حدیث نمبر: 1639
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ مِلْحَانَ ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتِ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ فَقَالَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي " فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ قَالَ اللَّيْثُ: فَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ أَنْ تَغْتَسِلَ يَعْنِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ فَعَلَتْهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ عَنِ اللَّيْثِ وَذَكَرَ كَلَامَ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَبِمَعْنَاهُ قَالَهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ أَيْضًا وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ رِوَايَتَهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِيعِ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ وَلَيْسَ فِيهِ أَنَّهُ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَلَا أَشُكُّ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى أَنَّ غُسْلَهَا كَانَ تَطَوُّعًا غَيْرَ مَا أُمِرْتَ بِهِ وَذَلِكَ وَاسِعٌ لَهَا، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ رَوَى غَيْرُ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَلَكِنْ رَوَاهُ، عَنْ عَمْرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَالسِّيَاقِ وَالزُّهْرِيُّ أَحْفَظُ مِنْهُ وَقَدْ رَوَى فِيهِ شَيْئًا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْحَدِيثَ غَلَطٌ قَالَ: تَتْرُكُ الصَّلَاةَ قَدْرَ أَقْرَائِهَا وَعَائِشَةُ تَقُولُ الْأَقْرَاءُ الْأَطْهَارُ وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهَ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں استحاضہ والی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے پس غسل کر اور نماز پڑھ۔“ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ لیث کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے یہ ذکر نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ ہر نماز کے لیے غسل کرے، لیکن وہ ایک کام مزید بھی کرے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔ اس میں یہ نہیں کہ آپ ﷺ نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا۔ «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”اگر اللہ نے چاہا“ مجھے شک نہیں ہے کہ انہیں غسل کا حکم استحبابی تھا، ان پر فرض نہیں کہا گیا تھا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زہری کے علاوہ دوسرے ائمہ نے یہ حدیث بیان کی ہے، نبی ﷺ نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا۔ لیکن ائمہ نے عمرہ سے اسے سند اور سیاق سے روایت کیا ہے، امام زہری کی روایت اس سے زیادہ محفوظ ہے، اس میں ایک ایسی چیز بیان ہوئی ہے جو حدیث کے غلط ہونے پر دلالت ہے کہ وہ اپنے حیض کی مقدار نماز چھوڑے گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ «الأَقْرَاءُ» سے مراد طہر ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحيض / حدیث: 1639
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ هو بهذا اللفظ في مسلم 334»