أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ فَقَالَ: " تَقْعُدُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ ثُمَّ تَحْتَشِي ثُمَّ تُصَلِّي " قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ: جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ فِيهِ نَظَرٌ وَلَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ لِابْنِ جُرَيْجٍ وَلَا لِأَبِي الزُّبَيْرِ مِنْ وَجْهٍ غَيْرِ هَذَا وَبِمِثْلِهِ لَا تَقُومُ حُجَّةٌ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهَا تَغْتَسِلُ لِكُلِّ يَوْمٍ وَفِي رِوَايَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَفِي رِوَايَةٍ لَمَّا اشْتَدَّ عَلَيْهَا الْغُسْلُ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ تَغْتَسِلُ مِنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ وَفِي إِحْدَى الرِّوَايَاتِ عَنْ عَائِشَةَ كَذَلِكَ، وَفِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ كُلَّ يَوْمٍ غُسْلًا، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ الْوُضُوءُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنِ الرَّبِيعِ عَنِ الشَّافِعِيِّ قَالَ: وَفِي حَدِيثِ حَمْنَةُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " إِنْ قَوِيتِ فَاجْمَعِي بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَصَلِّي الصُّبْحَ بِغُسْلٍ " وَأَعْلَمَهَا أَنَّهُ أَحَبُّ الْأَمْرَيْنِ إِلَيْهِ لَهَا وَأَنَّهُ يُجْزِئُهَا الْأَمْرُ الْأَوَّلُ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ الطُّهْرِ مِنَ الْحَيْضِ ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْهَا بِغُسْلٍ بَعْدَهُ قَالَ: وَإِنْ رُوِيَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ حَدِيثٌ مُعَلَّقٌ فَحَدِيثُ حَمْنَةَ بَيَّنَ أَنَّهُ اخْتِيَارٌ وَأَنَّ غَيْرَهُ يُجْزِئُ مِنْهُ.(الف) سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے مستحاضہ کے متعلق سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے حیض کے دنوں میں بیٹھی رہے گی، پھر ہر طہر کے لیے غسل کر، تنہائی اختیار کرے اور نماز پڑھے۔“
(ب) ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ جعفر بن سلیمان محلِ نظر ہے، ابن جریج اور ابو زبیر کی اس سند کے علاوہ کوئی دوسری حدیث نہیں اور اس جیسی روایات قابلِ حجت نہیں، اس میں اختلاف ہے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ہر دن غسل کرے گی، ایک دوسری روایت میں ہے کہ ہر نماز کے لیے غسل کرے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہر نماز کے وقت (غسل کرے گی)۔
(ر) ایک روایت میں ہے کہ جب ان پر غسل کرنا مشکل ہو گیا تو آپ ﷺ نے انھیں دو نمازیں جمع کرنے کا حکم دیا۔
(س) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک طہر سے دوسرے طہر تک غسل کرے گی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی ایک روایت اسی طرح ہے، دوسری روایت میں ہے کہ ہر روز غسل کرے گی۔
(ش) ایک دوسری روایت میں ہے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے کہ ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔
(ص) امام شافعی رحمہ اللہ سے سیدہ حمنہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں منقول ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تو طاقت رکھے تو ایک غسل کے ساتھ ظہر اور عصر کو جمع کرے، پھر ایک غسل کے ساتھ مغرب اور عشاء کو جمع کرلے اور صبح کی نماز ایک غسل کے ساتھ پڑھ لے۔“ انھوں نے بتلایا کہ انھیں دونوں کاموں میں یہ زیادہ پسندیدہ تھا، اگرچہ انھیں پہلا حکم بھی کافی تھا کہ وہ حیض سے طہر کے لیے غسل کرے، پھر اس کے بعد غسل کا حکم نہیں تھا، مستحاضہ والی روایت مطلق ہے، حدیثِ حمنہ میں اختیار ہے۔