کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مستحاضہ خون کا اثر دھو لے گی، غسل کرے گی، کپڑے کا لنگوٹ کس کر باندھے گی اور نماز پڑھے گی پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 1621
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَبُو عَقِيلٍ عَنْ بُهَيَّةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ عَائِشَةَ يَعْنِي، عَنْ حَيْضِهَا، أَظُنُّهُ قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ امْرَأَةٍ فَسَدَ حَيْضُهَا وَأُهْرِيقَتْ دَمًا فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آمُرَهَا فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحِيضُ فِي كُلِّ شَهْرٍ وَحَيْضُهَا مُسْتَقِيمٌ وَقَالَ: " فَلْتَقْعُدْ بِقَدْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَيَّامِ ثُمَّ لِتَدَعِ الصَّلَاةَ فِيهِنَّ وَبِقَدْرِهِنَّ ثُمَّ تَغْتَسِلْ ثُمَّ تَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ لِتُصَلِّ ".
حافظ ثناء اللہ
بہیہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک عورت سے سنا، وہ (شاید) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے حیض کے متعلق سوال کر رہی تھی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس کا حیض خراب ہو گیا اور وہ خون بہا رہی تھی، تو مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ”میں اسے حکم دوں کہ وہ اتنا انتظار کرے جتنا ہر ماہ میں حیض گزارتی تھی اور ان دنوں کی مقدار بیٹھی رہے اور نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے اور کپڑے سے لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھے۔“
حدیث نمبر: 1622
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَعْدٍ الْمَرْثَدِيُّ ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتَفْتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ: " ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ أَثَرَ الدَّمِ وَتَوَضَّئِي وَصَلِّي فَإِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الرَّبِيعِ وَفِي حَدِيثِ خَلَفٍ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَتَوَضَّئِي وَصَلِّي" وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ دُونَ قَوْلِهِ: وَتَوَضَّئِي وَكَأَنَّهُ ضَعَّفَهُ لِمُخَالَفَتِهِ سَائِرَ الرُّوَاةِ، عَنْ هِشَامٍ وَرَوَاهُ أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، عَنْ هِشَامٍ إِلَّا أَنَّهُ أَرْسَلَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میں استحاضہ والی ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو اپنے جسم سے خون دھو، وضو کر اور نماز پڑھ، یہ ایک رگ سے ہے، حیض نہیں ہے۔“
ایک روایت میں ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے آپ سے خون دھو، وضو کر اور نماز پڑھ۔“
ایک روایت میں ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے آپ سے خون دھو، وضو کر اور نماز پڑھ۔“
حدیث نمبر: 1623
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْمَرْوَزِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ثنا أَبُو حَمْزَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: " فَاغْتَسِلِي عِنْدَ طُهْرِكِ وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ " ⦗٥٠٨⦘ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرَوَى إِبْرَاهِيَمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، عَنْ دَاوُدَ الْعَطَّارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَرَوَى الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: " وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ " قَالَ الشَّيْخُ: وَالصَّحِيحُ أَنَّ هَذِهِ الْكَلِمَةَ مِنْ قَوْلِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ہشام اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ بے شک فاطمہ بنت حبیش رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں استحاضہ والی ہوں، میں پاک نہیں ہوتی۔۔۔ اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے طہر کے وقت غسل کر اور نماز کے لیے وضو کر۔“
ایک روایت میں ہے کہ ”ہر نماز کے لیے وضو کر۔“ (ب) شیخ کہتے ہیں کہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کا قول ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ ”ہر نماز کے لیے وضو کر۔“ (ب) شیخ کہتے ہیں کہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کا قول ہے۔
حدیث نمبر: 1624
