپ ﷺ نے ان کو حکم دیا (پھر باقی حدیث ذکر کی)۔
(ج) ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ ہمارے بعض مشائخ کا کہنا ہے: محمد بن اسحاق کے علاوہ اس حدیث کو کوئی نہیں بیان کرتا، امام شعبہ نے نبی ﷺ سے اس حدیث کو نقل نہیں کیا اور اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے اور مستحاضہ کے نام کو بھی غلط قرار دیا ہے۔
(د) امام ابوبکر کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند کے راویوں میں اختلاف ہے۔
(ر) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کو شعبہ اور محمد بن اسحاق نے نقل کیا ہے جیسے پیچھے گزر چکا ہے۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ ﷺ نے ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا تھا جب ان پر یہ مشکل ہوگیا تو آپ ﷺ نے ان کو حکم دیا (پھر باقی حدیث ذکر کی)۔
(ج) ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ ہمارے بعض مشائخ کا کہنا ہے: محمد بن اسحاق کے علاوہ اس حدیث کو کوئی نہیں بیان کرتا، امام شعبہ نے نبی ﷺ سے اس حدیث کو نقل نہیں کیا اور اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے اور مستحاضہ کے نام کو بھی غلط قرار دیا ہے۔
(د) امام ابوبکر کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند کے راویوں میں اختلاف ہے۔
(ر) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کو شعبہ اور محمد بن اسحاق نے نقل کیا ہے جیسے پیچھے گزر چکا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ثنا إِسْحَاقُ، أنبأ سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ اسْتُحِيضَتْ فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْحَدِيثَ وَرُوِيَ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان عورت مستحاضہ ہو گئی، اس نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا۔۔۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَمْنَةَ فَقُلْتُ: إِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ فَقَالَ: " لِتَجْلِسْ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلْ وَتُؤَخِّرِ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِ الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّي وَتُؤَخِّرِ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّيهِمَا وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ وَرُوِيَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حمنہ رضی اللہ عنہا کے متعلق سوال کیا کہ وہ مستحاضہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھی رہے، پھر غسل کرے اور ظہر کو مؤخر کر دے اور عصر کو جلدی ادا کر لے، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے، اور مغرب کو مؤخر کر دے اور عشاء کو جلدی ادا کر لے اور غسل کرے اور نماز پڑھے اور فجر کے لیے ایک غسل کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا وَهْبُ بْنُ ⦗٥٢١⦘ بَقِيَّةَ ثنا خَالِدٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ثنا خَالِدٌ عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَلِيٍّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَرِوَايَةُ أَبِي عَلِيٍّ أَصَحُّ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ فَقَالَ: " سُبْحَانَ اللهِ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ " فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى رَأَيْنَا الصَّفَارَةَ فَوْقَ الْمَاءِ فَقَالَ: " تَغْتَسِلُ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَتَوَضَّأُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَلِيٍّ: لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ فَإِذَا رَأَتْ صَفَارَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ وَذَكَرَهُ، هَكَذَا رَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَيْهِ وَالْمَشْهُورُ رِوَايَةُ الْجُمْهُورِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ فِي شَأْنِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ كَمَا مَضَى وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے (اور ایک روایت میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہیں، اور ابو علی کی روایت زیادہ صحیح ہے)، فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا اتنے عرصے سے مستحاضہ ہے اور اس نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“! یہ شیطان کی طرف سے ہے، اسے کہو ٹب میں بیٹھے۔“ وہ بیٹھی یہاں تک کہ ہم نے زردی پانی کے اوپر دیکھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظہر اور عصر کے لیے ایک غسل کرے، پھر مغرب اور عشاء کے لیے ایک غسل کرے، پھر فجر کے لیے ایک غسل کرے اور اس کے درمیان وضو کرے۔“
