السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الماء الكثير لا ينجس بنجاسة تحدث فيه ما لم يتغير باب: زیادہ پانی کا اس میں نجاست گرنے سے ناپاک نہ ہونے کا بیان جب تک اس کی حالت تبدیل نہ ہو
حدیث نمبر: 1220
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَقَالُوا: تَرِدُهَا السِّبَاعُ وَالْكِلَابُ وَالْحُمُرُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا فِي بُطُونِهَا لَهَا وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَنَا طَهُورٌ " هَكَذَا رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِأَمْثَالِهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنَ عُمَرَ مَرْفُوعًا وَلَيْسَ بِمَشْهُورٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے حوض کے (پانی کے) متعلق سوال کیا گیا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا۔ انہوں نے کہا: اس پر درندے، کتے اور گدھے آئے ہوتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو ان کے پیٹوں میں ہے وہ ان کے لیے ہے اور جو باقی بچ گیا وہ ہمارے لیے پاک ہے۔“ (ب) عبدالرحمن بن زید ضعیف ہے، اس کی احادیث قابلِ حجت نہیں۔ (ج) ایک اور سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً نقل کیا گیا ہے اور یہ مشہور نہیں ہے۔