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةُ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ: " لَا إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضِ فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي " قَالَ: قَالَ أَبِي: ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى دُونَ قَوْلِ عُرْوَةَ وَقَوْلُ عُرْوَةَ فِيهِ صَحِيحٌ وَرُوِيَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں استحاضہ والی عورت ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں یہ ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے، جب تیرا حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو اپنے جسم سے خون دھو، پھر نماز پڑھ۔“ راوی کہتے ہیں: میرے باپ نے کہا: پھر ہر نماز کے لیے وضو کر یہاں تک کہ (دوسری نماز کا) وقت آجائے۔
حدیث نمبر: 1625
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا وَكِيعٌ ثنا الْأَعْمَشُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ثنا وَكِيعٌ ثنا الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: " لَا، إِنَّمَا ذَاكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ اجْتَنِبِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ وَهَكَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ وَقُرَّةُ بْنُ عِيسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ وَجَمَاعَةٌ عَنِ الْأَعْمَشِ وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيِّ ⦗٥٠٩⦘ وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَبُو أُسَامَةَ وَأَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ فَوَقَفُوهُ عَلَى عَائِشَةَ وَاخْتَصَرُوهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: جِئْنَا مِنْ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيِّ إِلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ؟ قُلْنَا: مِنْ عِنْدِ ابْنِ دَاوُدَ فَقَالَ: مَا حَدَّثَكُمْ؟ قُلْنَا: حَدَّثَنَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ الْحَدِيثَ فَقَالَ يَحْيَى: أَمَا إِنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ كَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ بِهَذَا، زَعَمَ أَنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ شَيْئًا وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو يَحْيَى السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيَّ يَقُولُ: حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ شَيْئًا قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: حَدِيثُ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ لَا شَيْءَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: حَبِيبٌ ثَبْتٌ؟ قَالَ: نَعَمْ إِنَّمَا رَوَى حَدِيثَيْنِ قَالَ: أَظُنُّ يَحْيَى يُرِيدُ مُنْكَرَيْنِ حَدِيثُ: تُصَلِّي الْحَائِضُ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ وَحَدِيثُ الْقُبْلَةِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: حَدِيثُ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ ضَعِيفٌ وَدَلَّ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ هَذَا أَنَّ حَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ وَقَفَهُ عَلَى عَائِشَةَ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ حَدِيثُ حَبِيبٍ مَرْفُوعًا وَوَقَفَهُ أَيْضًا أَسْبَاطٌ ⦗٥١٠⦘ عَنِ الْأَعْمَشِ وَرَوَاهُ ابْنُ دَاوُدَ عَنِ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا أَوَّلُهُ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَدَلَّ عَلَى ضَعْفِ حَدِيثِ حَبِيبٍ هَذَا أَنَّ رِوَايَةَ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ فِي حَدِيثِ الْمُسْتَحَاضَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں استحاضہ والی عورت ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے، اپنے حیض کے دنوں میں نماز نہ پڑھ، پھر غسل کر اور ہر نماز کے لیے وضو کر، اگرچہ خون چٹائی پر گرتا ہے۔“
(ب) حفص بن غیاث، ابو اسامہ اور اسباط بن محمد نے اعمش سے نقل کیا ہے اور انہوں نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف قرار دیا ہے۔
(ج) عبدالرحمن بن بشر بن حکم کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن داؤد خریبی کے پاس سے یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے کہا: ابن داؤد کے پاس سے۔ انہوں نے پوچھا: تم سے کیا بیان کیا؟ ہم نے کہا: اعمش عن حبیب بن ابی ثابت عن عروہ عن عائشہ۔ یحییٰ نے کہا: سفیان ثوری رحمہ اللہ اس (سند) کو لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں، ان کا گمان ہے کہ حبیب بن ابی ثابت کا عروہ بن زبیر سے سماع ثابت نہیں ہے۔