اور ابو علی کی حدیث میں ہے کہ ٹب میں بیٹھے جب پانی کے اوپر زردی دیکھے تو غسل کرے۔
اور ابو علی کی حدیث میں ہے کہ ٹب میں بیٹھے جب پانی کے اوپر زردی دیکھے تو غسل کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْقُرَشِيُّ ثنا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: جَاءَتْ خَالَتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَقَعَ فِي النَّارِ إِنِّي أَدَعُ الصَّلَاةَ السَّنَّةَ وَالسَّنَتَيْنِ لَا أُصَلِّي فَقَالَتِ: انْتَظِرِي حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: هَذِهِ فَاطِمَةُ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولِي لَهَا فَلْتَدَعِ الصَّلَاةَ فِي كُلِّ شَهْرٍ أَيَّامَ قُرْئِهَا ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ فِي كُلِّ يَوْمٍ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ الطُّهُورُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلْتُنَظِّفْ وَلْتَحْتَشِ فَإِنَّمَا هُوَ دَاءٌ عَرَضَ أَوْ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ " وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ كَذَلِكَ وَقَالَ: ثُمَّ الطُّهُورُ بَعْدَ ذَلِكَ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَخَالَفَهُ غَيْرُهُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور کہا: میں ڈرتی ہوں کہ کہیں جہنم میں نہ چلی جاؤں، میں نے سال، دو سال سے نماز چھوڑ رکھی ہے، میں نہیں پڑھ سکی۔ انہوں نے کہا: تو انتظار کر یہاں تک کہ نبی ﷺ تشریف لائیں، آپ ﷺ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ فاطمہ ہے، اس طرح کہہ رہی ہے، نبی ﷺ نے انہیں فرمایا: ”اسے کہہ دو کہ ہر مہینے اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر ہر روز ایک غسل کرے، پھر ہر نماز کے وقت وضو کرے، اور صفائی کرے اور روئی رکھے، کیونکہ یہ ایک بیماری ہے جو اسے لاحق ہو گئی ہے یا شیطان کی طرف سے چوکا ہے یا رگ کٹ گئی ہے۔“ (ب) ابو عاصم سے اسی طرح منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أنا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ خَالَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ أَنَّهَا اسْتَحَاضَتْ فَأَتَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ فَاطِمَةُ ذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولِي ⦗٥٢٢⦘ لِفَاطِمَةَ تُمْسِكُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي كُلِّ شَهْرٍ عِدَادَ أَقْرَائِهَا قَبْلَ أَنْ يَعْرِضَ لَهَا هَذَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ غِسْلَةً وَاحِدَةً ثُمَّ الطُّهْرُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ اپنی خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ مستحاضہ ہوئیں اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور اپنی بیماری کا تذکرہ کیا، نبی ﷺ تشریف لائے تو آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! فاطمہ نے (اس اس طرح) ذکر کیا ہے وہ استحاضہ والی ہے۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ سے کہو: وہ ہر مہینے اپنے حیض کی گزشتہ عادت کے مطابق (اتنے دن) نماز سے رکی رہے، پھر ایک دفعہ غسل کرے، پھر ہر نماز کے لیے وضو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ عَلِيٌّ وَحَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي الْأَشْعَثِ أَنَّ خَالَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ فَلَبِثَتْ زَمَانًا لَا تُصَلِّي فَأَتَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ فَاطِمَةُ ذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولِي لِفَاطِمَةَ تُمْسِكُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي كُلِّ شَهْرٍ عَدَدَ أَقْرَائِهَا قَبْلَ أَنْ يَعْرِضَ لَهَا هَذَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ غَسْلَةً وَاحِدَةً ثُمَّ الطُّهْرُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابی الاشعث کی حدیث میں ہے کہ ان کی خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں اور ایک عرصہ ٹھہری رہیں، وہ نماز نہیں پڑھتی تھیں، وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور ان سے ذکر کیا۔ نبی ﷺ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! فاطمہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ مستحاضہ ہو گئی ہیں۔“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ کو کہو: ہر ماہ میں اپنے حیض کی اس گنتی کے مطابق جو استحاضہ آنے سے پہلے تھی نماز سے رکی رہے، پھر ایک دفعہ غسل کرے پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ عَلِيٌّ: وَثَنَا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ قَالَا: ثنا، عَنْبَسَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي الْأَشْعَثِ أَنَّ خَالَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ فَلَبِثَتْ زَمَانًا لَا تُصَلِّي فَأَتَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا وَذَكَرَتْ قِصَّةً قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولِي لِفَاطِمَةَ تُمْسِكُ فِي كُلِّ شَهْرٍ عَنِ الصَّلَاةِ عَدَدَ قُرُوئِهَا فَإِذَا مَضَتْ تِلْكَ الْأَيَّامُ فَلْتَغْتَسِلْ غَسْلَةً وَاحِدَةً تَسْتَدْخِلُ وَتُنَظِّفُ وَتَسْتَثْفِرُ ثُمَّ الطُّهُورُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي فَإِنَّ الَّذِي أَصَابَهَا رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ أَوْ دَاءٌ عَرَضَ لَهَا " قَالَ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ: فَسَأَلْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ فَأَخْبَرَنِي بِنَحْوِهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَرُوِيَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ مَعْنَى الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَعُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يُضَعَّفَانِ أَمْرَهُ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا اور ابی الاشعث کی حدیث میں ہے کہ ان کی خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں، وہ ایک لمبا عرصہ ٹھہری رہیں اور نماز نہیں پڑھتی تھیں، وہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور ان سے سارا قصہ بیان کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ سے کہو: اپنے حیض کی گنتی میں ہر ماہ نماز پڑھنے سے رکی رہے، جب یہ دن گزر جائیں تو وہ ایک دفعہ غسل کرے اور صفائی کرے اور لنگوٹ باندھے، پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے اور نماز پڑھے۔ اس کو شیطان کی طرف سے چوکا پہنچا ہے یا رگ کٹ گئی ہے یا بیماری پیش آگئی ہے۔“
حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں اور عثمان بن سعد کاتب قوی نہیں ہے، یحییٰ بن سعید اور یحییٰ بن معین اسے ضعیف قرار دیتے تھے۔
حجاج بن ارطاۃ قابلِ حجت نہیں اور عثمان بن سعد کاتب قوی نہیں ہے، یحییٰ بن سعید اور یحییٰ بن معین اسے ضعیف قرار دیتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثنا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ الْغُبَرِيُّ ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ⦗٥٢٣⦘ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ كَيْفَ تَصْنَعُ قَالَ: " تَقْعُدُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ فِي كُلِّ يَوْمٍ عِنْدَ كُلِّ طَهُورٍ وَتُصَلِّي " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، عَنْ جَعْفَرٍ وَقَالَ وَهْبَانِ بْنُ بَقِيَّةَ: تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے مستحاضہ عورت کے متعلق سوال کیا کہ وہ کیسے کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھی رہے، پھر ہر دن ہر وضو کے وقت غسل کرے اور نماز پڑھے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ فَقَالَ: " تَقْعُدُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ ثُمَّ تَحْتَشِي ثُمَّ تُصَلِّي " قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ: جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ فِيهِ نَظَرٌ وَلَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ لِابْنِ جُرَيْجٍ وَلَا لِأَبِي الزُّبَيْرِ مِنْ وَجْهٍ غَيْرِ هَذَا وَبِمِثْلِهِ لَا تَقُومُ حُجَّةٌ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهَا تَغْتَسِلُ لِكُلِّ يَوْمٍ وَفِي رِوَايَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَفِي رِوَايَةٍ لَمَّا اشْتَدَّ عَلَيْهَا