وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ثنا عَبْدَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ سَهْلَةَ بِنْتَ سُهَيْلٍ، اسْتُحِيضَتْ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ " ⦗٥٢٠⦘ لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَلِيٍّ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّمَا هِيَ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُهَا بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ فَلَمَّا شَقَّ عَلَيْهَا أَمَرَهَا، الْحَدِيثَ قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ: قَالَ بَعْضُ مَشَائِخِنَا: لَمْ يُسْنِدْ هَذَا الْخَبَرَ غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَشُعْبَةُ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ الْخَبَرُ مَرْفُوعًا وَأَخْطَأَ أَيْضًا فِي تَسْمِيَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَقَدِ اخْتَلَفَ الرُّوَاةُ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: فَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ كَمَا مَضَى وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ فَأَرْسَلَهُ إِلَّا أَنَّهُ وَافَقَ مُحَمَّدًا فِي رَفْعِهِ.(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہل مستحاضہ ہوگئیں، وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں، آپ ﷺ نے انھیں حکم دیا کہ ”وہ ہر نماز کے لیے غسل کرے“، جب انھوں نے اس کی کوشش کی، آپ ﷺ نے انھیں حکم دیا کہ ”ایک غسل سے ظہر اور عصر ادا کرلے اور مغرب اور عشاء ایک غسل سے اور صبح کے لیے الگ غسل کرے۔“
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سہلہ بنت سہل رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ ﷺ نے ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا تھا جب ان پر یہ مشکل ہوگیا تو آپ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ ”...“
(ج) ابوبکر بن اسحاق کہتے ہیں کہ ہمارے بعض مشائخ کا کہنا ہے: محمد بن اسحاق کے علاوہ اس حدیث کو کوئی نہیں بیان کرتا، امام شعبہ نے نبی ﷺ سے اس حدیث کو نقل نہیں کیا اور اس کے مرفوع ہونے کا انکار کیا ہے اور مستحاضہ کے نام کو بھی غلط قرار دیا ہے۔
(د) امام ابوبکر کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند کے راویوں میں اختلاف ہے۔
(ر) شیخہ رحمہا اللہ فرماتی ہیں: اس کو شعبہ اور محمد بن اسحاق نے نقل کیا ہے جیسے پیچھے گزر چکا ہے۔