أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا وَهْبُ بْنُ ⦗٥٢١⦘ بَقِيَّةَ ثنا خَالِدٌ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ثنا خَالِدٌ عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَلِيٍّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَرِوَايَةُ أَبِي عَلِيٍّ أَصَحُّ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ فَقَالَ: " سُبْحَانَ اللهِ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ " فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى رَأَيْنَا الصَّفَارَةَ فَوْقَ الْمَاءِ فَقَالَ: " تَغْتَسِلُ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا ثُمَّ تَتَوَضَّأُ مَا بَيْنَ ذَلِكَ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَلِيٍّ: لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ فَإِذَا رَأَتْ صَفَارَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ وَذَكَرَهُ، هَكَذَا رَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَيْهِ وَالْمَشْهُورُ رِوَايَةُ الْجُمْهُورِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ فِي شَأْنِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ كَمَا مَضَى وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ.میرے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا اتنے عرصے سے مستحاضہ ہے اور اس نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“! یہ شیطان کی طرف سے ہے، اسے کہو ٹب میں بیٹھے۔“ وہ بیٹھی یہاں تک کہ ہم نے زردی پانی کے اوپر دیکھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظہر اور عصر کے لیے ایک غسل کرے، پھر مغرب اور عشاء کے لیے ایک غسل کرے، پھر فجر کے لیے ایک غسل کرے اور اس کے درمیان وضو کرے۔“
اور میرے والد علی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ ٹب میں بیٹھے جب پانی کے اوپر زردی دیکھی تو غسل کرے۔