السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الماء الكثير لا ينجس بنجاسة تحدث فيه ما لم يتغير باب: زیادہ پانی کا اس میں نجاست گرنے سے ناپاک نہ ہونے کا بیان جب تک اس کی حالت تبدیل نہ ہو
حدیث نمبر: 1218
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فَورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قَيْسٌ يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ، عَنْ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَا عَلَى غَدِيرٍ فِيهِ جِيفَةٌ فَتَوَضَّأَ بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَمْسَكَ بَعْضُ الْقَوْمِ حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ فَقَالَ: " تَوَضَّئُوا وَاشْرَبُوا فَإِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم کنویں پر آئے، اس میں مردار تھا، بعض لوگوں نے وضو کر لیا اور بعض لوگ رک گئے، وہ نبی ﷺ کے پاس آئے۔ نبی ﷺ لوگوں کے آخر میں آئے اور آپ نے فرمایا: ”وضو کرو اور پیو، پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“