حدیث نمبر: 1643
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ثنا أَبِي وَإِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرٍ، وَالنَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالُوا: ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَكَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّمَ فَقَالَ لَهَا: " امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي " قَالَ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهَا فَفِي هَذِهِ الرِّوَايَتَيْنِ الصَّحِيحَتَيْنِ بَيَانٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْمُرْهَا بِالْغُسْلِ عِنْدِ كُلِّ صَلَاةٍ ⦗٥١٧⦘ وَأَنَّهَا كَانَتْ تَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهَا فَكَيْفَ يَكُونُ الْأَمْرُ بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَابِتًا مِنْ حَدِيثِ عُرْوَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہما جو عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے خون کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اتنی دیر ٹھہری رہ جتنی دیر تجھ کو تیرا حیض روکے رکھے، پھر غسل کر۔“ راوی کہتا ہے: وہ اپنی طرف سے ہر نماز کے وقت غسل کرتی تھیں۔ (ب) ان دونوں صحیح روایات میں نبی ﷺ نے ہر نماز کے لیے غسل کا حکم نہیں دیا، وہ یہ کام اپنی جانب سے کرتی تھیں۔ تو غسل کا حکم عروہ کی حدیث سے کیسے ثابت ہوگا؟