السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الماء الكثير لا ينجس بنجاسة تحدث فيه ما لم يتغير باب: زیادہ پانی کا اس میں نجاست گرنے سے ناپاک نہ ہونے کا بیان جب تک اس کی حالت تبدیل نہ ہو
حدیث نمبر: 1214
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ؟ قَالَ: وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا النَّتْنُ وَالْجِيَفُ وَالْحِيَضُ وَالْكِلَابُ فَقَالَ: " الْمَاءُ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کر لیں اور وہ ایسا کنواں ہے جس میں بدبودار، مردار اور حیض کے کپڑے اور (مردہ) کتے پھینکے جاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ» ”پانی پاک ہوتا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“