(د) شیخ علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حبیب بن ابی ثابت کا عروہ بن زبیر سے سماع ثابت نہیں ہے۔ امام یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: حبیب کے عروہ سے روایت کرنے میں کوئی حیثیت نہیں۔
(ر) عباس بن محمد دوری کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے پوچھا کہ حبیب کی روایات ثابت ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر انہوں نے دو روایات بیان کی ہیں۔ عباس کا گمان ہے کہ ان کی مراد دو منکر روایات ہیں: (۱) حائضہ نماز پڑھے گی اگرچہ خون چٹائی پر گرے اور دوسری حدیثِ قبلہ۔
(س) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اعمش کی جو حدیث حبیب سے ہو وہ ضعیف ہے۔
(ش) اعمش کی حبیب سے حدیث کے ضعیف ہونے کی دلیل حفص بن غیاث کا موقوف ٹھہرانا ہے۔ انہوں نے حبیب کی حدیث کے مرفوع ہونے سے انکار کیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے بھی اعمش سے نقل بیان کی ہے۔ ابن داؤد نے اعمش سے مرفوع نقل کی ہے اور اس بات کا انکار کیا ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو ہو۔ حبیب کی حدیث کے ضعیف ہونے پر دلیل زہری کی روایت ہے جو عروہ عن عائشہ ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ ہر نماز کے لیے وضو کرتی تھیں۔ یہ مستحاضہ والی حدیث میں ہے۔
(ب) حفص بن غیاث، ابو اسامہ اور اسباط بن محمد نے اعمش سے نقل کیا ہے اور انہوں نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف قرار دیا ہے۔
(ج) عبدالرحمن بن بشر بن حکم کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن داؤد خریبی کے پاس سے یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے کہا: ابن داؤد کے پاس سے۔ انہوں نے پوچھا: تم سے کیا بیان کیا؟ ہم نے کہا: اعمش عن حبیب بن ابی ثابت عن عروہ عن عائشہ۔ یحییٰ نے کہا: سفیان ثوری رحمہ اللہ اس (سند) کو لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں، ان کا گمان ہے کہ حبیب بن ابی ثابت کا عروہ بن زبیر سے سماع ثابت نہیں ہے۔
(د) شیخ علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حبیب بن ابی ثابت کا عروہ بن زبیر سے سماع ثابت نہیں ہے۔ امام یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: حبیب کے عروہ سے روایت کرنے میں کوئی حیثیت نہیں۔
(ر) عباس بن محمد دوری کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے پوچھا کہ حبیب کی روایات ثابت ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر انہوں نے دو روایات بیان کی ہیں۔ عباس کا گمان ہے کہ ان کی مراد دو منکر روایات ہیں: (۱) حائضہ نماز پڑھے گی اگرچہ خون چٹائی پر گرے اور دوسری حدیثِ قبلہ۔
(س) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اعمش کی جو حدیث حبیب سے ہو وہ ضعیف ہے۔
(ش) اعمش کی حبیب سے حدیث کے ضعیف ہونے کی دلیل حفص بن غیاث کا موقوف ٹھہرانا ہے۔ انہوں نے حبیب کی حدیث کے مرفوع ہونے سے انکار کیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے بھی اعمش سے نقل بیان کی ہے۔ ابن داؤد نے اعمش سے مرفوع نقل کی ہے اور اس بات کا انکار کیا ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو ہو۔ حبیب کی حدیث کے ضعیف ہونے پر دلیل زہری کی روایت ہے جو عروہ عن عائشہ ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ ہر نماز کے لیے وضو کرتی تھیں۔ یہ مستحاضہ والی حدیث میں ہے۔
حدیث نمبر: 1626
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو الْعَلَاءِ يَعْنِي أَيُّوبَ بْنَ أَبِي مِسْكِينٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: " تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ مَرَّةً ثُمَّ تَتَوَضَّأُ إِلَى مِثْلِ أَيَّامِ أَقْرَائِهَا فَإِنْ رَأَتْ صُفْرَةً انْتَضَحَتْ وَتَوَضَّأَتْ وَصَلَّتْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے مستحاضہ کے متعلق فرمایا: ”اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر ایک مرتبہ غسل کرے، پھر اپنے طہر کے دنوں کی طرح وضو کرے، اگر زردی دیکھے تو چھینٹے مارے اور وضو کر کے نماز پڑھے۔“
حدیث نمبر: 1627
قَالَ: وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا أَبُو الْعَلَاءِ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ عَنِ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ..
