کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو کثرتِ مذی یا پیشاب (کے قطروں کی بیماری) میں مبتلا ہو
حدیث نمبر: 1665
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الْفَقِيهُ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْمُفَضَّلِ الْأَسْفَاطِيُّ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ ثنا زَائِدَةُ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ عَنْ ⦗٥٢٤⦘ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً وَكَانَ عِنْدِي ابْنَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ فَأَمَرْتُ رَجُلًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ: " إِذَا وَجَدْتَ ذَلِكَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں بہت زیادہ مذی والا تھا اور میری زوجہ نبی ﷺ کی بیٹی تھی، (اس لیے) میں نے آپ ﷺ سے (اس کے متعلق) پوچھنے سے شرم محسوس کی، میں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آپ ﷺ سے (مذی کے متعلق) سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو یہ پائے تو اپنی شرم گاہ کو دھو اور وضو کر۔“
حدیث نمبر: 1666
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَجُلًا مَذَّاءً فَكَانَ يَأْخُذُ الْفَتِيلَةَ فَيُدْخِلُهَا فِي إِحْلِيلِهِ " ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بہت زیادہ مذی والے آدمی تھے، وہ اپنی پیشاب والی جگہ میں بٹی ہوئی بتی رکھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1667
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: " إِنِّي لَأَجِدُهُ يَنْحَدِرُ مِنِّي مِثْلَ الْخَزِيرَةِ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ " يَعْنِي الْمَذْيَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھ سے گھونگے کی طرح کوئی چیز ن (مذی) نیچے اترتی ہے، جب تم میں سے کوئی یہ پائے تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور نماز جیسا وضو کرے۔
حدیث نمبر: 1668
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ جُنْدُبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ عَنِ الْمَذْيِ فَقَالَ: " إِذَا وَجَدْتَهُ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ".
حافظ ثناء اللہ
جندب جو عبداللہ بن عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی کے غلام تھے، فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مذی کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ”جب تو یہ پائے تو اپنی شرم گاہ کو دھو اور نماز جیسا وضو کر۔“
حدیث نمبر: 1669
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: " كَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَدْ سُلِسَ مِنْهُ الْبَوْلُ فَكَانَ يُدَارِي مِنْهُ مَا غَلَبَ فَلَمَّا غَلَبَهُ أَرْسَلَهُ قَالَ: وَكَانَ يُصَلِّي وَهُوَ يَخْرُجُ مِنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
خارجہ بن زید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو لگاتار پیشاب آتا رہتا تھا، وہ اس کا علاج کرتے رہے لیکن افاقہ نہ ہوا، جب وہ (مرض) ان پر غالب آگیا تو انہوں نے (علاج) چھوڑ دیا؛ راوی کہتا ہے کہ وہ نماز پڑھتے تھے تو (بعض دفعہ) (پیشاب) نکل رہا ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 1670
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا إِسْحَاقُ يَعْنِي الْحَنْظَلِيَّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كَبِرَ زَيْدٌ حَتَّى سَلَسَ مِنْهُ الْبَوْلُ فَكَانَ يُدَارِيهِ مَا اسْتَطَاعَ فَإِذَا غَلَبَهُ تَوَضَّأَ وَصَلَّى " وَقَدْ رُوِيَ فِي مَعْنَاهُ حَدِيثٌ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
خارجہ بن زید بن ثابت سے روایت ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی عمر زیادہ ہوگئی تو ان کو لگاتار پیشاب آتا تھا، وہ اس کی دوا کرتے تھے جتنی طاقت رکھتے تھے، جب ان پر غالب آگیا تو انہوں نے وضو کیا اور نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 1671
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مِهْرَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ⦗٥٢٥⦘ إِنَّ بِي بَاسُورًا وَكُلَّمَا تَوَضَّأْتُ سَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَوَضَّأْتَ فَسَالَ مِنْ قَرْنِكَ إِلَى قَدَمِكَ فَلَا وُضُوءَ عَلَيْكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بواسیر ہے، جب میں وضو کرتا ہوں وہ بہہ پڑتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تو وضو کرلے تو وہ تیری شرمگاہ سے بہہ کر تیرے پاؤں تک چلی جائے، تب بھی تجھ پر وضو نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 1672
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ثنا أَبُو يَعْلَى ثنا سُوَيْدٌ ثنا بَقِيَّةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ بِي الْبَاصُورَ وَإِنِّي أَتَوَضَّأُ فَيَسِيلُ ثُمَّ ذَكَرَ الْبَاقِي بِنَحْوِهِ. قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا مُنْكَرٌ لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ غَيْرُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَهُوَ مَجْهُولٌ لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عبدالملک نے اسی سند سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: مجھے بواسیر ہے اور جب بھی میں وضو کرتا ہوں تو (خون) بہہ پڑتا ہے۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔ (ب) ابو احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ روایت منکر ہے، مجھے معلوم نہیں کہ عبدالملک بن مہران کے علاوہ کسی اور نے عمرو بن دینار سے یہ روایت نقل کی ہو۔ (ج) ابو احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ مجہول راوی ہے۔