أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ فَسَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَظِرَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلَ أَوْ تُصَلِّيَ فَإِذَا رَأَتْ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْئًا تَوَضَّأَتْ وَاسْتَثْفَرَتْ وَاحْتَشَتْ وَصَلَّتْ " وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ أَقْرَبُ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ فِي بَابِ الْغُسْلِ وَحَدِيثُ عَائِشَةَ مِنَ الْوَجْهِ الثَّابِتِ عَنْهَا أَوْلَى أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا تَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَتَوَضَّأُ وَهُوَ لَا يُخَالِفُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْهُ.سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا مستحاضہ ہو گئیں، انہوں نے نبی ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ”اپنے حیض کے دنوں میں انتظار کرے، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے، اگر اس کے بعد کوئی چیز دیکھے تو وضو کرے اور لنگوٹ باندھے، تنہائی اختیار کرے اور نماز پڑھے۔“ (ب) یہ روایت منقطع ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے قریب ہے جو باب الغسل میں ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سند سے ثابت ہے۔ اولیٰ ہے کہ وہ صحیح ہو۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ وہ ایک غسل کرتی تھیں، پھر وضو کرتیں اور یہ نبی ﷺ کی روایت کے مخالف نہیں ہے۔