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے اسی پچھلی روایت کی طرح نقل فرماتی ہیں۔
حدیث نمبر: 1628
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ثنا يَزِيدُ، فَذَكَرَهُمَا بِالْإِسْنَادَيْنِ إِلَّا أَنَّهُ جَعَلَ الْأَوَّلَ مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَحَدِيثُ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ ضَعِيفٌ لَا يَصِحُّ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَرُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
(الف) یزید نے دونوں سندوں سے بیان کیا ہے مگر اس نے پہلے کو عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے۔ (ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایوب رحمہ اللہ کی حدیث ضعیف ہے۔ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ ابویوسف رحمہ اللہ سے مرفوعاً نقل کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 1629
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُقْبَةَ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ ثنا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ ثنا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَمِيرَ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَانْظُرِي أَيَّامَ أَقْرَائِكِ فَإِذَا جَاوَزْتِ فَاغْتَسِلِي وَاسْتَدْفِرِي ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس آئیں، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں استحاضہ والی عورت ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے، اپنے حیض کے دنوں کا انتظار کر، جب وہ گزر جائیں تو غسل کر اور لنگوٹ باندھ کر نماز کے لیے وضو کر۔“
حدیث نمبر: 1630
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَاهِلِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. قَالَ عَلِيٌّ: تَفَرَّدَ بِهِ عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، عَنْ أَبِي يُوسُفَ، وَالَّذِي عِنْدَ النَّاسِ عَنْ ⦗٥١١⦘ إِسْمَاعِيلَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَوْقُوفًا: " الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا وَتَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
اسماعیل اس سند سے موقوف روایت نقل کرتے ہیں کہ استحاضہ والی اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے اور ہر نماز کے لیے وضو کرے۔
حدیث نمبر: 1631
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ثنا شُعْبَةُ عَنْ بَيَانٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: " تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضَتِهَا وَتَغْتَسِلُ وَتَسْتَذْفِرُ وَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے اور غسل کر کے لنگوٹ باندھے اور ہر نماز کے وقت وضو کرے۔“
حدیث نمبر: 1632
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ثنا زَائِدَةُ ثنا بَيَانٌ، عَنْ عَامِرٍ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ: ثُمَّ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ. هَكَذَا رِوَايَةُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ وَبَيَانٍ، عَنْ مُغِيرَةَ وَفِرَاسٍ وَمُجَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَرِوَايَةُ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ وَعَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ: تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً، وَكَذَلِكَ فِي رِوَايَةِ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ الْكَاتِبِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ فِي قِصَّةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَرُوِيَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عامر نے نقل کیا ہے کہ ”ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“ (ب) قمیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے کہ ”وہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔“ (ج) قمیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتی ہیں کہ ”وہ روزانہ ایک مرتبہ غسل کرے گی“، اسی طرح عثمان بن سعد کاتب کی روایت ابن ابی ملیکہ سے ہے جو سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کا قصہ نبی ﷺ سے منقول ہے۔ (د) عثمان بن سعد قوی نہیں (ر) حجاج بن ارطاۃ ابن ابی ملیکہ سے نقل فرماتے ہیں اور وہ قوی نہیں۔
حدیث نمبر: 1633
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ثنا إِبْرَاهِيَمُ بْنُ عَلِيٍّ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضَتِهَا وَتَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَتَصُومُ وَتُصَلِّي ".