الْغُسْلُ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ وَفِي إِحْدَى الرِّوَايَاتِ عَنْ عَائِشَةَ كَذَلِكَ، وَفِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ كُلَّ يَوْمٍ غُسْلًا، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ الْوُضُوءُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِيعِ عَنِ الشَّافِعِيِّ قَالَ: وَفِي حَدِيثِ حَمْنَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " إِنْ قَوِيتِ فَاجْمَعِي بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَصَلِّي الصُّبْحَ بِغُسْلٍ " وَأَعْلَمَهَا أَنَّهُ أَحَبُّ الْأَمْرَيْنِ إِلَيْهِ لَهَا وَأَنَّهُ يُجْزِئُهَا الْأَمْرُ الْأَوَّلُ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ الطُّهْرِ مِنَ الْحَيْضِ ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْهَا بِغُسْلٍ بَعْدَهُ قَالَ: وَإِنْ رُوِيَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ حَدِيثٌ مُعَلَّقٌ فَحَدِيثُ حَمْنَةَ بَيَّنَ أَنَّهُ اخْتِيَارٌ وَأَنَّ غَيْرَهُ يُجْزِئُ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے مستحاضہ کے متعلق سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھی رہے گی، پھر ہر طہر کے لیے غسل کر، روئی رکھے اور نماز پڑھے۔“
(ب) ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ جعفر بن سلیمان محلِ نظر ہے، یہ حدیث ابن جریج اور ابو زبیر سے اس سند کے علاوہ کسی اور طریق سے معروف نہیں اور اس جیسی روایات قابلِ حجت نہیں، اس میں اختلاف ہے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ہر دن غسل کرے گی، ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہر نماز کے لیے غسل کرے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہر نماز کے وقت (غسل کرے گی)۔
(ر) ایک روایت میں ہے کہ جب ان پر غسل کرنا مشکل ہو گیا تو آپ ﷺ نے انھیں دو نمازیں جمع کرنے کا حکم دیا۔
(س) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طہر سے دوسرے طہر تک غسل کرے گی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی ایک روایت اسی طرح ہے، دوسری روایت میں ہے کہ ہر روز غسل کرے گی۔
(ش) ایک دوسری روایت میں ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔
(ص) امام شافعی رحمہ اللہ سے سیدہ حمنہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں منقول ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تو طاقت رکھے تو ایک غسل کے ساتھ ظہر اور عصر کو جمع کرے، پھر ایک غسل کے ساتھ مغرب اور عشاء کو جمع کرلے اور صبح کی نماز ایک غسل کے ساتھ پڑھ لے۔“ انھوں نے بتلایا کہ انھیں دونوں کاموں میں یہ زیادہ پسندیدہ تھا، اگرچہ انھیں پہلا حکم بھی کافی تھا کہ وہ حیض سے طہر کے لیے غسل کرے، پھر اس کے بعد غسل کا حکم نہیں تھا، مستحاضہ والی روایت مطلق ہے، حدیثِ حمنہ میں اختیار ہے۔
(ب) ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ جعفر بن سلیمان محلِ نظر ہے، یہ حدیث ابن جریج اور ابو زبیر سے اس سند کے علاوہ کسی اور طریق سے معروف نہیں اور اس جیسی روایات قابلِ حجت نہیں، اس میں اختلاف ہے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ہر دن غسل کرے گی، ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہر نماز کے لیے غسل کرے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہر نماز کے وقت (غسل کرے گی)۔
(ر) ایک روایت میں ہے کہ جب ان پر غسل کرنا مشکل ہو گیا تو آپ ﷺ نے انھیں دو نمازیں جمع کرنے کا حکم دیا۔
(س) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طہر سے دوسرے طہر تک غسل کرے گی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی ایک روایت اسی طرح ہے، دوسری روایت میں ہے کہ ہر روز غسل کرے گی۔
(ش) ایک دوسری روایت میں ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔
(ص) امام شافعی رحمہ اللہ سے سیدہ حمنہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں منقول ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تو طاقت رکھے تو ایک غسل کے ساتھ ظہر اور عصر کو جمع کرے، پھر ایک غسل کے ساتھ مغرب اور عشاء کو جمع کرلے اور صبح کی نماز ایک غسل کے ساتھ پڑھ لے۔“ انھوں نے بتلایا کہ انھیں دونوں کاموں میں یہ زیادہ پسندیدہ تھا، اگرچہ انھیں پہلا حکم بھی کافی تھا کہ وہ حیض سے طہر کے لیے غسل کرے، پھر اس کے بعد غسل کا حکم نہیں تھا، مستحاضہ والی روایت مطلق ہے، حدیثِ حمنہ میں اختیار ہے۔