أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ ثنا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْقُرَشِيُّ ثنا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: جَاءَتْ خَالَتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَقَعَ فِي النَّارِ إِنِّي أَدَعُ الصَّلَاةَ السَّنَّةَ وَالسَّنَتَيْنِ لَا أُصَلِّي فَقَالَتِ: انْتَظِرِي حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: هَذِهِ فَاطِمَةُ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولِي لَهَا فَلْتَدَعِ الصَّلَاةَ فِي كُلِّ شَهْرٍ أَيَّامَ قُرْئِهَا ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ فِي كُلِّ يَوْمٍ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ الطُّهُورُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلْتُنَظِّفْ وَلْتَحْتَشِ فَإِنَّمَا هُوَ دَاءٌ عَرَضَ أَوْ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ " وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ كَذَلِكَ وَقَالَ: ثُمَّ الطُّهُورُ بَعْدَ ذَلِكَ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَخَالَفَهُ غَيْرُهُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ.(الف) ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری خالہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور کہا: میں ڈرتی ہوں کہ کہیں جہنم میں نہ چلی جاؤں، میں نے سال، دو سال سے نماز چھوڑ رکھی ہے، میں نہیں پڑھ سکی۔ انہوں نے کہا: تو انتظار کر یہاں تک کہ نبی ﷺ تشریف لائیں، آپ ﷺ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ فاطمہ ہے، اس طرح کہہ رہی ہے، نبی ﷺ نے انہیں فرمایا: ”اسے کہہ دو کہ ہر مہینے اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر ہر روز غسل کرے پھر وضو کرے، ہر نماز کے وقت صفائی کرے اور تنہائی اختیار کرے اسے وہ بیماری ہے جو شیطان کی طرف سے چوکا ہے یا رگ کٹ گئی ہے۔“ (ب) ابو عاصم سے اسی طرح منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“