حافظ ثناء اللہ
ثابت اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، پھر غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی، روزے رکھے گی اور نماز پڑھے گی۔“
حدیث نمبر: 1634
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو ثنا إِبْرَاهِيَمُ ثنا يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَلِيٍّ مِثْلَهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَحْيَى: وَجَدُّهُ اسْمُهُ دِينَارٌ قَالَ أَبُو الْفَضْلِ: فَرَدَدْتُهُ أَنَا عَلَى يَحْيَى فَقَالَ: هُوَ هَكَذَا اسْمُهُ دِينَارٌ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: حَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ هَذَا ضَعِيفٌ لَا يَصِحُّ وَرَوَاهُ أَبُو الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
ثابت کے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔ (ب) عدی بن ثابت اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ان کے دادا کا نام دینار ہے۔ (ج) ابو فضل کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ پر رد کیا تو انہوں نے کہا: اس کا نام دینار ہے۔ (د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عدی بن ثابت کی حدیث ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 1635
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ أَبُو يَعْلَى: قُرِئَ عَلَى بِشْرِ بْنِ الْوَلِيدِ: أَخْبَرَكَ أَبُو يُوسُفَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ الْمُسْتَحَاضَةَ أَنْ تَتَوَضَّأَ لِكُلِّ صَلَاةٍ " تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي أَيُّوبَ الْأَفْرِيقِيِّ وَأَبُو يُوسُفَ ثِقَةٌ إِذَا كَانَ يَرْوِي عَنْ ثِقَةٍ وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتُهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِيعِ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: أَمَا إِنَّا رُوِّينَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الْمُسْتَحَاضَةَ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: قُلْتُ: نَعَمْ قَدْ رَوَيْتُمْ ذَلِكَ وَبِهِ نَقُولُ قِيَاسًا عَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِمَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرٍ أَوْ ذَكَرٍ أَوْ فَرْجٍ قَالَ: وَلَوْ كَانَ هَذَا مَحْفُوظًا عِنْدَنَا كَانَ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنَ الْقِيَاسِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے استحاضہ والی کو حکم دیا کہ ”ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“
(ب) ابو یوسف عبداللہ بن علی ابو ایوب افریقی سے نقل کرنے میں متفرد ہے۔
(ج) ابو یوسف ثقہ ہے جب ثقہ سے نقل کرے۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کہا گیا: ہم نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مستحاضہ کو ”ہر نماز کے لیے وضو“ کا حکم دیا۔ میں نے کہا: میں کہتا ہوں: ہاں یہ تم روایت کر سکتے ہو۔ اسی طرح ہم اس کو نبی ﷺ کی سنت جو وضو کے متعلق ہے کہ دبر، ذکر یا فرج سے کوئی چیز خارج ہو تو وضو ہے، ہم اس کو اس پر قیاس کریں گے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر یہ روایت محفوظ ہو تو ہمیں قیاس سے زیادہ پسند ہے۔
(ب) ابو یوسف عبداللہ بن علی ابو ایوب افریقی سے نقل کرنے میں متفرد ہے۔
(ج) ابو یوسف ثقہ ہے جب ثقہ سے نقل کرے۔
(د) امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کہا گیا: ہم نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مستحاضہ کو ”ہر نماز کے لیے وضو“ کا حکم دیا۔ میں نے کہا: میں کہتا ہوں: ہاں یہ تم روایت کر سکتے ہو۔ اسی طرح ہم اس کو نبی ﷺ کی سنت جو وضو کے متعلق ہے کہ دبر، ذکر یا فرج سے کوئی چیز خارج ہو تو وضو ہے، ہم اس کو اس پر قیاس کریں گے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر یہ روایت محفوظ ہو تو ہمیں قیاس سے زیادہ پسند ہے۔
حدیث نمبر: 1636
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَعَرَضُوا عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَقَالَ: " إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ " ⦗٥١٣⦘ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ اللهَ تَعَالَى أَمَرَهُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ لَا دُخُولَ وَقْتٍ أَوْ خُرُوجَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت الخلاء سے نکلے، کھانا آپ ﷺ کے قریب لایا گیا، صحابہ نے آپ کو پانی پیش کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وضو کا حکم تب دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں۔“ ابوبکر کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے خبر دی کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے انہیں وضو کا حکم دیا جب نماز کے لیے کھڑے ہوں نہ کہ (نماز کے) دخول کے وقت اور نہ خروج کے وقت۔