حدیث نمبر: 1657
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَمْنَةَ فَقُلْتُ: إِنَّهَا مُسْتَحَاضَةٌ فَقَالَ: " لِتَجْلِسْ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلْ وَتُؤَخِّرِ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِ الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّي وَتُؤَخِّرِ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِ الْعِشَاءَ وَتَغْتَسِلْ وَتُصَلِّيهِمَا وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ وَرُوِيَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حمنہ رضی اللہ عنہا کے متعلق سوال کیا کہ وہ مستحاضہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھی رہے، پھر غسل کرے اور ظہر کو مؤخر کر دے اور عصر کو جلدی ادا کر لے اور مغرب کو مؤخر کر دے اور عشاء کو جلدی ادا کر لے اور غسل کرے اور نماز پڑھے اور فجر کے لیے ایک غسل کرے۔“