السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الماء الكثير لا ينجس بنجاسة تحدث فيه ما لم يتغير باب: زیادہ پانی کا اس میں نجاست گرنے سے ناپاک نہ ہونے کا بیان جب تک اس کی حالت تبدیل نہ ہو
حدیث نمبر: 1225
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَمْرٍو، ثنا الزُّهْرِيُّ، فِي الْغَدِيرِ تَقَعُ فِيهِ الدَّابَّةُ فَتَمُوتُ، قَالَ: " الْمَاءُ طَهُورٌ مَا لَمْ يَقِلَّ فَتُنَجِّسُهُ الْمَيْتَةُ طَعْمَهُ أَوْ رِيحَهُ ".حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ اس کنویں کے متعلق بیان کرتے ہیں جس میں چوپائے گر جانے کے بعد مر جاتے ہیں کہ پانی پاک ہے جب تک (اس کی بو یا ذائقہ) تبدیل نہ ہو، پھر مردار اس کے ذائقے اور بو کو ناپاک کر دیتا ہے۔