السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الماء الكثير لا ينجس بنجاسة تحدث فيه ما لم يتغير باب: زیادہ پانی کا اس میں نجاست گرنے سے ناپاک نہ ہونے کا بیان جب تک اس کی حالت تبدیل نہ ہو
حدیث نمبر: 1221
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ الْقَطَّانُ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي نِسْوَةٍ فَقَالَ: لَوْ أَنِّي أَسْقِيكُمْ مِنْ بُضَاعَةَ لَكَرِهْتُمْ ذَلِكَ وَقَدْ وَاللهِ سَقَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي مِنْهَا " وَهَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مَوْصُولٌ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی یحییٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں چند عورتوں کے ساتھ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے کہا: اگر میں تم کو «بُضَاعَة» سے پلاؤں تو تم اس کو ناپسند سمجھو گے حالانکہ اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ ﷺ کو (اس کنویں سے) اپنے ہاتھ سے پانی پلایا ہے۔
یہ سند حسن اور متصل ہے۔