کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: زیادہ پانی کا اس میں نجاست گرنے سے ناپاک نہ ہونے کا بیان جب تک اس کی حالت تبدیل نہ ہو
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ؟ قَالَ: وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا النَّتْنُ وَالْجِيَفُ وَالْحِيَضُ وَالْكِلَابُ فَقَالَ: " الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کر لیں اور وہ ایسا کنواں ہے جس میں بدبودار، مردار اور حیض کے کپڑے اور (مردہ) کتے پھینکے جاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ» ”پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ يَحْيَى الْحَرَّانِيَّانِ، قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُقَالُ لَهُ: إِنَّهُ يُسْتَقَى لَكَ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ تُلْقَى فِيهَا لُحُومُ الْكِلَابِ وَالْمَحَائِضُ وَعِذَرُ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " كَذَا رَوَيَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقِيلَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ وَقَالَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ: عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَلِيطٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ كَمَا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَلِيطٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ وَقِيلَ: عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ وَقِيلَ: عَنْ سَلِيطٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ سے کہا جاتا تھا کہ آپ کو بضاعہ کے کنویں سے پانی پلایا جاتا ہے اور اس میں کتوں کا گوشت، حیض کے کپڑے اور لوگوں کی گندگی پھینکی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پاک ہوتا ہے اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ سَلِيطٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " ⦗٣٩٠⦘ أَتَيْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ مِنْ بُضَاعَةَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ تَتَوَضَّأُ مِنْهَا وَيُلْقَى فِيهَا مَا يُلْقَى فِيهَا مِنَ النَّتَنِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ السَّرِيِّ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيِّ وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَمَّنْ لَا يُتَّهَمُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ بضاعہ کے کنویں سے وضو کر رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس سے وضو کر رہے ہیں، اس میں بدبودار چیزیں پھینکی جاتی ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پاک ہوتا ہے، اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ حَسَنٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، ح. قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَمَّنْ لَا يُتَّهَمُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَدَوِيِّ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: عُبَيْدُ اللهِ: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ تَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ يُطْرَحُ فِيهَا مَا يُنْجِي النَّاسُ وَلُحُومُ الْكِلَابِ وَالْمَحِيضُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " وَقَدْ رُوِيَتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا: آپ بضاعہ کے کنویں سے وضو کرتے ہیں اور اس میں ایسی چیزیں پھینکی جاتی ہیں جس سے لوگ بچتے ہیں یعنی کتوں کا گوشت اور حیض والے کپڑے وغیرہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پاک ہوتا ہے اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فَورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قَيْسٌ يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ، عَنْ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَا عَلَى غَدِيرٍ فِيهِ جِيفَةٌ فَتَوَضَّأَ بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَمْسَكَ بَعْضُ الْقَوْمِ حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ فَقَالَ: " تَوَضَّئُوا وَاشْرَبُوا فَإِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم کنویں پر آئے، اس میں مردار تھا، بعض لوگوں نے وضو کر لیا اور بعض لوگ رک گئے، وہ نبی ﷺ کے پاس آئے۔ نبی ﷺ لوگوں کے آخر میں آئے اور آپ نے فرمایا: ”وضو کرو اور پیو، پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، فَذَكَرَ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " قَالَ: فَاسْتَقَيْنَا وَسَقَيْنَا قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ الدُّولَانِيُّ: طَرِيفٌ هُوَ أَبُو سُفْيَانَ، قَالَ الشَّيْخُ: وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ إِلَّا أَنِّي أَخْرَجْتُهُ شَاهِدًا لِمَا تَقَدَّمَ وَقَدْ قِيلَ: عَنْ شَرِيكٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ جَابِرٍ وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنْ جَابِرٍ ⦗٣٩١⦘ أَوْ أَبِي سَعِيدٍ بِالشَّكِّ وَأَبُو سَعِيدٍ كَأَنَّهُ أَصَحُّ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قِصَّةٌ أُخْرَى فِي مَعْنَاهُ إِنْ كَانَ رَاوِيهَا حَفِظَهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما اسی حدیث کے ہم معنی نقل فرماتے ہیں اور نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“، راوی کہتا ہے: ہمیں پانی کی طلب ہوئی تو ہم نے پانی پیا۔ (ب) ابو جعفر دولابی کہتے ہیں: طریف ابوسفیان ہے۔ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ یہ روایت قوی نہیں، لیکن اس کا شاہد پہلے میں نے بیان کر دیا ہے۔ (د) ایک قول یہ ہے کہ اس سند کے ساتھ شریک نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے یا ابوسعید رضی اللہ عنہما سے، یعنی شک ہے اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما سے روایت کا منقول ہونا زیادہ صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَقَالُوا: تَرِدُهَا السِّبَاعُ وَالْكِلَابُ وَالْحُمُرُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا فِي بُطُونِهَا لَهَا وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَنَا طَهُورٌ " هَكَذَا رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِأَمْثَالِهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنَ عُمَرَ مَرْفُوعًا وَلَيْسَ بِمَشْهُورٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے حوض کے (پانی کے) متعلق سوال کیا گیا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا۔ انہوں نے کہا: اس پر درندے، کتے اور گدھے آئے ہوتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو ان کے پیٹوں میں ہے وہ ان کے لیے ہے اور جو باقی بچ گیا وہ ہمارے لیے پاک ہے۔“ (ب) عبدالرحمن بن زید ضعیف ہے، اس کی احادیث قابلِ حجت نہیں۔ (ج) ایک اور سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً نقل کیا گیا ہے اور یہ مشہور نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ الْقَطَّانُ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي نِسْوَةٍ فَقَالَ: لَوْ أَنِّي أَسْقِيكُمْ مِنْ بُضَاعَةَ لَكَرِهْتُمْ ذَلِكَ وَقَدْ وَاللهِ سَقَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي مِنْهَا " وَهَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مَوْصُولٌ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن یحییٰ اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، وہ عورتوں میں بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: اگر میں تم کو «بُضَاعَة» سے پلاؤں تو تم اس کو ناپسند سمجھو گے حالانکہ اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ ﷺ کو (اس کنویں سے) اپنے ہاتھ سے پانی پلایا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الِإسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرٌو، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَرَدَ حَوْضَ مِجَنَّةَ فَقِيلَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّمَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِيهِ آنِفًا فَقَالَ: " إِنَّمَا وَلَغَ الْكَلْبُ بِلِسَانِهِ " فَشَرِبَ وَتَوَضَّأَ وَرُوِيَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: قَدْ ذَهَبَتْ بِمَا وَلَغَتْ يَعْنِي الْكِلَابَ فِي ⦗٣٩٢⦘ بُطُونِهَا وَهَذِهِ قِصَّةٌ مَشْهُورَةٌ عَنْ عُمَرَ وَإِنْ كَانَتْ مُرْسَلَةً وَقَدْ رُوِّينَا فِي مَعْنَاهَا عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجنہ کے حوض کے پاس آئے، عرض کیا گیا: اے امیر المؤمنین! ابھی ابھی کتے نے اس میں منہ ڈالا ہے، تو انہوں نے کہا: کتا اپنی زبان سے پیتا ہے۔ پھر انہوں نے (پانی) پیا اور وضو کیا۔
(ب) سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ سے یہی قصہ منقول ہے، اس میں ہے کہ وہ چلا گیا جس میں اس نے منہ ڈالا، یعنی کتے وہ پانی اپنے پیٹوں میں لے گئے۔
(ب) سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ سے یہی قصہ منقول ہے، اس میں ہے کہ وہ چلا گیا جس میں اس نے منہ ڈالا، یعنی کتے وہ پانی اپنے پیٹوں میں لے گئے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنا أَبُو بَحْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مَنْبُوذٌ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: " كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ مَيْمُونَةَ فَتَمُرُّ بِالْغَدِيرِ فِيهِ الْبَعْرُ وَالْجُعْلَانُ فَتَشْرَبُ مِنْهُ أَوْ تَتَوَضَّأُ بِهِ وَقَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا لَيْسَ بِشَكٍّ إِنَّمَا أَرَادَتْ تَشْرَبُ إِنْ أَرَادَتْ أَوْ تَتَوَضَّأُ إِنْ أَرَادَتْ ".
حافظ ثناء اللہ
منبوذ اپنی والدہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر کر رہے تھے، وہ کنویں کے پاس سے گزریں، اس میں اونٹ کا گوبر اور کیڑے تھے تو انہوں نے اس سے پیا اور وضو کیا۔ سفیان کہتے ہیں: اس میں شک نہیں ہے انہوں نے پینے کا ارادہ کیا تو پیا اور جب وضو کا ارادہ کیا تو وضو کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: " إِنَّمَا الْمَاءُ طَهُورٌ كُلُّهُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " وَزَادَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدٍ: سَأَلْنَاهُ عَنِ الْحِيَاضِ تَلِغُ فِيهَا الْكِلَابُ، قَالَ: " أُنْزِلَ الْمَاءُ طَهُورًا لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) داؤد بن ابی ہند رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا کہ تمام پانی پاک ہے، اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ ہی سے منقول ہے کہ ہم نے ان سے ان حوضوں کے متعلق پوچھا جن میں کتے پانی پیتے ہیں۔ انہوں نے کہا: پانی پاک اتارا گیا ہے اور اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ ہی سے منقول ہے کہ ہم نے ان سے ان حوضوں کے متعلق پوچھا جن میں کتے پانی پیتے ہیں۔ انہوں نے کہا: پانی پاک اتارا گیا ہے اور اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَمْرٍو، ثنا الزُّهْرِيُّ، فِي الْغَدِيرِ تَقَعُ فِيهِ الدَّابَّةُ فَتَمُوتُ، قَالَ: " الْمَاءُ طَهُورٌ مَا لَمْ يَقِلَّ فَتُنَجِّسُهُ الْمَيْتَةُ طَعْمَهُ أَوْ رِيحَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ اس کنویں کے متعلق بیان کرتے ہیں جس میں چوپائے گر جانے کے بعد مر جاتے ہیں کہ پانی پاک ہے جب تک (اس کی بو یا ذائقہ) تبدیل نہ ہو، پھر مردار اس کے ذائقے اور بو کو ناپاک کر دیتا ہے۔